جالب کی برسی، یادِ ماضی کے کچوکے

کالم نگار  |  سعید آسی
جالب کی برسی، یادِ ماضی کے کچوکے

گذشتہ روز سوشل میڈیا پر اپنے دیرینہ دوست فاروق بیدار کی جانب سے پھیلائے گئے طاہرہ حبیب جالب کے پیغام پر نظر پڑی تو ساتھ ہی یادوں کے بند دریچے کھلتے چلے گئے۔ پیغام میں ہر خاص و عام کو مطلع کیا گیا کہ عوامی انقلابی شاعر حبیب جالب مرحوم کی برسی 12 مارچ کو نہیں بلکہ 13 مارچ 1993ء کو ہے کیونکہ جالب مرحوم کا انتقال 12 مارچ کی شب کے 13 مارچ کی حدود میں داخل ہونے کے بعد ہُوا تھا۔ جالب کے انتقال کی تاریخ میں تو شاید چند گھنٹوں کی گڑبڑ ہوئی ہو گی اور طاہرہ بیٹی کے توجہ دلانے پر اب یہ گڑبڑ بھی دور ہو جائے گی مگر درویش شاعر ساغر صدیقی کے انتقال کی تاریخ میں تو ایک دم دو سال کا گھپلا کر دیا گیا ہے، ان کا انتقال 1976ء کی آخری سہ ماہی میں ہُوا مگر یار لوگوں نے نہ جانے کس مقصد کے تحت 1974ء کو ان کے انتقال کے سال کے طور پر منوا لیا ہے۔ مجھے ساغر مرحوم کے انتقال کا سال اس لئے یاد ہے کہ میں نے 1975ء میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لیا تھا اور 1976ء میں اپنے پرچے ’’سٹوڈنٹ‘‘ کا اجرا کیا۔ 1976ء میں 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر فریدیہ کالج پاکپتن میں کُل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا گیا اور پاکپتن کے میرے احباب نے لاہور سے معروف شعراء کو لانے کی ذمہ داری مجھے سونپی سو میں مظفر وارثی، اسرار زیدی اور ساغر صدیقی کو لے کر پاکپتن آ گیا۔ کالی چادر میں لپٹے بے نیاز ساغر صدیقی نے اس مشاعرے میں اپنی جو نظم سُنائی اس کا یہ مصرعہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے کہ  ؎
ساغر کو دیکھا تو ہو گا
اُلجھے اُلجھے بکھرے بال
آج ہوئے ہیں 29 سال
اس مشاعرے کی روداد میں نے ’’سٹوڈنٹ‘‘ کے ستمبر 1976ء کے شمارے میں شائع کی جس سے ساغر کی وفات کی تصدیق ہو سکتی ہے مگر ان کی وفات کا سال 1974ء منوا لیا گیا ہے تو چلیں یونہی سہی، مگر طاہرہ جالب اب اپنے والد اور ہمارے دوست حبیب جالب کی وفات کی تاریخ 13 مارچ تسلیم کرا کے چھوڑے گی جبکہ جالب سے وابستہ میری یادوں کے دریچے ایسے وا ہوئے ہیں کہ کئی دیدنی، نادیدنی مناظر آنکھوں کے آگے گھومنے لگے ہیں۔
جالب مرحوم سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ 80ء کی دہائی کے اوائل میں ہی 1981ء میں شروع ہونے والی ایم آر ڈی کی تحریکِ بحالیٔ جمہوریت کے دوران شروع ہوا۔ جبر کے اس دور میں لاہور ہائیکورٹ بار کا واحد پلیٹ فارم تھا جو ضیاء آمریت کے مخالفین کی پناہ گاہ اور کتھارسس کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ اس دور سے ہی نوائے وقت کے لئے میری ہائیکورٹ اور اپوزیشن کی رپورٹنگ کی ذمہ داری کا آغاز ہوا جس کے لئے روزانہ ہائیکورٹ آنا ہوتا تھا۔ میاں محمود علی قصوری کے گھر فین روڈ پر ایم آر ڈی تشکیل پائی جبکہ اس میں شامل جماعتوں کے کم و بیش تمام سرکردہ قائدین یا تو جیلوں اور گھروں میں نظربند تھے یا جلاوطن ہو چکے تھے، اس کے باوجود اس پلیٹ فارم پر جرنیلی آمریت کے خلاف بھرپور آواز اُٹھنا شروع ہو گئی۔ ایم آر ڈی کے تقریباً تمام لیڈروں کا لاہور ہائیکورٹ آنا جانا لگا رہتا اور اکثر اوقات ان کی نشستیں ہائیکورٹ بار کے صحن میں برگد کے درخت کے نیچے ہوتیں۔ بہاولنگر سے آئے ہوئے وکیل عبدالرشید قریشی نے اپنا مستقل ڈیرہ بار کے اسی صحن میں کیانی ہال کے سامنے اور شہدائے کراچی ہال کی عقبی دیوار کے ساتھ لگا لیا تھا، یہیں پر حبیب جالب بھی آ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ برگد کے درخت کے عین نیچے ایک ڈیرہ ملک معراج خالد اور لیاقت وڑائچ ایڈووکیٹ کا اور دوسرا ملک محمد قاسم کا بن گیا تھا جہاں پیپلز پارٹی کے عوامی شاعر معظم علی معظم اپنی منڈلی لگائے رکھتے۔ میں نے حبیب جالب کی ’’برگ آوارہ‘‘ کا پہلے ہی مطالعہ کیا ہوا تھا اس لئے ان سے ملاقاتوں کے دوران ان کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی بھی بڑھنے لگی۔ 1983ء کے اختتام پر ایم آر ڈی نے روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریاں پیش کرنے کی تحریک کا آغاز کیا اور گرفتاری کا مقام باری باری ریگل چوک اور لکشمی چوک متعین ہوا۔ حبیب جالب کا اگرچہ ایم آر ڈی کی کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر وہ بھی گرفتاری کے موقع پر ریگل چوک اور لکشمی چوک میں موجود ہوتے۔
یہ گرفتاریاں آسانی کے ساتھ نہیں ہو جایا کرتی تھیں بلکہ گرفتاری سے پہلے پولیس کی جانب سے ’’جائے وقوعہ‘‘ پر موجود ایم آر ڈی کے عہدیداروں اور کارکنوں کی لاٹھیوں، گھونسوں، تھپڑوں اور کارکنوں میں اشتعال پیدا ہونے کی صورت میں آنسو گیس سے خوب آئو بھگت کی جاتی۔ یہ تماشا روزانہ لگا کرتا تھا، اس وقت ’’بیگمات‘‘ کی ایک تنظیم ویمن ایکشن فورم  (خواتین محاذ عمل) جسے عرف عام ’’ویف‘‘ کہا جاتا تھا بیگم طاہرہ مظہر علی خاں کی قیادت میں خاصی متحرک تھی۔ چنانچہ ایم آر ڈی کی ہر احتجاجی تحریک کے موقع پر ’’ویف‘‘ کی ارکان بھی جائے وقوعہ پر نظر آیا کرتی تھیں۔ ایم آر ڈی میں پیپلز پارٹی کے بعد تحریک استقلال سب سے متحرک جماعت تھی جس میں شامل ملک حامد سرفراز، چودھری اعتزاز احسن، بیگم مہناز رفیع، سید منظور علی گیلانی ہائیکورٹ بار کی ہم نشینی سے ریگل و لکشمی چوک تک ایم آر ڈی کی تحریک کی جان بن گئے، زیادہ گرفتاریاں بھی اس جماعت کے ارکان کی ہی ہوا کرتی تھیں اور جالب اس تحریک کے ہر مرحلہ پر خواتین کے حفاظتی گارڈ کی ازخود ذمہ داری ادا کیا کرتے تھے۔ پھر مولانا مودودی مرحوم کے صاحبزادے حیدر فاروق مودودی نے بھی ازخود اس فریضہ کی ادائیگی شروع کر دی۔ ایک موقع پر غالباً 1984ء میں پولیس نے ریگل چوک میں ’’کلاسیک‘‘ کے سامنے ایم آر ڈی کے کارکنوں بشمول خواتین کو گھیرا ڈال کر ان پر وحشیانہ لاٹھی چارج کا سلسلہ شروع کر دیا۔ حبیب جالب اور حیدر فاروق حسب معمول وہاں موجود تھے جنہوں نے خواتین کو لاٹھیوں سے بچانے کے لئے خود کو لاٹھیوں کی زد میں لانا شروع کر دیا مگر پولیس نے بھی اپنی بے رحمی کی روش ترک نہ کی اور بلا امتیاز سب کی دُھلائی کی۔ اسی طرح ایک دن ریگل چوک پر آنسو گیس کے بدترین استعمال پر کئی خواتین بے سُدھ ہو کر گر پڑیں تو حبیب جالب کہیں نہ کہیں سے رومال لے کر پانی میں بھگوتے اور بے سُدھ ہو کر سڑک پر گری ہوئی خواتین کی آنکھوں پر پھیرتے رہے۔ اس تحریک میں پولیس تو وحشی بنی ہی ہوئی تھی، ضیاالحق کے حامیوں کا ایک متشدد گروپ بھی میدان میں آ جایا کرتا تھا جو ایم آر ڈی کے کارکنوں پر باقاعدہ ہلہ بول دیا کرتا تھا۔ 1986ء میں ایم آر ڈی کا ایک احتجاجی جلوس ہائیکورٹ سے نکل کر ریگل چوک کی جانب آنے لگا تو ضیاء حمایت تحریک کے ایک جتھے نے فین روڈ چوک میں اس پر ہلہ بول دیا اور اینٹوں پتھروں کے علاوہ بڑی بڑی لکڑیاں جلا کر جلوس کے شرکاء کی جانب پھینکنا شروع کر دیں اس میں ایم آر ڈی کے کئی کارکن زخمی ہوئے، میں اور حبیب جالب اپنے بچائو کے لئے سامنے کی بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل پر آ گئے تو وہاں حنیف رامے پہلے سے موجود تھے۔ اس روز ضیاء حمایت تحریک کے مشتعل لوگ بھی مارا ماری پر تُلے ہوئے تھے جنہوں نے لکڑیوں کو آگ لگا کر اس بلڈنگ کی اوپر کی منزل کی جانب پھینکنا شروع کر دیا۔ ہم اس دہکتی آگ میں سے کیسے نکل پائے، وہ منظر آج بھی میری نگاہوں کے سامنے آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ سیاسی محاذ آرائی کی فضم میں زندگیاں کیسے دائو پر لگائی جاتی رہی ہیں۔
ایم آر ڈی کی اسی تحریک کے دوران ہمارا ایک ٹھکانہ ریگل چوک پر مسجد شہداء کے سامنے فٹ پاتھ پر بن گیا تھا جہاں شام کو صوبہ خاں ٹیلر سے کرسیاں اٹھوا کر فٹ پاتھ پر لگا دی جاتیں اور کتھارسس کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ اکثر اوقات علامہ احسان الٰہی ظہیر، اے این پی کے فاروق قریشی، سہیل اختر ملک، رئوف طاہر، ذوالقرنین اور کبھی کبھار حبیب جالب بھی شریک ہو جایا کرتے، یہیں سے اُٹھ کر حبیب جالب ریگل چوک سے ویگن پر سوار ہوتے اور اپنے گھر سروبا گارڈن روانہ ہو جاتے، یہ گھر انہیں اعتزاز احسن کی کاوشوں سے حاصل ہوا تھا۔ سروبا گارڈن کا علاقہ دور افتادہ اور بیابان تھا جہاں سے آنا جانا بذاتِ خود ایک مسئلہ تھا مگر سفر کی کٹھنائیوں کے باوجود جالب نے ہائیکورٹ آنے اور ایم آرڈی کے جلسوں جلوسوں میں شریک ہونے کا سلسلہ ترک نہ کیا۔ ایک بار انہوں نے میری معاونت سے صحافیوں کی ایک ٹیم کو سروبا گارڈن کا سروے کرا کے وہاں کے شہری مسائل کو اجاگر کیا۔ جالب کے گھر کا منظر دیکھ کر ان کی کسمپرسی پر افسوس بھی ہوا۔ وہ چاہتے تو حکمرانوں سے مفاہمت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا مستقل سنوار لیتے مگر ’’سٹیٹس کو‘‘ کی مزاحمت ان کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی جو ان کی شاعری میں بھی جھلکتی رہی۔ مجھے فلیٹیز ہوٹل کی ایک تقریب کا منظر بھی یاد آ رہا ہے جس کا اہتمام جہانگیر بدر کے وزیر بننے کی خوشی میں پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے کیا گیا تھا، یہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا پہلا دور حکومت تھا۔ حبیب جالب نے اس تقریب میں اپنی پنجابی کی نظم ’’نہ جا امریکہ نال کُڑے، سانوں تیرا بڑا خیال کُڑے‘‘ سُنانا شروع کی تو پیپلز پارٹی کے جیالوں نے ہی نہیں جہانگیر بدر نے بھی انہیں آڑے ہاتھوں لیا، بعض جیالوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی، میں نے انہیں بمشکل تمام مشتعل ہجوم سے نکالا اور ہوٹل سے باہر لے آیا۔ آج جالب کی 21ویں برسی منائی گئی ہے اور آئندہ سال سے اس برسی کا اہتمام یقیناً 13 مارچ کو ہی ہوا کرے گا۔ مجھے ان کی برسی کے موقع پر ان کے بیٹوں، بیٹیوں میں پیدا ہونے والا افتراق زیادہ کچوکے لگا رہا ہے۔ کاش رخشندہ، طاہرہ اور ناصر جالب اپنے عظیم والد کی عزت و عظمت کی خاطر اپنے تمام اختلافات کو تج دیں۔ معلوم نہیں انہیں یکجا کرنے کی بیرسٹر اعتزاز احسن کی کاوشیں بھی کیوں کامیاب نہیں ہو سکیں۔