عمران نواز ملاقات ۔۔۔!

عمران نواز ملاقات ۔۔۔!

عمران نواز ملاقات ملکی صورتحال کیلئے ایک نیک شگون ہے۔ خیبر پی کے کی حکومت اور وفاق کا ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا نا گزیر ہے۔ اس سے پہلے کہ عمران نواز ملاقات کو مزید شاباش دی جائے، عوام کا ایک شکوہ میاں صاحب تک پہنچانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان ڈاکٹر میاں محمد نواز شریف کا شمار ملک کی امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے مگر تھرپارکر کی آفت زدہ صورتحال کے آنکھوں دیکھے حال کے باوجود میاںصاحب نے اپنی جیب سے ایک روپیہ عطیہ نہیں کیا شاید عوام کو خبر نہیں ہو سکی؟ نیکی کی شروعات سیاستدانوں کی ذاتی جیب سے بھی ہونی چاہئے جبکہ میاں صاحب امیر ترین ہی نہیں رحم دل بھی واقع ہوئے ہیں۔ میاں محمد منشا اور آصف علی زرداری کی دولت بھی شمار سے باہر ہے مگر بحریہ ٹائون والے ملک ریاض نے تھر کے متاثرین کی امداد سے لوگوں کا دل جیت لیا۔ رائے ونڈ کا محل سب کی نظروں میں کھٹکتا ہے جبکہ عمران خان کا محل بھی دیکھنے کے لائق ہے۔ ہم نے دیکھا نہیں مگر میاں نواز شریف کی زبانی پوری دنیا نے سُنا ہے کہ عمران خان کا ذوق قابل دید ہے۔ وزیراعظم خان صاحب سے اسلام آباد میں ان کے عالیشان بنگلے پر تشریف لے گئے اور ان کے گھر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ کا گھر بہت پسند آیا ہے ایسا لگا جیسے مری میں موجود ہوں۔ خان صاحب لاجواب ہو گئے اور بتا نہ سکے کہ یہ گھر کہاں ہے یہ تو ایک کُٹیا ہے جس میں ایک درویش نے ڈیرہ لگا رکھا ہے۔ میاں صاحب کو خان صاحب کے ذوق میں جاتی عمرہ کا گھر دکھائی دے رہا تھا۔ خان صاحب درویش ہیں تو میاں صاحب فقیر ہیں لیکن دونوں دلچسپ امیر ہیں، دونوں کے قیمتی اثاثے ’’بیٹے‘‘ لندن میں محفوظ اور امیر ہیں، مال کا کیا ہے، آنی جانی چیز ہے، کسی نے کھیل سے بنا لیا تو کسی نے سیاست کو کھیل بنا لیا۔ میاں صاحب کو وقت نے سمجھا دیا اور خان صاحب کو زمانہ سمجھا رہا ہے اور آج تو وزیراعظم انہیں سمجھانے کے لئے خود ان کے پاس چل کر گئے ہیں۔ عمران خان کی شخصیت طلسماتی ہے تو میاں نواز شریف کی شخصیت بھی مقناطیسی ہے۔ ملک کی سالمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام تر مخالفت کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت برقرار رکھی گئی تو ملک خطرات سے نمٹنے کا متحمل ہو جائے گا۔ جاوید ہاشمی میاں نواز شریف کو لیڈر کہتے ہیں، انہوں نے بھی میاں صاحب سے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب طویل عرصہ بعد آپ سے ملاقات کی خوشی ہوئی جس پر میاں صاحب نے بھی محبت کا جواب محبت میں دیتے ہوئے کہا میں آج بھی آپ کا احترام کرتا ہوں۔ عمران خان نے میاں صاحب اور چودھری نثار کے فیصلوں کی کھل کر تعریف کی۔ تعریف کے لئے اگر روبرو ملاقات ضروری ہے تو میاں صاحب کو ہر دوچار مہینے بعد خان صاحب کے گھر چلے جانا چاہئے تاکہ ملک میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا کلچر کم ہو سکے اور صرف ملک و قوم کی سالمیت کے لئے سیاست کی جائے۔ خان صاحب نے میاں صاحب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دبائو کے باوجود اچھے فیصلے کئے اور میاں صاحب نے جواب میں کہا کہ مجھ پر ہمیشہ دبائو رہتا ہے۔ میاں صاحب نے کوزے میںدریا بند کر دیا ۔آجکل ڈرون حملے بند ہیں جبکہ دوسری شادی اور ڈرون حملوں کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ پہلی بیوی اور پاکستانی حکومت اپنے گھر پر ’’بیرونی حملے‘‘ کی اجازت نہیں دے سکتیں۔ اجازت کی طرح استعفیٰ دینا بھی آسان نہیں۔ اس کی ایک ہولناک مثال وزیر اعلیٰ سندھ بابا قائم علی شاہ ہیں۔ قبر میں ٹانگیں ہیں مگر اقتدار چھوڑنے سے جان جاتی ہے۔ شیخ رشید نے ڈالر کی قیمت میں کمی پر استعفیٰ دینے کی ’’دھمکی‘‘ دی تھی مگر انہوں نے بھی استعفیٰ نہیں دیا۔ احسن اقبال نے پرویز مشرف کے ملک چھوڑنے کی صورت میںاستعفے کی دھمکی دی ہے، انشأاللہ استعفیٰ وہ بھی نہیں دیں گے۔ مخالفین کا دعویٰ ہے کہ مشرف کا سودا کر دیا گیا ہے اور ڈالر کی گراوٹ کے پس پشت سعودی عرب کی مہربانیاں ہیں۔ مخالفین پوچھتے ہیں کہ حکومت بتائے کس کام کے صلے میں ڈیڑھ ارب ڈالر ملے ہیں۔ پاکستان کا سیاسی منظرنامہ بھی ڈالر کی مانند اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے البتہ عمران نواز ملاقات سے پاکستان کی سیاست میں ایک خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔ عمران نواز کے گھر ہی نہیں ان کے دل بھی محل ہیں، امید ہے کہ عمران خان میاں صاحب کے اقدام کی صرف تعریف ہی نہیں ان کے ساتھ تعاون بھی کریں گے۔ عمران خان کو مشاورت کے لئے بلایا گیا مگر وزیراعظم نے ان کا انتظار کرنے کی بجائے خود ان کے پاس جا کر سیاسی حکمت کا ثبوت دیا۔ یہ معاملہ کسی کی انا یا سیاست کا نہیں بلکہ ملک کی سکیورٹی کا مسئلہ ہے۔ عمران خان کو آن بورڈ لینے کا مقصد فریقین کو اعتماد میں لینا ہے۔ عمران اور نواز ملک کی امید ہیں۔ عمران خان کے بقول وہ اقتدار کے طلبگار نہیں اور میاں نواز شریف کا قبلہ بھی درست ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا ۔۔۔؟ البتہ عمران نواز ملاقات سے شیخ رشید کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔