ضرورت برائے لالو پرشاد

نئی حکومت نے سرکاری اداروں کی مخصوص اسامیوںپر بھرتی کے لئے انتہائی شفاف نظام متعارف کرایا ہے اور یہ اہم اور نازک فریضہ عالمی سطح کے ماہرین کی نگرانی میں ادا کیا جائے گا۔
پانچ سال کی جانچ پڑتال اور غورو خوض کے بعد وزارت خارجہ میں طارق فاطمی کی تقرری سے عیاں ہو گیا کہ یہ عمل کس قدر شفاف ہے، ان صاحب نے امریکی سفیر کا تو ناک میں دم کر دیا اور کچھ لوگوںنے بھی اس ادا کو پسند کیا۔ فاطمی صاحب کو فری ہینڈ ملنا چاہئے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا سکیں۔
ایک اچھی خاصی شفاف پالیسی کو بلا وجہ تنقید کا نشانہ بنا لیا گیا ہے۔کوئی پوچھ رہا ہے کہ ایک منصب کے لئے عمر کی حد 45 برس ہے تو دوسرے منصب کے لئے 62 برس کیوں۔ کسی نے مصرع اٹھایا ہے کہ ہر منصب کے لئے بندے نظر میں ہیں اور ان کے پیش نظر ہی عمر کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ تجربے اور صلاحیت کی حد بھی متعین کرنے کی وجہ بھی یہی ہے۔ کسی نے تجویز پیش کی ہے کہ ریلوے کو درست کرنا ہے تو لالو پرشاد ماڈل اپنانا ہو گا ، مگر میں سوچ رہا ہوں کی اگر ریلوے بورڈ کے چیئر مین کے لئے لالو پرشاد نے درخواست گزار دی تو ان کو کیسے مسترد کیا جا سکے گا، اسی طرح پی ٹی اے اور تھری جی لائسنس وغیرہ کے نگران کے منصب پر بل گیٹس کی عرضی آ گئی تو ان کے مقابلے میں باقی امیدوار کیسے ٹھہر سکیں گے، ابھی تو سنگا پور میںلی کوان یو اور ملائیشیا میںمہاتیر محمد بھی فارغ بیٹھے ہیں۔ وہ بھی اپنے نان نفقے کے لئے کسی منصب کی چاہت کر سکتے ہیں اور جیسا کہ حکومت کے اشتھاروں میں شائیننگ پاکستان کا نعرہ درج ہے تو بھارت کو شائےننگ ملک بنانے والے من موہن سنگھ یا چدم برم بھی کچھ ہی مہینوں میں فارغ ہونے کے بعد کیا کریں گے ، کوئی نہ کوئی نوکری تو وہ بھی تلاش کریں گے، اس طرح دنیا کا جوہر قابل ہماری حکومت کی دسترس میں آ سکتا ہے اور ان کے انتخاب پر کوئی انگلی بھی نہیں اٹھا سکے گا۔
چلئے یہ مسئلہ تو حل ہوا، رائٹ مین فار دی رائٹ جاب کا مرحلہ طے ہو گیا مگر ملک میں ایک آزادمیڈیا بھی ہے، اس نے اگرچیخ وپکار شروع کر دی کہ کیا پاکستان کی اٹھارہ بیس کروڑ آبادی میں کوئی جوہر قابل نہیں ۔یہ سوال تو اب بھی ذہنوں میں آرہا ہے کہ زبر دست ووٹ لینے والے وزیر اعظم کو قومی اسمبلی یا سینیٹ میں سے نہ وزیرخارجہ مل سکا ، نہ وزیر دفاع۔اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اگر مصاحبین کی بیگمات کو پارلیمنٹ کی ٹکٹیں مل سکتی ہیں تو کیا اعلی نوکریوں کے لئے ارکان پارلیمنٹ کے جاننے والے کوئی نہیں ۔ پچھلے وزیر اعظموں نے تو اپنے رشتے داروں تک کو اعلی مناصب پر بٹھایا، راجہ پرویز اشرف کے رشتے دار استعفی دے کر عدالت سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں،گیلانی صاحب کی بیٹی نے دو عہدوں سے گزشتہ روز ہی استعفی دیاہے تو موجودہ حکمرانوں کے بیوی بچوں کی اہلیت کیسے مشکوک ہو گئی، اصل اہلیت تو رشتے دار اور بیوی بچے ہونا ہے ، پھر بیرونی فرموں کو بھاری فیسیں دے کر سیلیکشن کے چکر میں نا حق کیوں پڑتے ہیں۔اس پر بھی بعض دل جلے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیرونی فرمیں بھی ا ن میں سے کسی کی ملکیتی ہوں گی۔میں نے بھی محمد سرور کی ممکنہ تقرری پر ناحق تبصرہ کیا ورنہ وہ اب تک لندن میں ہائی کمشنر کے منصب پر فائز ہو چکے ہوتے ۔ مگر میر اخیال ہے کہ میری کون سنتا ہے ،اصل رکاوٹ تو ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ملکہ معظمہ کا حلف اٹھانے والا پاکستان کی وفاداری کا دم کیسے بھر سکتا ہے۔ ایک دوست کہہ رہے تھے کہ اگر محمد سرور ہائی کمشنر بن بھی جائیں لیکن جیسے ہی کسی پاکستانی نژاد نوجوان لڑکی نے اپنی مرضی کی شادی کی کوشش کی اور والدین اس کو زبردستی پی آئی اے کے جہاز میں بٹھا کر پاکستان لے آئے تو محمد سرور اپنے حلف کی وجہ سے برطانوی قانون پر عمل درا ٓمد کے پابند ہوں گے اور اس لڑکی کو یہاں آ کر واپس لے جائیں گے جیساکہ وہ ماضی میں ایسا کر چکے ہیں۔ ایک بات جو میں پہلے لکھنا بھول گیا اور میں نے گلاسکو کے شہری اور بیرون ملک کسی منتخب ادارے میںپہلی بار پہنچنے والے پاکستانی بشیر مان سے پوچھا تھا کہ آپ زبانی کلامی تو پاکستان کا دم بھرتے ہیں لیکن کل کو پاکستان اور نیٹو کی لڑائی چھڑ جائے اور آپ کے ملک میں لام بندی ہو جائے تو کیا آپ طورخم کی سرحد پر برطا نوی فوج کے مورچے نہیں سنبھالیں گے تو ان کا جواب تھا ، کیوں نہیں سنبھالیں گے، اب بھی ہمارے بچے جو برطانوی فوج میںہیں ، اپنا فریضہ ادا کر رہے ہیں، میں نے مزید پوچھا کہ آپ کی پاکستانیت کیسے قائم رہ گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر مجھے چپ کر ا دیا کہ اسلام بھی غلام اور اقلیتی مسلمانوں کو فوجی ملازمت اور فرائض کی ادائیگی سے نہیں روکتا۔اس پر کوئی ابن خلدون جیسا ماہر مﺅرخ ہی رائے دے سکتا ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ بحث چھڑے تاکہ حقیقت حال واضح ہو اور وفا داری کے پیمانے کا تعین کیا جا سکے۔ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ہم مبینہ طور پر بے وفا اوور سیز پاکستانیوں کی بارہ پندرہ بلین کی ترسیلات ہڑپ کر رہے ہیں لیکن ان لوگوں کو نہ ووٹ کا حق دے رہے ہیں اور ہمارا آئین ان کو پارلیمنٹ میں جانے سے بھی روکتا ہے۔
مگر اس وقت جو حکومت ہے، وہ منتخب حیثیت رکھتی ہے، اس کے پاس ایک مینڈیٹ ہے اور وہ ملک کو چلانے کا اختیار رکھتی ہے، کسی کواس کے اختیار پر اعتراض کا اختیار نہیں۔پیپلز پارٹی نے پانچ سال پورے کئے تو نئی حکومت کو پانچ دنوں بعد ہی زچ کیوں کیا جارہا ہے۔ہاں اصلاح احوال کے لئے تجاویز دی جا سکتی ہیں اور امید یہ ہے کہ حکومت مناسب تجاویز کو قبول کرے گی اور ان کی روشنی میں اپنا قبلہ درست رکھے گی۔مثبت تنقید کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ اور دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اصل اپوزیشن لیڈر عمران خان بستر علالت سے اٹھ کر اسلام آباد پہنچ چکا ہے تو اس کا رویہ کیا ہوگا، جو لوگ اس سے زمان پارک میں ملتے رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ عمران بھرا ہوا ہے، تپا ہوا ہے ، وہ بولے گا تو شعلوں کی زبان میں۔ چلئے یہ بھی دیکھتے ہیں۔میاں نواز شریف ماضی میں محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی قد آور اور گھاگ اپوزیشن لیڈر کا دو مرتبہ سامنا کر چکے ہیں، وہ عمران خان کو بھی بھگت لیں گے۔مگر دعا یہ ہے کہ کوئی محاذا ٓرائی شروع نہ ہو جائے۔ورنہ ایک نہیں ، کئی لالو پرشاد آجائیں گے۔