آنکھیں میری باقی ان کا اور جنرل ہسپتال

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
آنکھیں میری باقی ان کا اور جنرل ہسپتال

اپنے پڑھنے والوں سے معذرت کہ میں اپنے کالم کے حوالے سے کچھ دنوں سے غیرحاضر ہوں۔ روزانہ کالم لکھنا میری اپنی ضرورت ہے اور شاید کچھ دوستوں کی ضرورت بھی ہو۔ مجھے کئی فون آئے۔ دوستوں سے بھی کئی لوگوں نے پوچھا۔ اخبار کے دفتر میں بھی کئی دوستوں نے رابطہ کیا۔ یہ میرے ساتھ محبت ہے اور میری محبت ان کے ساتھ ہے۔ میں ان لوگوں سے بھی دل میں جگہ رکھتا ہوں جن سے کبھی نہیں مل سکا۔ اور وہ بھی صرف مجھے پڑھتے ہیں۔ مجھے روز کالم لکھتے ہوئے آسانی اور آسودگی کا احساس ہوتا ہے۔ میں کالم نہ لکھ سکوں تو سارا دن بیزاری میں گزرتا ہے۔ میرے خیال میں کالم نگاری سالم نگاری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ جلدی  میں لکھا ہوا ادب Literature in hurry ہے۔ جس کام میں جلدی لگتی ہے نجانے اس کے لئے اندر ہی اندر کتنی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
میں چونکہ فطری طور پر ادیب اور شاعر ہوں۔ میں اس راز کو جانتا ہوں۔ میرا دعویٰ ہے کہ اب کالم ادب کی اہم ترین صنف سخن ہو چکی ہے۔ سب سے زیادہ کتابیں آج کل کالموں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
میں تو لکھنا چاہتا تھا مگر ڈاکٹروں نے منع کر دیا۔ میری آنکھ کے نئے موتیا کا آپریشن دو اڑھائی سال پہلے کنگ ایڈورڈ کالج کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر اسد اسلم نے میو ہسپتال میں کیا تھا۔ وہ ماہر اور دوست آدمی ہیں مگر میری بدقسمتی کہ آپریشن کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے بعد ڈاکٹر اسد اسلم کی دوستانہ لاپروائی  نے اڑھائی سال تک معاملے کو لٹکائے رکھا۔ اسی دوران وہ میرے گھر بھی آئے مگر میں ان کی محبت کا اسیر اور محروم رہا۔ بالآخر اپنے روحانی بزرگ حبیب عرفانی سے گذارش کی۔ انہوں نے مجھے ڈاکٹر زاہد کمال کی طرف بھیجا۔ وہ بھی مزاج کے صوفی آدمی ہیں۔ انہوں نے مجھے ڈاکٹر سعید نیازی سے ملوایا جو پنجاب یونیورسٹی میں آئی سپیشلسٹ ہیں۔ وہ میرے بھائی نکلے۔ بھائی چارہ او رچارہ جوئی اکٹھے ہو گئے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ آنکھ کا قارنیہ (پتلی) کا کچھ حصہ ضائع ہو گیا تھا۔ قارنیہ(پتلی) نئی لگائی جائے گی۔ وہ سری لنکا سے آئے گی۔ سری لنکا کے لوگ اپنے مرنے کے بعد آنکھ کی پتلی دوسرے ضرورت مند زندہ لوگوں کے لئے تحفے کے طور پر آفر کر جاتے ہیں۔ سری لنکا اس کا ایک سب سے بڑا مرکز ہے۔ اس سے ہزاروں لوگوں کا بھلا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر بات کے لئے اسلامی اور غیراسلامی کی بحث چھڑ جاتی ہے۔ ہم الحمدللہ مسلمان عاشق رسولؐ ہیں۔ یہ بنی نوع انسانیت کے لئے بھلائی اور اچھائی کا کام ہے اور ہمارا دین تو خدمت خلق اور فلاح و اصلاح کا سب سے بڑا پرچارک ہے۔
جنرل ہسپتال میں بہت مہربان قابل اور بذلہ سنج ڈاکٹر عبدالحئی نے میرا آپریشن کیا۔ آنکھ کے سب ڈاکٹر یہاں بہترین انسان ہیں۔ ڈاکٹر تو سچائی کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں ڈاکٹر خاقان سے گپ شپ ہوئی۔ اس ہسپتال میں ڈاکٹر حئی اور دوسرے ڈاکٹروں نے مل کر لوگوں کے عطیات اور ڈونیشن سے آئی ڈیپارٹمنٹ کو بہترین بنا لیا ہے۔ یہاں ہر طرح کے آپریشنز ہوتے ہیں۔ غریب لوگوں کا ایک ہجوم یہاں موجود تھا جو سب کے سب مطمئن ہو کے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحئی اپنی بے تکلفی اور شگفتہ گفتاری کی وجہ سے بہت مقبول ہیں۔ ایک مریض آیا اور روپوں پیسوں کی بات کرنے لگا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ہمارے پاس مریض آتے ہیں۔ کسٹمر نہیں آتے۔ میرے آپریشن کے دوران بھی ماحول بہت آسودہ رہا۔ میرے بھائی ڈاکٹر سعید نیازی بھی میرے دونوں بیٹوں احسن خان اور سلمان خان کے ساتھ سارا وقت موجود رہے۔
جنرل ہسپتال تک پہنچتے ہوئے بہت مشکل پیش آئی۔ ڈاکٹر سعید نیازی پریشان تھے کہ ایمرجنسی والے مریض یہاں کس طرح پہنچتے ہوں گے۔ کوئی دو تین کلومیٹر جنرل ہسپتال کے سامنے سے گزر کر یو ٹرن آیا۔ اس کے لئے خادم پنجاب شہباز شریف کو خاص طور پر توجہ کرنا چاہئے۔ جنرل ہسپتال کے اندر گندگی اور آلودگی کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ ماڈل ٹائون جانے کے لئے انڈر پاس بنایا گیا۔ جن دنوں نہر والی سڑک پر انڈر پاس بنائے گئے اور سارے سپیڈ بریکر اور پل وغیرہ گرا دیے گئے تو پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے لئے مشکلات پیدا ہوئیں۔ انہوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ سماجی ورکر اور سابق سٹوڈنٹ لیڈر راجہ منور نے بھی اس سلسلے میں مفاہمانہ کردار ادا کیا۔ ہوسٹلز اور یونیورسٹی کے درمیان نہر کے نیچے انڈر پاس بنائے گئے۔ جنرل ہسپتال تک بھی آسان رسائی کے لئے انڈر پاس بنایا جائے۔ تاکہ مریضوں کے لئے مشکل نہ ہو۔ ہسپتال کی صفائی اور  علاج کی بہتری کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اس حوالے سے برادرم سلمان رفیق نے بڑی محبت کی ہے۔ وہ اس طرح شہباز شریف کی توجہ مبذول کروائیں اور خصوصی دلچسپی لیں۔ خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق نے میری خیریت دریافت کی۔ شکریے کے طور پر میری گذارش ہے کہ دونوں بھائی جنرل ہسپتال کے لئے کچھ کریں۔ جنرل ہسپتال میں آسانی سے مریضوں کی رسائی کے لئے برادرم ناصر اقبال خان نے بھی مجھے آگاہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں ممتاز صحافی افتخار احمد نے بھی کوشش کی تھی۔ اب تو جنرل ہسپتال کے ساتھ میرا ایک تعلق بن گیا ہے۔ یہ بڑا ہسپتال ہے اسے بہت اچھا ہسپتال بنایا جا سکتا ہے۔ یہ غریب بستیوں میں گھرا ہوا ہے۔ جنرل ہسپتال کے ساتھ لوگ امیدوں کے کئی رنگ دیکھتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر حادثوں کی صورت میں دماغی چوٹوں  کے علاج کے لئے اس سے بہتر جگہ کوئی اور نہیں۔ اب آنکھوں کے حوالے سے بھی حیرت انگیز تجربات کئے جا رہے ہیں۔ میں اپنی دوسری آنکھ کی روشنی کی نوید میں ہمیشہ اسے یاد رکھوں گا۔ مجھے برادرم شعیب بن عزیز کی معرفت سے شہباز شریف نے نیک تمنائوں اور پھولوں کا تحفہ بھیجا جس کے لئے میں شکر گزار ہوں اور ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جنرل ہسپتال کے مریضوں کے لئے خصوصی مہربانی فرمائیں اور اسے ایک بہترین شفا خانہ بنا دیں۔ ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز کی انسان دوستی اور مسیحائی کا تو میں خود بھی قائل ہوں۔ انہیں جنرل ہسپتال کی بہتری کا ٹاسک دیا جا سکتا ہے۔
پہلے تو ہم صرف سنتے تھے آج پتہ چلا ہے کہ اس محاورے کے کیا معانی ہیں۔ آنکھیں میری باقی ان کا۔ آنکھیں انسانی وجود میں سب سے خوبصورت چیز ہیں اور اہم بھی ہیں۔ فیض احمد فیض نے سچ کہا تھا
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے
میری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
مگر علامہ اقبال نے تو کمال کر دیا ہے
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
رونا ایک نعمت ہے جو رو نہیں سکتا وہ رونے کا لطف بھی نہیں پا سکتا۔ رونے کی بھی ایک لذت ہوتی ہے۔ لذت گریہ ایک حقیقت اور نعمت ہے۔ کہتے ہیں جس کے ساتھ مل کر ہنسے ہوں اسے بھلایا جا سکتا ہے جس کے ساتھ مل کر روئے ہوں اسے نہیں بھولا جا سکتا۔ آنکھ ہو گی تو رونا بھی میسر ہو گا۔ آنسو جب تک آنکھ سے نکل کر رخساروں پر نہ گریں تو ان کی اصلیت ظاہر نہیں ہوتی۔ آنکھیں میری باقی ان کا۔