لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

میاں محمد نواز شریف اور جنرل راحیل شریف عزم کر لیں تو دنیا ان کی امامت کوتسلیم کر لے گی، تھر کا قحط ایک ڈی سی اوحل کرسکتا ہے اور شمالی وزیرستان کے لئے ایف سولہ کا ایک اسکواڈرن کافی رہے گا۔
تاریخ میں ایسے لمحات بار بار نہیں آتے،افغانستان پر سوویت فوجوںنے یلغار کی تو آئی ایس آئی نے توڑے دار بندوقوں کی مدد سے افغان مزاحمت کو منظم کیا اور ضیا الحق نے لیڈر شپ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز کروا دیں۔
یہی پاکستان شکست خوردہ وسط ایشیائی ریا ستوں کے دبائوکا شکار ہو کر رہ گیا۔ہم نے جن افغانوں کے لئے برسوں قربانی دی، وہ ہماری بد تدبیری اور بے بصیرتی کی وجہ سے ہمیں آنکھیں دکھانے لگے اور ہمارے ہی منظم کردہ جہادی ہمیں چیرنے پھاڑنے میںمصروف ہو گئے۔
مگر وقت آگیا ہے اور ہمیں ارذل تریںسطح سے اوپر اٹھنا ہے۔
میں یہ نہیںکہتا کہ ہم کوئی صلاح الدین ایوبی ہیں، یا احمد شاہ ابدالی یا محمد غوری۔ میں یہ طعنہ نہیں سننا چاہتا کہ میری سوچ نسیم حجازی کے ناولوں کے سائے میں پروان چڑھی ہے لیکن  مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ میں ڈاکٹر مجید نظامی کی سوچ کا ادنی پیرو کار ہوں جو ایک ہی سبق دیتے ہیں کہ کسی کے آگے مت جھکو، اپنے حق سے پیچھے مت ہٹو اور کسی کی بالادستی قبول مت کرو۔
ہمارے ساتھ ایک ملک بھارت بھی آزاد ہوا ، وہ اپنے حق سے بھی آگے بڑھ کر چھینا جھپٹی میں مصروف ہے ، اس نے کشمیر لیا، جونا گڑھ لیا،سکم ، بھوٹان ،نیپال اور مالدیپ کے ساتھ باجگزار ریاستوں کاساسلوک کیا ،ا ب وہ افغان امورپرحاوی ہوناچاہتاہے ۔ کیا ہم اس کے لئے راستہ کلیئر کر دیں۔کیا روس نے شکست کھانے اور ٹوٹ پھوٹ جانے کے بعد ہار مان لی، کیاا س نے شام کے مسئلے پر امریکہ کو نہیں للکارا، کیا یوکرائن کے بحران میں وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہا۔کیااس نے کریمیا میں فوجیں نہیں اتاریں۔ ہر چند امریکہ اور یورپ نے روس کو بار بار وارننگ دی مگر چین نے یہ کہہ کر حساب برابر کر دیا کہ امریکہ کو حوصلے، صبر اور تحمل سے کام لینا چاہئے، میاں نواز شریف کسی بھی سفارتکاری کی لغت میںان الفاط کا ترجمہ دیکھ لیں اور جنرل راحیل شریف اسٹریٹیجی کی کسی ابتدائی کتاب پر نظر ڈا لیں، ان دونوں کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے اور ان کے سامنے ممکنات کی ایک وسیع دنیا کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔
شمالی وزیرستان کے لئے کمیٹیاں بنانا بچوں کا کھیل ہے، وزیر اعظم ہائوس اور جی ایچ کیو اس پر ضرورت سے زیادہ وقت ضائع کر چکے، عرفان صدیقی کی جگہ فوادحسن فواد آ گئے، یعنی وزیر اعظم کے کسی لاڈلے ہی نے لگام سنبھالنی ہے تو ہو چکا یہ کام۔فوج نے یہ اعلان کر کے اچھا کیا کہ امن کے لئے حکومتی فیصلوں کی حمائت کرے گی، فوج کو ایسا فیصلہ مستقل بنیادوں پر کر لینا چاہئے کہ وہ ہر حکومت کے ساتھ تعاون کی پالیسی ا ختیار کرے گی۔جنرل کیانی کے دنوںمیں ریمنڈ ڈیوس، کیری لوگر بل اورمیمو گیٹ پر زرداری اور گیلانی حکومت کا ناطقہ بند کر دیا گیا تھا۔ اس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ فوج کو پیپلز پارٹی کی حکومت قبول نہیں۔اصغر خان کیس سے بھی یہی ثابت ہو تا ہے، وہ تو عدالتوںمیں ہے اور اس کیس نے کیا چلنا ہے لیکن سب نے دیکھا کہ اسلامی جمہوری اتحاد بنا کر نواز شریف کی محمد خاں جونیجو پر بالا دستی قائم کر وا دی گئی، ا ٓج کل بھی میاں نواز شریف کے ارد گرد سبھی سیاستدان اکٹھے کر دیئے گئے ہیں، زرداری اور بلاول بھی نوازشریف پر فریفتہ ہیں اور ایک عمران خاںتنقید کرنے کے لئے باہر رہ گئے تھے، وہ بھی وزیر اعظم کے حلقہ ارادت میں چلے آئے۔ یہ سب کچھ اچھا ہے مگر اس کا تقاضہ ہے کہ میاں شہباز شریف بھی ایسے اعلان ترک کریں کہ وہ زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے یا بھرے چوک میں پھانسی پر لٹکائیں گے۔ن لیگ کو دوسروں کی حمائت درکار ہے تو وہ بھی دل و جان سے سب کو قبول کرے، یہ اتحاد جاتی امرا کے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے نہیں ہونا چاہئے،بلکہ ا س اتحاد کو ملک اور قوم کی طاقت بننا چاہئے۔اسے امت مسلمہ کی قوت کا مظہرثابت ہونا چاہئے،اس اتحاد کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ ہم سعودی عرب کو فوجی امداد نہ دینے پر متفق ہو جائیں یا بھارت کے ساتھ سرحد ختم کرنے کی ذلت قبول کر لیں۔یا افغان صدر حامد کرزئی کے تھلے لگ جائیں۔یا شام کے عوام کی بدقسمتی کو قبول کر لیں۔سعودی حکومت کے معتبر روز روز پاکستان کا رخ نہیں کریں گے، امارات کے حکمرانوں کو شکار کہیںاور بھی مل سکتا ہے، کویت کے معزز مہمان بھی تشریف لا رہے ہیں ، یہ لوگ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ، میں یہ بات نواز شریف اور راحیل شریف دونوں سے کہہ رہا ہوں۔ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم انہیں دھتکارتے ہی چلے جائیں۔اور ان کی ضروریا ت سے منہ موڑ لیں۔وہ بھی جواب میں کہہ سکتے ہیںکہ تو نہ سہی اور سہی!سعودی ولی عہد کو نئی دہلی کی طرف ہم نے دھکیلا ، کیا ہمیں اس پر فخر کرنا چاہئے یاچلو بھر پانی میںناک ڈبو لینی چاہئے۔کل کو کویت بھی نئی دہلی کی طرف دیکھے گا اور ہم کہیں کے نہیں رہیں گے، یہی طالبان ہوں گے ا ور ہماری کمیٹیاں ہو ں گی اور قوم لہو لہان ہوتی رہے گی۔فواد حسن فواد صرف انتظامی آرڈر جاری کر نے کے ماہر ہیں، عرفان صدیقی الفاظ کے دھنی تھے، مسائل وہیںکے وہیں ہیں اور وہ بھی صرف اس لئے کہ ہم جان بوجھ کر اپنے قد کاٹھ کو سمجھنے سے عاری ہیں، خدا نے ہمیں یہ مملکت عطا کی تھی کہ ہم دنیا کو اسلامی جہانبانی کا نمونہ بن کر دکھائیں۔لیکن ہم نے بدتریں گورننس سے مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا، اب بھی ہم اپنی گورننس بہتر کرنے پر توجہ نہیں دے پا رہے اور مزید انتشار کا شکار ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ فوج پیپلز پارٹی کو سیکورٹی رسک کہا کرتی تھی اور ن لیگ حکومت کاری کے فن سے نا آشنا تھی، نواز شریف اور شہباز شریف تیسری مرتبہ اقتدار میں ہیںمگر حکومت ایسے چلا رہے ہیں جیسے طفل مکتب ہوں۔یا وہ ڈنڈہ چلانا جانتے ہیں یا بخشیشوں کے عادی ہیں۔اعتدال سے کام لینے کے ہنر سے قطعی نا آشنا۔ مجھے ان حکومتی کوتاہیوں سے کوئی سرو کار نہیں۔ کوئی بھی حکومت عقل کل کی مالک نہیں ہوتی، مجھے غرض صرف اس بات سے ہے کہ یہ حکومت، پاکستان کو اس کے حقیقی کردار سے ہمکنارکر دے، ہم ایک ایٹمی قوت ہیں ، ہمارے پاس دنیا کی ایک بہترین پروفیشنل فوج ہے۔ہماری جیو اسٹریٹیجک پوزیشن بے مثال ہے۔
میاںنوازشریف پھر بھی بنی گالہ میں عمران کے گھر جاتے رہیں اور بلاول اور زرداری کے شانہ بشانہ نظرا ٓتے رہیں مگر اس لئے نہیں کہ ان کی اپنی پارٹی میں ان کا ساتھ دینے والے کم ہیں بلکہ اس لئے کہ ہمیں متحد ہو کرخطے میں اہم کردار ادا کرنا ہے،ہمیں دنیا کی امامت کا فریضہ ادا کرنا ہے۔