کیا ہو رہا ہے؟

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
کیا ہو رہا ہے؟

نواز حکومت کو کیا ہو گیا ہے؟ ملک کا تمام کاروبار زندگی جیسے ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ ملک میں اس وقت صرف نواز شریف فیملی سنگین مسئلہ دکھائی دے رہا ہے۔ بہت راج کر لیا، اب کیا ملک کی جان لے کر چین آئے گا؟ قادیانی خود کو مسلمان سمجھتے ہیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے لیکن حکومتی سطح پر ایک ذمہ دار وزیر انہیں مسلمان قرار دے یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اوپر سے داماد اوّل نے فوج میں قادیانیوں کے خلاف فتویٰ دے کر اپنی کپتانی کے منہ پر کالک مل دی ہے۔ فوجی فوج سے بغاوت؟ قادیانی غیر مسلم قرار دیئے جا چکے ہیں لیکن پاکستانی ہونے کا حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں میں اقلیتوں کو ملازمت کی پابندی عائد کرنے کا مطلب محمد علی جناح کے پاکستان کی صورت مسخ کرنا ہے۔ امریکہ نے مسلمانوں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے باوجود فوج میں مسلمانوں کی بھرتی پر پابندی عائد نہیں کی۔ غیر مسلم معاشروں میں مسلمان اقلیت فوج اور دیگر حساس اداروں میں فائزہے جبکہ ایک مسلم معاشرہ میں ایک شخص اچانک نیند سے بیدار ہوتا ہے اور غیر مسلم اقلیت کی پاک فوج میں بھرتی کے خلاف فتویٰ دے دیتا ہے؟ داماد اوّل کا مذہبی جنون سیاست کی حد تک فنکاری دکھا سکتا ہے حقیقت میں اس فنکاری کی کوئی گنجائش نہیں۔ عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کا آسان اور سستا طریقہ عوام کو مذہبی طور پر ایکسپلائیٹ کرنا ہے۔ ادھر خواجہ آصف کو اپنا گھر ہی گندا دکھائی دیتا ہے اور گھر گندا کیوں نہ ہو جس کی دیکھ بھال کرنے والے اس کے سگے نہیں۔ سب اپنا اپنا گھر مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کو نظر آرہا ہے کہ آج کرسی ہے کل کس نے دیکھی۔ جتنا مال اور تعلقات بنا سکتے ہو بنا لو۔ قادیانی بحیثیت پاکستانی اقلیت اپنا مقام رکھتے ہیں لیکن انہیں مسلمان کہنے والا قادیانیوں کا سگا نہیں بلکہ اس قسم کے بیان سے باہر ٹھکانہ پکا کرنا مقصود ہے۔ سیاستدان اپنا مستقبل محفوظ کر رہے ہیں۔ پاکستان صرف اقتدار کے لئے مستقبل کے لئے ویزے اولادیں اثاثے یورپ امریکہ کینیڈا میں۔ فوج کے خلاف پروپیگنڈہ بری طرح ناکام ہو گا۔ حکومتی جماعت ایک خاندان کو بچانے کے لئے اداروں کو گندا کرنے کی پالیسی میں خود گندی ہو رہی ہے اور اپنا مستقبل بھی خراب کر رہی ہے۔ ملک کے حالات اس نہج پر پہنچانے کا کھیل فوج کو دعوت دینا ہے۔ فوج آ گئی تو زرداری اور نواز پھر بھائی بھائی بن جائیں گے۔ عمران خان نے جو کام کرنا تھا کر لیا۔ اب بھلے سیاست میں رہے یا آﺅٹ کر دیا جائے اسے فرق نہیں پڑے گا۔ بیڑہ غرق پھر انہی پرانی دونوں جماعتوں کا ہو گا بلکہ ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن میں دراڑ ڈلوانے کے لئے باہر سے شرپسندی کی ضرورت نہیں۔ جس فوج نے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن بنائی وہی فوج مزید نئی جماعت لے آئے گی۔ بلکہ لا رہی ہے۔ عوام پرانی جماعتوں کو پرکھ چکی، اب نئی جماعتوں نئے نعروں نئے وعدوں کا دور شروع ہو چکا۔ حکومتی جماعت نے جو روش اپنا رکھی ہے الیکشن ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ فوج سے پنگا حماقت ہے۔ فوج پاکستان کی جیتی جاگتی حقیقت ہے۔ فوج کو سیاست میں گھسیٹنے والے سیاستدان خود ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما چودھری نثار علی خان بھی کہتے ہیں کہ عدالتوں اور فوج سے محاذ آرائی نواز شریف، مسلم لیگ (ن) اور اس ملک کے لئے ٹھیک نہیں۔ لیکن چودھری نثار علی خان کی حیثیت اس وقت کمزور ہے۔ کوئی نصیحت اور مشورہ اس وقت نواز شریف کو سنائی نہیں دے رہا۔ میاں صاحب ڈٹے رہو بس یہی ایک جملہ دل کو بھاتا ہے۔ یہ لوگ میاں صاحب کو پہلے بھی کئی مرتبہ اتروا چکے ہیں ایک بار اور سہی۔ پاکستان کی معیشت تباہ کرنے کا منصوبہ بن چکا ہے، نہ کھاواں گے نہ کھان دیاں گے، معیشت کی بدحالی کے خدشہ کا اظہار آرمی چیف بھی کر چکے ہیں۔ ملک کے ادارے پورا ملک داﺅ پر نہیں لگنے دیں گے۔