۔۔۔گندا کرو گے مزیدگندے ہو گے۔۔۔

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
۔۔۔گندا کرو گے مزیدگندے ہو گے۔۔۔

پورے اخلاص اور ذمہ داری سے مشورہ دے رہے ہیں کہ جے آئی ٹی کو جتنا گندا کرو گے اتنے گندے ہو گے۔ مسلم لیگ ن کے ووٹر بھی اس نقطہ پر تقسیم ہو چکے ہیں۔ قدم بڑھاﺅ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں، کا سادہ زمانہ جا چکا۔ خاتون اوّل بیگم کلثوم نواز دور مظلومی میں بھی دیکھ چکی ہیں کہ جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے تھے۔ خاتون اوّل نے چودھری نثار کے بارے میں بھی ان دنوں کہا تھا کہ چودھری نثار قابل اعتبار نہیں۔ چودھری نثار آج بھی خاموش ہیں۔ یقیناً وزیراعظم کی جے آئی ٹی سے متھا لگانے والی منطق ان کی سمجھ سے بھی بالاہے اور وزیراعلیٰ پنجاب بھائی ہونے کے ناطے وزیراعظم کو سمجھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ موقع حساس ہے خوشامدی ٹولہ ماضی کی طرح پھر" میاں صاحب کوئی گل نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا " میاں صاحب کو تیسری مرتبہ پھنسا رہا ہے۔ سازش کی بو آجاتی ہے۔ ڈی چوک دھرنا کی سازش واضح تھی لیکن پاناما کیس بین الاقومی لیکس سازش بن گئی اگر یہ سازش ہے تو کئی ممالک کے صدور اور رہنما اس سازش میں گرفتار پائے گئے۔ مستعفی ہوئے۔ گرفت یا مکافات عمل پاناما کیس شریف خاندان پر سیاسی قیامت ثابت ہوا ہے۔ جے آئی ٹی کو یکسر مسترد کر نا شتر مُرغ کا ریت میں منہ چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔ قدرت کی سازش کا الزام فوج پر لگانا وزیراعظم کو مزید مہنگا پڑ سکتا ہے۔ آرمی چیف بھی سازش کے الزام سے برہم دکھائی دے رہے ہیں۔ ”کرپشن کسی صورت برداشت نہیں“ نازک صورتحال میں آرمی چیف کے بیان نے واضح پیغام دیا ہے۔ آرمی چیف کے بیان کو کوزے میں دریا سمجھا جائے۔ سازش کا اشاروں میں نہیں،کھل کر نام لیا جائے تاکہ پاک فوج میں غلط فہمیاں جنم نہ لیں۔ میاں نواز شریف کے چند صحافی دوست بھی حکومت کی زبان بول رہے ہیں کہ وزیراعظم کو سی پیک منصوبہ کی سزا دی جا رہی ہے لیکن یہ وضاحت کوئی نہیں کر پا رہا کہ سی پیک منصوبے کا دشمن کون ہے؟ چین نے سی پیک منصوبہ پاک فوج کی ضمانت میں شروع کیا۔ ملک میں جاری موجودہ سیاسی بحران کے دوران سی پیک منصوبے سے متعلق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کہنا ہے کہ ہم ہمیشہ قانون اور انصاف کیساتھ کھڑے ہیں۔ پاک فوج اس حوالے سے اپنا عزم کئی بار دہرا چکی ہے اور کبھی کرپشن برداشت نہیں کی۔ پاک فوج ہر حال میں جمہوریت کیساتھ کھڑی ہے۔ آرمی چیف نے مزید کہا ہے کہ ملک میں جاری موجودہ سیاسی بحران کے حوالے سے پاک فوج پر کی جانے والی تنقید سراسر ناجائز ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے فوائد عوام کو ملنے چاہئیں‘ منصوبے کی کامیابی کیلئے تمام ادارے تعاون کریں‘ ہماری صلاحیتوں پر کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے، کوئی بھی رکاوٹ آئے انشاءاللہ سی پیک کو کامیاب بنائیں گے‘پاکستان آج پہلے سے زیادہ محفوظ ہے‘ فاٹا اور اس کے ملحقہ علاقوں‘ کراچی اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہو چکی ہے‘ ہم اپنی قوم کی مکمل حمایت سے پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے آزاد ملک بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ جنرل قمر باجوہ کے حالیہ بیانات کے بعد وزیراعظم صاحب سازش کے پروپیگنڈہ سے گریز کریں۔ حکومت کا طرز سیاست عوام کو فوج کے خلاف بدظن کرنے کی کوشش ہے۔ ایک خاندان کو بچانے کے لئے پارٹی اور ملک کو انتشار سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ شب خون مارنے کا زمانہ جا چکا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے پس پشت سازش ہے تو اسے سپریم کورٹ میں بے نقاب کیا جائے۔ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان اکھڑے اکھڑے دکھائی دے رہے ہیں تو اس کا سبب بھی وزیراعظم کی ناشکرگزاری ہے۔ وزیر داخلہ نے ڈان لیکس سازش کو رفع دفع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈان لیکس فوج کے خلاف سازش تھی۔ فوج کو بدنام کیا گیا۔ ڈان لیکس معاملے کو احسن طریقے سے نمٹانے اور عسکری قیادت اور سیاسی قیادت کے درمیان خلاءکو دور کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثارنے اہم ذمہ داری ادا کی۔ پاناما کیس کھلا تو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی لیکن بد قسمتی سے اندر سے اتنا کچھ نکل آیا کہ دس جلدوں میں رقم کیا گیا۔ مریم نواز نے پیشی کے بعد معصوم بات کہی کہ ان پر الزام کیا ہے اوراس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ جے آئی ٹی تفتیشی ریکارڈ کے باکس کی تصویر اپنے ٹویٹر پر لگا کر لکھتی ہیں کہ "جو کہتے تھے کہ ہم نے ثبوت پیش نہیں کئے، ثبوتوں کی ٹرالی دیکھ لیں۔۔۔۔۔ اگر الزام نہیں تو ثبوت کیسے ؟ حکومت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ وزیروں مشیروں سب کو اپنے عہدے اور موجیں عزیز ہیں۔ مفاد پرستی میں وزیراعظم کو شاباشیاں اور جھوٹی تسلیاں دی جا رہی ہیں۔ وکلا کی ٹیم بھی مال بنانے کے چکر میں میاں صاحب کو عدالتی محاذ آرائی میں پھنسا رہی ہے۔ عدالت میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے لیکن جے آئی ٹی رپورٹ کو ردی قرار دینے کا مطلب عدلیہ سے کھلی جنگ ہے۔ اس جنگ میں حکومت جانے کا بھی اندیشہ ہے۔ جمہوری رویہ حکومت کی مدت پوری کرنے کا متقاضی ہے۔ قبل از وقت الیکشن "میں نہ مانوں "کا نتیجہ ہو گا۔