پارلیمنٹ اور حکومت کا یکساں موقف

پارلیمنٹ اور حکومت کا یکساں موقف

وزیر اعظم نے اپنے پالیسی بیان میں اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ پارلیمنٹ کی قرارداد حکومتی پالیسی کے عین مطابق ہے۔ انہوںنے یہی کہنا تھا کیونکہ وہ ایوان میں کہہ چکے تھے کہ پارلیمنٹ جو فیصلہ کرے گی، حکومت اس پر من و عن عمل کرے گی۔
پارلیمنٹ کی قرارداد عربی زبان میں تحریر کی جاتی تو پھر بھی مبہم ہی نظر آتی۔
اورجو لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان احسان فراموش ہے، وہ بتائیں کہ ساٹھ ہزار جانوں کی قربانی دینے والے بھی احسان فراموش ہیں تو عرب نقشے پر محدب عدسے کی مدد سے ایسا ملک تلاش کر کے دکھائیں جس نے پاکستان کے لئے ایک جان کی قربانی بھی دی ہو، پاکستان  نے ساٹھ ہزار جانوں کا نذرانہ عربوں کی خاطر پیش کیا ہے کیونکہ دہشت گردی کی جس جنگ کا آغاز نائن الیون کے بعد ہوا، اس میں تمام عرب شہری ملوث تھے۔پاکستان کا اس میںکوئی قصور نہیں تھا۔ ساٹھ ہزار جانوں کے نقصان سے عرب دنیا تو چین کی نیند سونے کے قابل ہو گئی مگر پاکستانی عوام مسلسل جان کنی کے عالم میں ہیں۔اور سرنگ کے دوسرے کنارے پر ابھی کوئی روشنی کی کرن تک نظر نہیں آتی، پاک فوج مسلسل جانوں کی قربانی دے رہی ہے اور دہشت گرد پورے ملک میںپھیلے ہوئے ہیں اور وہ پاکستان ہی کو اڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، کبھی کہیں دھماکہ۔ کبھی کہیں پٹاخہ، چین ہم سے ناراض اور بھارت تو جان کو آ رہا ہے۔
عربوں کو پارلیمنٹ کی قرارداد پر مایوسی کیوں ہوئی، اس کی وجہ انہیں سمجھ میں آ چکی ہے اور شاید وہ آئندہ ایسی غلطی کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ان کا خیال ہے کہ انہوںنے پاکستان پر احسانات کئے ہیں، مگر پاکستانی عوام سمجھتے ہیں کہ عربوں کے تعلقات پاکستان کے حکمرانوں سے رہے ہیں، امارات والوں کا دست شفقت کسی ایک سیاسی خاندان کے سر پر ہے ، اور سعودی عرب نے شریف خاندان کے ساتھ شفقت اور احسان کا سلوک روا رکھا، عربوں کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے پاکستان کے ان حکمران خاندانوں کواپنی طرح کے شاہی خاندان سمجھ لیا، اس میں ان کی غلطی بھی نہ تھی، ہمارے حکمرانوں نے شاہی رویہ اختیار کیا، اپنے ارد گرد ایک بھائی، ایک بیٹا یا بیٹی،ایک داماد یا سمدھی، اس سے عربوں کو یہی تاثر ملا کہ یہ پاکستان کے بلا شرکت غیرے مالک ہیں۔
 مگرعربوں کو سمجھ آ گئی ہے کہ پاکستان میں بادشاہت کا نظام نہیں ہے اور آئندہ کے لئے دانشمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ کسی فرد واحدسے حسن سلوک کے بجائے پاکستانی عوام کے ساتھ اجتماعی طور پر نیکی کیاکریں گے۔
مگر عرب خاطر جمع رکھیں، پاکستانی عوام آج بھی حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے خون کا آخری قطرہ بہا دیں گے، سعودی عرب اجازت دے، ہم مکہ اور مدینہ کے ارد گرد انسانی جانوں،میزائلوں ، ٹینکوں اور بمباروں کی فصیل کھڑی کر دیں گے۔ اس سے ہمیں تو انکار نہیں، سعودی عرب ہاںکرنے والا بنے۔
رہی یمن کی جنگ، تو سعودیہ نے اس جھگڑے میں چھلانگ لگانے سے پہلے کسی سے صلاح مشورہ نہیں کیا، ہم سے پوچھا ہوتا تو ہم بتاتے کہ پاکستان آج تک افغانستان میں مداخلت کے نتائج بھگت رہا ہے، حال ہی میں ترکی نے شام میںمداخلت کر کے مزہ چکھ لیا۔ اور امریکہ اور نیٹو ملکوںملکوں مداخلت کرتے پھر رہے ہیں، ان کی حالت یہ ہے کہ پھرتا ہے میر خوار کوئی پوچھتا نہیں۔
پاکستان کو ملنے والی حالیہ دھمکی کا میںتفصیلی ایکسرے کر چکا ہوں۔مگر ایک دھمکی اور بھی دی گئی۔ یہ دھمکی امریکہ نے نائن الیون کے بعد دی تھی کہ اگر اس کا ساتھ نہ دیا تو پاکستان کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ بھی دیا۔ پھر بھی اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیا گیا۔ اب اگر امارات اور دیگر عرب ممالک سنگین نتائج کی دھمکی پر عمل کر گزریں تو نجانے پاکستان کو کس دور میں دھکیل دیاجائے۔ کیا پتھر کے دور سے قبل بھی کوئی انسانی دور تھا، ممکن ہے حیوانی دور، ذرا آپ بھی اندازہ لگائیں۔ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں، اس سے بد تر بھی کوئی دور ہو سکتا ہے؟ عرب امارات کے وزیر موصوف نے اس کی کوئی وضاحت نہیں فرمائی۔
جو لوگ اصرار کر رہے ہیںکہ پاک فوج کو ضرور سعودیہ بھیجا جائے تو وہ یہ بھی بتائیں کہ سعودیہ جا کر پاک فوج نے کرنا کیا ہے، کچھ لوگوںکا کہنا ہے کہ پاک فوج نہ گئی تو وہ خود وہاں جہاد کے لئے چلے جائیں گے۔ ایسے لوگوں کو کس نے روکا ہے اور اب تک جو جہاد ہو رہا ہے کیا وہ کسی کی اجازت سے ہورہا ہے، مجاہدین نائیجیریا سے لے کر دنیا کے کونے کھدرے میں مصرف پیکار ہیں۔کوئی بوکو حرام ہے، کوئی داعش ہے، کوئی طالبان ہے۔ شیکسپیئر نے کہا تھا کہ پھول کو جونام دے لو۔ وہ ہے تو پھول ، اپنے حسن کی وجہ سے، اپنی دلکشی کی وجہ سے، اپنی خوشبو کی وجہ سے۔ کیا ضرورت تھی بوکو حرام یا داعش کا نام رکھنے کی، کارنامے تو ایک جیسے ہیں۔گردنیں اڑائیں، درختوں پر لاشیںلٹکائیں، چوکوں میں پھانسیاں دیں یا سروں کے ساتھ فٹ بال کھیلیں۔
پاک فوج کہاں کہاں بھیجی جائے گی، نائجیریا سے مراکش تک قتل وغارت کا جہنم سلگ رہا ہے۔
میں پھر پوچھتا ہوں کہ کیا ایران عراق جنگ میں پاکستان نے غیر جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا، کیا عراق کویت جنگ میں پاکستان غیر جانبدار نہیں رہا، کیا سیٹو اور سنٹو کے معاہدوںکے باوجود امریکہ نے پاکستان سے غیر جانبداری کا برتائو نہیں کیا۔کیا بنگلہ دیش میں پاکستان کے حامی عناصر کی پھانسیوں پر پاکستان غیر جانبدار نہیں ہے، کیا مصر کی خانہ جنگی میں پاکستان غیر جانبدار نہیں ہے تو کیا ضروری ہے کہ یمن کی خانہ جنگی میں پاکستان غیر جانبدار نہ رہے اور فریق بن جائے۔اور جب یہ علم ہو کہ ہمسایہ ملک ایران یمن کی خانہ جنگی میں کود چکا ہے، کم از کم عربوںکا الزام اور موقف یہی ہے تو کیا پاکستان یمن میں مداخلت کے مضمرات کا سامنا کر سکتا ہے۔ لیبیا کے کرنل قذافی نے بھی پاکستانیوں کو بے پناہ نوکریاں دی تھیں، کیا اسے  بچانے کے لئے پاکستان نے کوئی مداخلت کی۔ میں داد دیتا ہوں پاکستان کے عزم کی کہ اس نے لیبیا کی نئی حکومت کے دبائو میں آ کر قذافی سٹیڈیم کا نام نہیں تبدیل نہیں کیا، بس یہاں تک پاکستان، دوسروں کے احسانات کا بدلہ ا تار نے کا متحمل ہو سکتا ہے، ظاہر ہے لیبیا کی نئی حکومت اب پاکستانی لیبر کی بھرتی کے اشتہارات ہمارے اخباروں شائع نہیں کروائے گی، یہ ہے وہ نقصان جو پاکستان کی مبہم، نیمے دروں، نیمے بروں، مبہم پالیسی کی وجہ سے پہنچ سکتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ہم کسی کے ساتھ تو ہوں، سوال یہ ہے کہ ہمارے ساتھ کون ہے۔ آج تک تو کوئی نہیں تھا، کوئی نواز شریف کے ساتھ تھا، کوئی زرداری کے ساتھ تھا، یہ تو دو افراد ہیں، یہ بیس کروڑ عوام کا نام نہیں۔
کہتے ہیں پاکستان کو تیل ملا، مگر اس کا ثمر عوام کو تو نہیں ملا، حکمرانوں کو ملا ہو گا، وہی ان احسانات کا بدلہ اتاریں۔ مگرپورا عا لم اسلام مل کر بھی ایک بھٹو کی جان نہ بچا سکا۔آج مشرف کو بھی کوئی نہیں بچا پایا، کسی عدالت نے اس کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں، کہیں سے وہ اشتھاری قرار پایا ہے، کسی محکمے نے اسے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میںڈال رکھا ہے،کیا بھٹو اور مشرف کے احسانات عربوں پر کم ہیں، مشرف نے دہشت گردی کی جنگ لڑی، بے خوف ہو کر لڑی، یہ جنگ عربوں کی چھیڑی ہوئی تھی، گلے ہمارے پڑ گئی۔ مشرف اس جنگ میں نہ کودتا تو داعش کے لشکر نہ جانے کس کس عرب ملک پر اپنا  پھریرا لہرا چکے ہوتے، پھر بھی کہتے ہیں کہ پاکستان طوطاچشم ہے، غیر جابندار ہے، مبہم بات کرتا ہے، جن لوگوں کو ساٹھ ہزار جانوں کا نذرانہ نظر نہیں آتا، انہیں ہماری پارلیمنٹ کی قراداد مبہم ہی نظر آئے گی اور وہ ہمیں دھمکیاں ہی تو دیں گے، وہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔