ضیا شاہد کا حوصلہ اور ’’چار چاند‘‘

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
 ضیا شاہد کا حوصلہ اور ’’چار چاند‘‘

ممتاز سینئر صحافی ضیا شاہد بہت اداس دوستوں کے درمیان ایک ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی طرح بیٹھے تھے۔ اُن کے ساتھ مجیب الرحمن شامی اور بائیں طرف شعیب بن عزیز بیٹھے تھے۔ اُن کا جواں سال ڈاکٹر داماد اچانک فوت ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے اُن کا بہت اچھے دل والا بیٹا عدنان شاہد لندن میں وہاں چلا گیا ہے جہاں سے کوئی لوٹ کے نہ آیا۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں میرا سٹوڈنٹ تھا اور مجھے دو برسوں میں پتہ ہی نہ چلا کہ وہ ضیا شاہد کا بیٹا ہے۔ وہ بہت سادہ مزاج تھا۔ بہت تعاون کرنے والا اور محنتی نوجوان تھا اس کی وفات نے ضیا شاہد کو بالکل نڈھال کر دیا تھا۔ وہ خود بھی بہت شدید بیمار رہے اور موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد اللہ نے انہیں نئی زندگی عطا کی۔ یہ اُن کی ہمت تھی کہ انہوں کے موت کو شکست دی۔
اب اُن کے داماد کا فوت ہونا ایسا سانحہ ہے جس نے اُن کی کمر توڑ دی ہے۔ وہاں صحافت سے متعلق سب لوگ تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران بھی موجود تھے۔ سلمان غنی، سجاد میر، رئوف طاہر، امیر العظیم، احسان ملک، مزدور لیڈر خورشید صاحب، نظریہ پاکستان کے شاہد رشید، حفیظ اللہ خان اور کئی دوسرے دوست غم و اندوہ کی کیفیت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ عزیزم امتنان شاہد مجھ سے بغلگیر ہو گئے اُن کے دکھ کو میں نے دل سے محسوس کیا۔ جب جنازہ برآمد ہوا تو ضیا شاہد سے کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا۔ وہ کچھ دوستوں کے سہارے سے کھڑے ہوئے اور چھڑی کی مدد سے آہستہ آہستہ چلنے لگے۔ مجھے بے پناہ دردمندی محسوس ہوئی اتنے دکھ زندگی میں برداشت کر کے جو آدمی زندہ ہے تو اس کی زندگی کے ساتھ کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے بہت معمولی راستے پر زندگی کا سفر شروع کیا۔ اللہ نے انہیں بڑے بڑے مقامات سے سرفراز فرمایا مگر امتحان بھی اُن کی زندگی میں آئے، وہ امتحانات میں کامیاب رہے مگر اس کامیابی کو ناکامی کی بہن کہا جا سکتا ہے۔ ناکامی اور کامیابی آپس میں مل جائے اور کوئی اس چیلنج سے بھی گزر جائے وہ بلاشبہ بہت بڑا آدمی ہوتا ہے۔ مجھے پوری صحافتی زندگی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔
مجھے وہ اس لئے بھی اچھے لگتے ہیں کہ وہ ہمیشہ مجید نظامی کا ذکر بہت عقیدت اور اپنائیت سے کرتے ہیں۔ وہ نوائے وقت کراچی کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی تھے۔ پورے صحافتی منظرنامے پر کوئی قابل ذکر صحافی اور کالم نگار ہے تو وہ نوائے وقت سے ہو کر گیا ہے۔ ڈاکٹر مجید نظامی کی قیادت اور تربیت پر اُسے ہمیشہ فخر ہوتا ہے۔
یہاں مجھے بہت شاندار صحافی احمد بشیر بھی یاد آتے ہیں۔ وہ بسترِ مرگ پر تھے ان کی چاروں بیٹیاں اُن کے پاس کھڑی تھیں۔ انہوں نے مثالی زندگی گزاری۔ وہ لفظ و خیال کے امین تھے۔ انہوں نے ایک پیسے کی بلکہ ایک لفظ کی خیانت بھی اپنی زندگی میں نہ کی۔ انہوں نے جو آخری الفاظ اپنی بیٹیوں سے کہے وہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ یہ جھومر ان کی ہر بیٹی کی پیشانی پر نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میری بیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتی ہیں، اُن کے درمیان کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا اس لئے کہ میں نے اُن کے لئے کوئی جائیداد نہیں چھوڑی۔ میں خالی جا رہا ہوں اور یہ ہاتھ اُن کی سلامتی، عزت مندی اور نیک نامی کے لئے اللہ کے آگے اُٹھے ہوئے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ احمد بشیر کی بیٹیوں نے اپنے والد کی بڑائیوں کا خیال رکھا ہے۔ میں تو صرف نیلم احمد بشیر کو جانتا ہوں وہ اپنے لئے نیلم بشیر لکھتی تھی۔ میں نے اُس سے کہا کہ وہ نیلم احمد بشیر لکھا کرے۔ وہ بہت نامور افسانہ نگار ہے۔ اس نے کئی کتابیں لکھی ہیں ایک بہت انوکھی افسانہ نگار کے طور پر معروف ہوئی۔ اس کے پہلے افسانوی مجموعے کا نام ’’گلابوں والی گلی‘‘ ہے اُس نے کہا کہ ایک بیورو کریٹ نے کہا وہ نیلم کو نہیں جانتا۔ میں نے کہا کہ وہ کبھی گلابوں والی گلی سے نہیں گزرا ہو گا؟ وہ اتنی بے باک ہے کہ اسے ایک بار منو بھائی نے کہہ دیا کہ نیلم احمد بشیر منٹو کی بیٹی ہے۔ منٹو ہماری افسانہ نگاری کی تاریخ کا بہت بڑا نام ہے تو نیلم بھی فسانے کا ایک بڑا نام ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ عورتوں کی سعادت حسن منٹو ہے مگر وہ بڑے وقار اور اعتبار سے لکھتی ہے۔ اہتمام اور احتیاط دونوں کے امتزاج سے اُس نے اپنے تخلیقی کردار کا مزاج بنایا ہے۔
اس کی نئی کتاب خاکوں اور مضامین پر مشتمل ہے۔ ’’چار چاند‘‘ اس میں ان چار پھولوں کا ذکر ہے جو احمد بشیر اور محمودہ کے گھر کے آنگن میں کِھلے ہیں۔ اُس نے اس تحریر میں نیلم کا ذکر اس طرح کیا ہے جیسے کوئی اور یہ ذکر کر رہا ہے۔ یہ بہت خوبصورت خاکہ ہے۔ اپنے بارے میں جو خاکہ اُس نے لکھا ہے۔ اس کا نام ’’کاغذوں میں لپٹی ہوئی کتھاکار لڑکی‘‘ ہے۔ نجانے یہ نیلم کون ہے جس نے یہ خاکہ لکھا ہے۔ یہ ایک ایسا انداز ہے جو شاید کسی دوسری عورت کو نصیب نہیں ہوا، دوسری بہن کے خاکے کا نام ’’سُر ساگر میں بیتی ہوئی سُریلی لڑکی‘‘۔ اس دوسرے چاند کا نام سُنبل ہے۔ تیسری بہن جسے دنیا بشریٰ انصاری کے نام سے جانتی ہے۔ خاکے کا نام ’’شہرت کی جگمگاتی روشنیوں میں چمکتی ستارہ لڑکی‘‘ ۔ مَیں اُسے نہیں جانتا مگر اُسے کون نہیں جانتا۔ اتنی بڑی فنکارہ کبھی کبھی پیدا ہوتی ہے۔ اور چوتھی بہن کے لئے قلزم چاند کا لفظ نیلم نے لکھا ہے۔ خاکے کا نام ’’رنگ روپ رقص میں گندھی مدر تھریسا لڑکی‘‘ ہے۔ مانو مجھے پسند آئی۔ میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ وہ بے پناہ رقص کرتی ہے۔ مجھے رقص اور وجد میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ نیلم سے گزارش ہے کہ کبھی اس کا رقص تو دکھا دے۔ یہ محفل اُس کے گھر میں ہونی چاہئے۔ یہ ایک خاکہ ہے اور اس کا نام ’’چار چاند‘‘ اور یہی کتاب کا نام ہے۔ کہتے ہیں کہ اُس نے محفل میں چار چاند لگا دئیے ہیں۔ نیلم احمد بشیر نے اردو ادب کی فضائوں میں چار چاند لگا دئیے ہیں۔ ٹائٹل بہت خوبصورت ہے۔ چار مجسمے ہیں جو چاروں بہنوں کے لگتے ہیں۔ بیک ٹائٹل پر چاروں بہنوں کا بہت خوبصورت گروپ فوٹو ہے۔ چاروں مسکرا رہی ہیں اور لگتا ہے کہ ایک ہی عورت مسکرا رہی ہے۔ ممتاز مفتی اکثر کہا کرتے تھے ’’احمد بشیر کے جینز کا جوار بھاٹا ان لڑکیوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دے گا۔ احمد بشیر اور محمودہ کے بچوں میں سے کسی نے رائٹر، اداکار، گلوکار، ڈیزائنر تو بننا ہی تھا۔ آرٹ، کلچر، ٹیلنٹ کے دریا گھر میں ہی بہہ رہے ہیں۔