ذہنی مریض مذہب کے ٹھیکیدار۔۔۔

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
ذہنی مریض مذہب کے ٹھیکیدار۔۔۔

ابھی چند روز پہلے ہی تو علی خان یونیورسٹی کی شان میں کالم لکھا تھا۔مومنہ فاﺅنڈیشن کی ٹیم کے ہمراہ وظائف کے لئیے وزٹ کا موقع ملا تھا۔ اور آج اس عالی شان یونیورسٹی میں ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا کہ انسانیت شرما جائے ، روح تڑپ اٹھے۔ اللہ اس قوم کو ہدایت دے۔ ان نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں کے چہرے بربریت نے سیاہ کر دئیے ہیں لیکن ان جلا دوں کو کیفر کردار تک پہنچانے والا کوئی قانون بن سکا نہ ہاتھ۔۔۔۔ مردان ولی خان یونیورسٹی میں 

پیش آنے والے اندوھناک واقعہ کی صحیح صورتحال توابھی تک سامنے نہیں آئی
لیکن کہتے ہیں کہ مشال خان نامی مقتول نے فیس بک پر اسلام مخالف کچھ پوسٹیں کی تھی۔
روسی نظام اشتراک کا پرچارک تھا۔
الحادی نظریات کا حامل تھا۔
اسکے ہم مکتب سو سے زائد طلباءنے پہلے اس پر تشدد کیا اور پھر اسے گولیاں مار کر ابدی نیند سلادیا۔
اگروہ مجرم نہیں تو قاتل سخت عذاب کے مستحق ٹھہرتے ہیں
اور اگرمجرم تھا تو بھی عوام کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
یہ کا م حکومت اور عدلیہ کا ہے۔کوئی للو پنجو اپنی ذاتی عناد کی وجہ سے توہین رسالت کا الزام لگا کر کسی کو بھی مار دیتا ہے اور پھر خود کو آقا دو جہاں کا امتی بھی گردانتا ہے؟
آقا نے تو اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کیا جنہوں نے حد سے بڑھ کر آقا دو جہاں کو اذیتیں پہنچائیں۔ ان کا مذاق اڑایا۔ ان کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔
لیکن رحمت اللعالمین کو جب ان سب کو سبق سکھانے کی قدرت اللہ پاک نے عطا فرمائی تو انسانیت، محبت اور رحمت کے پیکر آقا دو جہاں نے سب کو معاف کر دیا اور دل میں یہ خیال بھی نہ لائے کہ انہوں نے کیا نہیں کیا تھا ان کے ساتھ۔
ہم بطور پاکستانی جاہلیت کے اعلی درجوں کی طرف بڑھ رہے ہیں دن بدن۔الا ما شا اللہ
ہمارے علماءنالائق، ہمارے پروفیسز نالائق، ہمارے حکمران نالائق، ہمارا قانون و انصاف کا نظام معذور۔
ہم سب نے ملکر امن کے مذہب کو بربریت کا مذہب ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔مشال ضلع صوابی کے گا¶ں زیدہ کا رہائشی تھا اور اسکا والد ضلع کا مشہور شاعر ہے جسکا نام اقبال لالا ہے اچھی فیملی سے ہے لیکن معلوم نہیں کہ اس واقعے کاپس منظر کیا ہے۔ یہ خود ساختہ عاشق رسول اپنے اعمال نیتوں اور گریبانوں میں بھی جھانک لیا کریں۔کسی ملزم کو بغیر عدالتی کارروائی کے قتل کرنا فساد کے زمرے میں آتا ہے،۔ ایک رپورٹ کے مطابق
مردان افسوسناک واقعے میں لیڈ کرنے کا سہرا سیکولر لبرل سرخ پوش اے این پی کو جاتا ہے۔ خان عبدالولی خان یونیورسٹی اے این پی کے دور میں قائم ہوئی اور وائس چانسلر سے لے کر مالی اور چپڑاسی تک سارے اے این پی کے سرخے بھرتی ہوئے، اس ساری انتظامیہ کے ہوتے ہوئے یہ افسوسناک واقعہ ہونا، اور اس میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ملوث ہونا کم از کم اس بات کا ثبوت ہے کہ اس واقعے کا پس منظر کچھ اور ہے
قانون کی عملداری یقینی بنائی جائے تو ایسے واقعات سے بچا بھی جا سکتا ہے اور فسادات کو روکا بھی جا سکتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے اندر فسادادات کونہیں روک سکتے تو پھر یونیورسٹیاں بند کرنے کی بات بھی اتنی ہی شدت سے کریں جتنی شدت سے مدارس بند کرنے کی بات کرتے ہیں۔
کسی کی فیس بک کی جعلی آئی ڈی بنائی اور وہاں گستاخانہ مواد پوسٹ کرکے ہجوم کو اشتعال دلایا جائے یہ سب خوفناک دہشت گردی ہے. ملک میں ملائیت کا زور اور طاقت حکمرانوں کے کنٹرول سے بھی باہر ہوتی جا رہی ہے ۔
مشال خان مردان یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ کا بے رحمی سے قتل شر پسند افراد کی اسلام کو بدنام کرنے کی مکروہ سازش ہے۔ ایسی گھناﺅنی سازشوں کے پس پشت پیڈ مافیا ز کا ہاتھ ہے۔
علامہ اقبال اگر آج کے دور میں شکوہ اور حواب شکوہ لکھتے تو ان کا انجام کیا ہوتا؟
سر جھکا¶ منہ چھپا¶ بے حسی کا غم کرو
جاو زندہ ہو تو اپنی روح کا ماتم کرو