’’مُلاقات ہوئی گل بات ہوئی!‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
’’مُلاقات ہوئی گل بات ہوئی!‘‘

29 جنوری کو قومی اسمبلی کے ایوان سے خطاب کرتے ہُوئے وزیرِاعظم نواز شریف نے جناب عمران خان کو بھی مخاطب کِیا اور کہا تھا کہ ’’دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اگر آپ مجھے دعوت دیں تو مَیں آپ کے گھر آنے کو بھی تیّار ہُوں!‘‘ ٹھیک ایک ماہ اور 14دِن بعد وزیرِاعظم وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ عمران خان کے گھر بیٹھے اُن کے گھر کی تعریف کر رہے تھے حالانکہ گھر گھر والی سے ہوتا ہے۔ عمران خان نے بھی گھر آئے کی لاج رکھ لی۔ انہوں نے کہا کہ ’’وزیراعظم نواز شریف اور وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان قیامِ امن اور مذاکرات کو پورا موقع دینے کے لئے جو کچھ کر رہے ہیں مَیں اُس کی حمایت کرتا ہُوں۔‘‘ وزیرِاعظم کے ساتھ وزیرِ داخلہ کی تعریف کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’عمران خان اور چودھری نثار علی خان ہم جماعت اور دوست رہے ہیں اور اکٹھے کرکٹ بھی کھیلتے رہے ہیں۔
چودھری نثار علی خان (پروٹوکول کے بغیر) گاڑی ڈرائیو کر کے وزیرِاعظم کو عمران خان کے گھر لے گئے۔ سابق قائدِ پنجاب/ شیر پنجاب ملک غلام مصطفیٰ کھر بھی مرحوم ’’قائدِ عوام‘‘ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی گاڑی ڈرائیو کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ کھر صاحب نے بھٹو صاحب کے آخری دَور میں اُنہیں چھوڑ دِیا تھا۔ پھر واپس بھی آ مِلے تھے۔ لیکن جب جنرل ضیأالحق نے جنابِ بھٹو کی حکومت کو ختم کِیا  تو جنابِ کھر ’’بھٹو صاحب کے راز‘‘ لانے کے لئے فوجی جرنیلوںکی اجازت سے لندن چلے گئے تھے۔ میاں نواز شریف جلا وطن ہُوئے تو چودھری نثار علی خان نے ایسا نہیں کِیا تھا۔ پنجابی کا ایک اکھان ہے کہ ’’خاناں دے خان پروہنے‘‘ یعنی بڑے لوگوں کے مہمان بھی بڑے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے یہ نہیں کہنا پڑتا کہ  ع
’’وہ آئیں گھر میں ہمارے، خُدا کی قُدرت ہے‘‘
جناب عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات کے نتائج کے مطابق ووٹوں کے لحاظ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے بعد بڑی جماعت بن کر اُبھری تھی۔ چنانچہ یہ ملاقات دو بڑے لیڈروں کی ملاقات تھی۔ اِس ملاقات میں طے پایا کہ ’’ملاقاتوں کا سِلسلہ جاری رہے گا‘‘ یعنی بقول حضرت آتشؔ   ع
’’اب مُلاقات ہُوئی ہے تو ملاقات رہے‘‘
میزبان عمران خان کی طرف سے مہمان وزیرِاعظم اور اُن کے ساتھی مہمانوں کی خدمت میں تازہ پھل، جوس، رس، دہی بھلّے، چنے کی چاٹ، چکن تِکّا، فنگر فِش اور سویٹس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مجھے مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان یاد آ گئے۔ وزیرِاعظم نواز شریف کے دورۂ تھرپارکر کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کی طرف سے انواع و اقسام کے کھانوں سے ’’لبریز‘‘ ظہرانے کا اہتمام کِیا گیا تھا، لیکن وزیرِاعظم وہاں سے بھوکے پیٹ واپس آ گئے اور منتظمین سے یہ کہہ کر کہ ’’کیا ہی اچھا ہوتا کہ کھانے کی رقم قحط سے متاثرہ لوگوں پر خرچ کی جاتی۔‘‘ جناب مشاہد اللہ خان موقع بے موقع اپنی گفتگو، بحث، مناظروں، پریس کانفرنسوں اور تقریروں میں، شعروں کا تڑکا لگاتے رہتے ہیں۔‘‘ اس موقع پر موصوف نے ’’نثری شاعری‘‘ کی اور کہا کہ ’’وزیرِاعظم نے وزیرِ اعلیٰ سندھ کی ’’دعوتِ شیراز‘‘ قبول نہیں کی۔‘‘ مشاہد صاحب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ’’دعوتِ شیراز‘‘ میں سادہ اور معمولی کھانا ہوتا ہے۔ جِس دعوت میں انواع و اقسام کے کھانے پیش کئے جائیں۔ اُسے ’’دعوتِ ثمر قند‘‘ کہا جاتا ہے۔ وزیرِاعظم نے عمران خان سے پوچھا کہ ’’یہ پشاوری چپّل آپ نے پہن رکھی ہے، کیا آپ کو طالبان نے د ی ہے؟‘‘ عمران خان اس سوال کا جواب گول کر گئے اور کہا کہ ’’میاں صاحب! اب لوگ مجھے عمران خان کے بجائے ’’طالبان خان‘‘ کہنا شروع ہو گئے ہیں۔ صورت تو یہ ہے کہ اب پشاوری چپّل بہت کم طالبان پہنتے ہیں۔ مختلف نیوز چینلوں پر، چلتے پھرتے اور ہتھیاروں سے لیس طالبان دِکھائے جاتے ہیں، انہوں نے فوجی بُوٹ پہنے ہوتے ہیں۔
طالبان (خاص طور پر ’’مُحبِّ وطن طالبان‘‘) کی حمایت تو چودھری نثار علی خان بھی کرتے ہیں، حیرت ہے کہ اِس کے باوجود وہ ’’طالبان چودھری‘‘ کے نام سے مشہور نہیں ہو سکے۔ پاک فوج کے 8 ہزار افسروں اور جوانوں سمیت 50 ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں/ دہشت گردوں کے لیڈر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر جناب عمران خان اور چودھری نثار علی خان نے سُر میں سُر مِلا کر ’’بَین‘‘ کئے تھے۔ خبروں کے مطابق ’’وزیرِاعظم نواز شریف عمران خان کے لئے مُختص کی گئی سِیٹ پر بیٹھ گئے اور عمران خان وزیرِاعظم کے لئے مُختص کی گئی سِیٹ پر دونوں لیڈروں نے دوستی پکّی کرنے کے لئے ایسا کِیا ہو گا۔ اب وہ ’’سِیٹ بدل بھائی‘‘ بن گئے ہیں۔ یہ بھائی چارہ  اُس وقت تک ضرور قائم رہنا چاہیئے جب تک میاں صاحب  عمران خان کو ’’واری‘‘ نہ دے دیں۔ عمران خان نے کہا جناب وزیرِاعظم! آپ نے دبائو کے باوجود اچھے فیصلے کئے ہیں‘‘ اسِ پر وزیرِاعظم نے کہا کہ ’’میں ہمیشہ دبائو میں رہتا ہُوں!‘‘ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ جنابِ وزیرِاعظم سے جب بھی اچھے فیصلے کروانے ہوں تو اُن پر دبائو بڑھا دینا چاہیئے۔ استاد جلیلؔ کے دَور میں عوام کے مسائل اتنے زیادہ نہیں تھے جب انہوں نے کہا تھا کہ  ؎
’’آہوں کی فوج لے کے چلی ہے دُعا مری
اچھا ہے کچھ دبائو پڑے آسمان پر!‘‘
میاں نواز شریف اور جناب عمران خان میں دوستی اُس وقت ہی ہو جانا چاہیئے تھی جب 11مئی کے انتخابات کے نتیجے میں وفاق اور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن اور خیبر پی کے میں پاکستان تحریکِ انصاف کو عوام کی طرف سے بھاری مینڈیٹ مِلا تھا۔ غیر سرکاری انتخابی نتائج کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمن نے اعلان کر دیا تھا کہ ’’ہمارا میاں نواز شریف سے رابطہ ہے۔ ہم خیبر پی کے میں اپنی حکومت بنائیں گے۔‘‘ میاں نواز شریف سدا بہار سیاستدان مولانا فضل الرحمن کے جھانسے میں نہیں آئے تھے۔ انہوں نے خیبر پی کے میں پاکستان تحریکِ انصاف کو حکومت بنانے کا موقع دِیا لیکن ’’مُحبِّ وطن طالبان‘‘ سمیت ’’پاکستان دشمن طالبان ‘‘ نے ’’طالبان خان‘‘ کی بدنامی مول لینے والے عمران خان کا بھی لحاظ نہیں کِیا۔ پاکستان کے افسروں اور جوانوں اور بے گناہ اور معصوم شہریوں کا قتلِ عام سب سے زیادہ خیبر پی کے میں ہُوا۔ قیامِ امن کی خواہش رکھنے والے دونوں قائدین کو دوسرے سیاسی لیڈروں اورعسکری قیادت کی مشاورت سے بہت جلد طے کرنا ہو گا کہ وہ اُس کے بدلے میں ’’مُحبِّ وطن طالبان‘‘ کو کیا دیں گے؟ اور ’’پاکستان دشمن طالبان‘‘ کا خاتمہ کیسے کریں گے؟ وزیرِاعظم نواز شریف اور جناب عمران خان کی ملاقات کے بارے میں فی الحال تو یہی کہا جاتا ہے کہ ’’مُلاقات ہوئی گل بات ہوئی!‘‘