نئی مذاکراتی ٹیم

کالم نگار  |  جاوید صدیق
نئی مذاکراتی ٹیم

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے قائم کی گئی پہلی حکومتی کمیٹی کی جگہ اب ایک چار رکنی نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ پہلی کمیٹی کے ایک رکن رستم شاہ مہمند نئی کمیٹی میں بھی شامل ہیں جبکہ دوسرے ارکان میں وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد‘ سیکرٹری پورٹس اینڈ شپنگ حبیب اللہ خٹک‘ ایڈیشنل سیکرٹری فاٹا ارباب عارف شامل ہیں۔ نئی کمیٹی میں شامل ارکان کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور یہ سارے افسر پشتو بولنے والے ہیں‘ طالبان یا ان کی نمائندہ کمیٹی کے ساتھ بات چیت میں انہیں ابلاغ کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ دنیا میں جتنے بھی کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں ان میں یا تو سفارت کار شامل رہے یا پھر سیاستدان‘ بیوروکریٹس رابطوں کا کام تو کر سکتے ہیں لیکن مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کی کوئی ایسی مثال سامنے نہیں ہے جو بیوروکریٹس کے ذریعہ ہوئی ہو۔ پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو جنرل ایوب خان کے خلاف جب تحریک چلی تو ابتدائی طورپر تو خفیہ اداروں اور بعض افسروں نے ایوب خان حکومت اور ان کی اپوزیشن کے درمیان رابطے کرائے لیکن ایوب خان اور ان کی سیاسی اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لانے اور راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کرانے میں اہم کردار نوابزادہ نصر اللہ خان اور جنرل ایوب خان کے ایک معتمد خواجہ شہاب الدین کا تھا۔ پس پردہ کئی کردار بھی سرگرم رہے لیکن فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے فیصلہ کن بات چیت سیاستدانوں کے درمیان ہوئی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ جنرل ایوب خان اور ان کی اپوزیشن کے درمیان بات چیت میں طے پانے والے سمجھوتے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ سمجھوتے کے مطابق پاکستان میں ’’ون مین ون ووٹ‘‘ کے اصول کے تحت انتخابات نہ ہوئے اور پرامن انتقال اقتدار کا خواب پورا نہ ہوا۔ جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاء لگا کر اقتدار سنبھال لیا۔ انتخابات ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر ہی ہوئے ون یونٹ توڑ کر پاکستان کی پرانی وفاقی اکائیاں بحال کر دی گئیں لیکن انتخابی نتائج کے مطابق اقتدار اکثریتی جماعت کو منتقل نہ ہوا۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا جو پاکستان ٹوٹنے پر منتج ہوا۔
مارچ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے جو انتخابات کرائے وہ متنازعہ بن گئے اور بھٹو کی اپوزیشن نے جو نو سیاسی جماعتوں کا اتحاد تھا 10 مارچ 1977ء کو ہونے والے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور دوبارہ انتخابات کرانے کے لئے احتجاجی تحریک چلا دی۔ جب یہ احتجاجی تحریک زور پکڑ گئی اور عوام نے اس کا ساتھ دینا شروع کر دیا تو مسٹر بھٹو نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ بھٹو اور ان کی اپوزیشن کو مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ حل کرانے میں اس وقت کے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ریاض الخطیب نے بھی کردار ادا کیا لیکن بھٹو حکومت اور پاکستان قومی اتحاد کی اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ایک سیاستدان سردار عبد القیوم خان کی خدمات لی گئیں۔ مسٹر بھٹو نے سردار عبد القیوم خان کو آزاد کشمیر کی صدارت سے ہٹا کر جیل میں ڈال دیا تھا لیکن جب اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پڑی تو بھٹو نے سردار عبد القیوم خان سے پلندری جیل میں فون پر رابطہ قائم کیا اور انہیں ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ راولپنڈی بلوایا۔ ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرتے ہوئے سردار عبد القیوم خان نے بھٹو حکومت اور ان کی اپوزیشن‘ پاکستان قومی اتحاد کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے۔ نئے انتخابات ہونے کی بجائے ملک میں ایک اور مارشل لاء لگا دیا گیا۔
بات حکومت اور طالبان مذاکرات کی ہو رہی تھی۔ ابتدائی طورپر حکومت نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی اس میں جو حضرات شامل تھے انہیں مذاکرات کرانے اور انہیں نتیجہ خیز بنانے کا ان کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ایک مرحلہ پر یہ بھی کہا گیا کہ یہ ٹیم جس میں عرفان صدیقی‘ رستم شاہ مہمند‘ رحیم اللہ یوسفزئی اور آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر میجر (ر) عامر شامل تھے۔ یہ مذاکراتی ٹیم نہیں ہے بلکہ یہ رابطہ کا کام کرنے والی ٹیم ہے۔ اس ٹیم کے ایک رکن میجر عامر نے خود یہ تجویز دی کہ اس ٹیم کو ختم کر کے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کے لئے ایک نئی مذاکراتی ٹیم تشکیل دی جائے۔ جو نئی مذاکراتی ٹیم سامنے آئی ہے مذاکرات کے ہنر میں اس ٹیم کے ارکان کتنے ماہر ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مذاکرات کی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ ٹیم بھی رابطوں کا ہی کام کرے گی۔ حکومت اور طالبان کے درمیان حتمی مذاکرات کے لئے سیاسی ٹیم بھی سامنے آئے گی یہ مرحلہ اس وقت آئے گا جب رابطہ کار ٹیموں کے ذریعہ اہم معاملات پر پیشرفت ہو گی۔ پاکستان میں مذاکرات کے ذریعہ بڑے بڑے بحران حل کرنے کی تاریخ زیادہ قابل رشک نہیں ہے لیکن چونکہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے لئے سیاسی جماعتوں میں مکمل اتفاق رائے ہے اس لئے امید کرنی چاہئے کہ حکومت طالبان مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے لیکن ابھی حتمی بات چیت سے پہلے کئی دشواریاں پیش آئیں گی اور کئی صبر آزما مرحلوں سے گزرنا ہو گا۔