باپ کا دن (فادر ڈے)

امریکہ میں ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو ”فادر ڈے“ (باپ کا دن) منایا جاتا ہے۔ ماں کا دن منایا جانے لگا تو اہل مغرب کو احساس ہوا کہ باپ کا دن بھی منانا چاہئے۔مادر پدر آزاد معاشروں میں چونکہ اکثر باپ نا معلوم ہوتے ہیں یا اولاد کے حقوق کی ادائیگی میں غیرذمہ دارہوتے ہیں لہٰذا ماں کو باپ پر فوقیت دی جاتی ہے ۔گو کہ باپ کا دن، ماں کے دن کی طرح پر جوش طریقے سے نہیں منایا جاتا مگر مسلمانوں کا ہر لمحہ ماں باپ کے لئے وقف کیاگیاہے حتیٰ کہ عمر بھر کی عبادت و ریاضت اور نیکیاں والدین کی رضا سے منسوب ہیں۔ یہ وہ رشتے ہیں جو آخرت میں بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ انسان روز قیامت انہی رشتوں سے پکارا جاتا ہے، اسی لئے فرما دیا گیاکہ ماں باپ کے چہرے کعبہ کی زیارت ہے۔ باپ بیٹے کے درمیان اکثر ایک حجاب حائل رہتا ہے اور جب باپ اس دنیا سے چلا جاتاہے تو بیٹا اپنی تنہائیوں میں روتا ہے کہ کاش اس نے باپ سے اظہار محبت کیا ہوتا۔ ایک شخص نے کہا کہ ”میں نے اپنے باپ کی وفات کے بعد ان کی تما م آرزوﺅں کو پورا کرنے کی کوشش کی مگر ایک حسرت میرے دل کو اکثر پریشان کرتی ہے کہ کاش! میں دو گھڑی اپنے باپ کے پاس بیٹھا ہوتا اور ان سے پوچھتا کہ زندگی کے تپتے صحرا میں انہوں نے کس طرح زندگی گذاری۔ باپ کی زندگی میں پیش آنے والے نشیب و فراز، مشکلات اور مسائل ان کے روبرو بیٹھ کر سنتا، محسوس کرتا، ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھتا اور ان کی پلکوں میں چھپے نمکین پانی کو بہنے دیتا۔کاش! میں نے اپنے باپ کو ایک بار سینے سے لگایا ہوتا اور وہ میری باہوں میں پگھل جاتے۔ انہیں اپنی زندگی بنانے اور ہماری زندگیاں سنوارنے میں کتنے کٹھن ادوار سے گزرنا پڑا، کتنے امتحانات اور آزمائشوں کے پل عبور کرنے پڑے،کتنی راتیں جاگ کرگذارنا پڑیں اور کتنے مسائل در پیش رہے، کب بیمار ہوئے اور کہاں خود کو تنہا محسوس کرتے رہے۔کاش! میں نے اپنے باپ کا دکھ سنا ہوتا۔ اس گھنے درخت کا میں بھی سایہ بنا ہوتا۔ ان کے اتنے قریب ہو جاتا کہ ان کے اندر کی ہچکیاں سن سکتا۔ اپنے باپ کو کاش اپنی زندگی کے دس منٹ ہی دئے ہوتے اور پھر وہ شخص بولا ”ہائے او سدراں جیڑیاں دل وچ ای رہ گیاں“۔ ”سدراں“ پنجابی زبان کا وہ لفظ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ ایک لفظ نہایت حساس، منفرد، لطیف، اداس اوربےقرارکیفیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ ایک لفظ نہیں بلکہ شعلہ ہے جو انسان کے وجود کو دہکاتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے باپ سے اظہار محبت کا ایک دائمی طریقہ بتا دیا ہے اور وہ ہے اپنے باپ کے ترکے سے اس کے لئے صدقہ جاریہ کا مستقل بندوبست کرنا۔
ضروری تو نہیں کہہ دوں لبوں سے داستاں اپنی 
 زباں اک اور بھی ہوتی ہے اظہار تمنا کی
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ باپ کی دعا رد نہیں ہوتی۔ آپ نے فرمایا، والدین کے لئے دعا و استغفار کرو اور جو وصیت وہ کر گئے ہیں، اسے پورا کرو اور ماں باپ کے احباب کی عزت اور خاطر داری کرو“۔ (ابو داﺅد) ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ صدقہ جاریہ کر جائے، یا ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، تیسرے نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے“۔ تیسرا عمل جس کا ثواب ملتا رہے گا وہ اس کا نیک لڑکا ہے جس کو اس نے شروع ہی سے عمدہ تربیت دی ہے اور اس کی کوشش کے نتیجہ میں وہ متقی و پرہیز گار بنا تو جب تک یہ لڑکا دنیا میں زندہ رہے گا، اس کی نیکیوں کا ثواب اس کے باپ کو ملتا رہے گا اور اپنے باپ کے حق میں دعائیں کرے گا۔ لڑکے کو صدقہ جاریہ کی خاص تاکید فرمائی گئی کہ لڑکی شوہر کے حقوق کی پابند ہوتی ہے جبکہ لڑکا وراثت میں زیادہ کا حقدار ہے۔ ایک شخص شدید بیمار تھا، دوستوں نے بیماری کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ ”میری بیماری کی وجہ میرا باپ ہے۔ میری ماں کی وفات کے بعد میرا باپ بہت تنہا ہو گیا تھا۔ میں کاروبار زندگی میں اس قدر الجھا رہاکہ باپ کی تنہائی کو محسوس نہ کر سکا۔ خدا نے مجھے بستر پر ڈال دیا اوراب سارا دن اپنے باپ کے ساتھ گزرتا ہے۔ میرا باپ میرے سرہانے بیٹھا رہتا ہے، مجھے اپنے دل کی باتیں سناتا ہے۔ میری دل جوئی کرتا ہے۔ میںسوچتا ہوں کہ اگر میرا باپ زندہ نہ ہوتا تو میں بھی تنہا ہو جاتا کہ بیوی بچوں کے ساتھ مصروف رہتی ہے اور بچے اپنے کھیل کود میں مگن ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ”اس کی ناک خاک آلود ہوئی (ذلیل ہوا) یہ بات آپ نے تین دفعہ فرمائی۔ لوگوں نے پوچھا اے رسول اللہﷺ ! کون ذلیل ہوا؟ آپ نے فرمایا ”وہ شخص جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور ان دونوں میں سے ایک یا دونوں کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوا“۔(مسلم) اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کی ہے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی“۔ اولاد کے حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگرباپ پر بھی اولاد کے کچھ حقوق ہیں۔ سعید ابن وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ”باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سے سب سے بہتر عطیہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت ہے“۔ بے نصیب ہیں وہ باپ جو نافرمان اولاد کے لئے ترکہ چھوڑ جائیں۔
 باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو  
پھر پسرِ قابل میراث پدر کیوں کر ہو
نافرمان اولاد خواہ پیغمبروں کی ہو، آزمائش ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کے نافرمان بیٹے کو غرق کر دیا اور اس کی معافی کے لئے اپنے مقرب پیغمبرکی گذارش کوبھی مسترد کر دیا۔ بیٹا اپنے باپ کا مان ہوتا ہے، اس کی پہچان ہوتا ہے، اس کی دنیا وآخرت کی شان ہو تاہے مگر نافرمان ہو جائے توباپ کو عمر سے پہلے بوڑھا کر دیتا ہے۔
جانتا ہوں اک شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن رویا نہیں