سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا موڈ

کالم نگار  |  جاوید صدیق
سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا موڈ

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے پاکستان کی پارلیمنٹ کی قرار داد پر جو ردعمل سامنے آیا ہے اس کا وزیراعظم کی صدارت میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک قرارداد کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکے‘ ہم سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرتاش نے جو ٹویٹ کیا اس کے بارے میں سفارتی حلقوں میں تاثریہ ہے کہ انور قرتاش ایک منجھے ہوئے سفارت کار ہیں‘ وہ سفارتی طرز تکلم سے پوری طرح آشنا ہیں‘ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کے بارے میں جو کہا ہے اسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی تائید حاصل تھی۔ وہ پاکستان تک اپنا ردعمل پہنچانا چاہتے تھے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے جو تعلقات ہیں ان کی ایک پوری تاریخ ہے ۔1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان نے عربوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ پاکستان نے اس جنگ میں اپنے پائلٹ بھی بھیجے۔ اردن میں پاکستان کی فضائیہ اور برّی فوج کے دستے کئی برس تک متعین رہے۔ اردن میں پاک فضائیہ کے دستے کے سربراہ موجودہ وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی کے والد مرحوم ایئر کموڈور خاقان عباسی تھے جبکہ پاک آرمی کا جو بریگیڈ اردن میں متعین تھا اس کے سربراہ بریگیڈیئر ضیاء الحق تھے جو بعد میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف بنے اور صدر بھی رہے۔
1973 کی جنگ میں بھی پاکستان عربوں کے ساتھ کھڑا رہا‘ سعودی عرب کے ساتھ تو پاکستان کے انتہائی قریبی اور گہرے مراسم رہے ہیں‘ 1974 میں لاہور کی اسلامی سربراہ کانفرنس کو کامیاب بنانے میں مرحوم شاہ فیصل کر کردار کلیدی تھا جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تو سعودی عرب‘ لیبیا اور متحدہ عرب امارات کے اس پروگرام کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستان کی مالی معاونت بھی کی۔ پاکستان کے لئے مشکلات کے ہر دور میں سعودی عرب اور خلیج کے ممالک پاکستان کے کام آتے رہے۔ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق 30 لاکھ پاکستانی سعودی عرب اور خلیج کے ملکوں میں کام کر رہے ہیں جو اربوں ڈالر سالانہ کا زرمبادلہ بھیج رہے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی بحرانوں کو حل کرنے میں سعودی عرب اور خلیج کے ممالک برادرانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں جب ذوالفقار علی بھٹو کو 1977 ء میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے وزارت عظمیٰ سے معزول کیا تو سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات ‘ لیبیا اور دوسرے ملکوں نے مسٹر بھٹو کو پناہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ 1990 کو خلیج کی جنگ میں پاکستان نے اپنی فوج سعودی عرب کے دفاع کے لئے بھیجی تھی۔
جنرل مشرف کے دور میں وزیراعظم نواز شریف کومعزول کر کے جب ان پر طیارہ کو اغوا کرنے کا مقدمہ چلایا گیا تو سعودی عرب نے مداخلت کر کے نواز شریف کو اپنے ہاں مہمان بنا لیا۔ سعودی عرب کئی مرتبہ پاکستان کی مالی مشکلات کے خاتمے کے لئے امداد دیتا رہا ہے۔ کم قیمت یا مؤخر ادائیگی کی شرط پر بھی پاکستان تیل سعودی عرب سے لیتا رہا ہے۔ گزشتہ برس جب شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان کا دورہ کیا تو اس کے بعد پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد سعودی عرب نے فراہم کی۔
یمن بحران شروع ہوا تو سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو توقع تھی کہ پاکستان ان ملکوں کے اتحاد کو سیاسی اور عسکری امداد کی پیشکش کرے گا لیکن پاکستان کی طرف سے غیرجانبدار رہنے کے فیصلے نے سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور دوسرے خلیجی ممالک کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ ان دنوں سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور صالح عبداﷲ اور ان کے نائب وزیر ڈاکٹر عبدالعزیز عبداﷲ العمار پاکستان کے دورے پر ہیں‘ انہوں نے پاکستان کے مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں‘ ان ملاقاتوں کے بعد ان مذہبی رہنماؤں نے پارلیمنٹ کی قرارداد پر سخت نکتہ چیتی کی اور مطالبہ کیا کہ پاکستان فوری طور پر سعودی عرب کا مطالبہ پورا کرے۔ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان بھی مذہبی امور کے وزراء سے ملاقاتوں کے بعد نرم پڑ گئے ہیں اور انہوں نے پارلیمنٹ کی قرارداد کو ڈس اون کر دیا ہے۔ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی رائے تبدیل ہو رہی ہے۔ سیاسی سطح پر بھی اب یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ اگر سعودی عرب اور خلیج کے ممالک ناراض ہو گئے تو پاکستان کے مفادات پر زد پڑے گی۔ یمن بحران نے پاکستان کو ایک مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ اصولی طور پر تو یہ بات درست ہے کہ پاکستان کو عالم اسلام میں تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرانے میں اب کردار ادا کرنا چاہئیے‘ لیکن اس مؤقف سے سعودی عرب اورخلیج تعاون کونسل کے ملکوں کا موڈ بہت خراب ہوا ہے ۔