پاکستان بچے گا، فوج بھی بچے گی!

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

یقین تو نہیں آتا مگر عاصمہ جہانگیر نے ایک تقریب میں کہا ہے کہ ”اب پاکستان بچے گا یا فوج“۔ میں عاصمہ کو یقین دلاتا ہوں کہ فوج نہ بچی تو پاکستان بھی نہیں بچے گا، عرب امارات کی طرح چند ریاستیں ہوں گی۔ اور وہاں عاصمہ کی کیا حیثیت ہو گی۔ اس کا اندازہ وہ خود کر لیں۔ عرب امارات میں کسی معروف عورت کا نام لیں جو عاصمہ جہانگیر کی طرح ہو، وہاں امریکہ نے جن باتوں کو قبول کیا ہے وہ پاکستان میں امریکہ کے ایجنٹوں کو کیوں قبول نہیں۔ کیا وہاں عاصمہ عورتوں کے حقوق کے لئے کوئی تحریک چلا سکتی ہے۔ قومیں امیر کبیر ضرور ہوں مگر بے ضمیر نہ ہوں۔ مسلمان ملک امریکی غلامی پر رضامند ہوتے ہیں تو یہ زندگی صرف شرمندگی ہے امریکہ سے دشمنی نہیں مگر دوستی بھی نہیں یہ دونوں معاملے عزت مندی کے لئے ہوتے ہیں۔ امتیاز عالم بھی خوب جانتے ہیں کہ کمزور پاکستان کے امتیاز عالم کی یہ حیثیت بھارت میں نہ ہو گی۔ امتیاز کے ساتھ سلام دعا ہے مگر اس نے خود اپنے ذہن سے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ وہ کیا کہہ یا کر رہا ہے۔ کبھی یہی سوچتا کہ بھارت میں ہم وطن بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بھارت کے انتہا پسند ہندو کیا کرتے ہیں جب کہ وہ لوگ صرف برائے نام مسلمان ہیں۔ انتہا پسند مسلمان ہمارے خیال میں پسندیدہ نہیں مگر بھارت کے انتہا پسند ہندو امتیاز عالم کو کیوں پسندیدہ ہیں۔ ؟
رﺅف طاہر نے لکھا ہے کہ وہ مجیب شامی کی تقریر کے انتظار میں تھا۔ انہوں نے بڑے جذبے اور جرا¿ت سے پورے تحمل اور تدبر سے جواب دیا۔ مجیب شامی نے وہی بات کی جو محترم انور قدوائی اور میرے ساتھ دل ونگاہ والے دل و جان سے پاکستان کی بہتری اور بھلائی سوچنے والے سرفراز شاہ صاحب نے کی کہ گھر کا کوئی آدمی اور بچہ بگڑ جائے تو ہم اسے نکال نہیںدیتے۔ گھر کی بات گھر سے باہر نہیں جانے دیتے۔ اس کی اصلاح کرتے ہیں۔ حالات کو خود ٹھیک کرتے ہیں۔ حالات ٹھیک ہونے کے لئے خیالات بھی ٹھیک ہونا چاہئیں۔ فوج میں گڑ بڑیں بھی ہیں۔ اس ملک کے ساتھ سیاست دانوں نے بھی بھلا نہیں کیا۔ فوجی حکومتوں اور سیاسی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں امریکی غلامی میں چلائی جاتی ہیں۔ کرپٹ اور ارب پتی سیاست دانوں اور سیاسی جرنیلوں، سول افسران اور فوجی افسران میں فرق نہیں۔ امریکہ دوست ہے تو اب تک اس ملک کے ساتھ دوستوں کی طرح سلوک کیوں نہیں کیا گیا۔ سیاسی جرنیلوں کی سرپرستی امریکہ نے کی ہے۔ کبھی عاصمہ نے کہا کہ پاکستان میں امریکہ رہے گا یا ہم رہیں گے۔ اس نے کئی عورتوںکے ساتھ زیادتی کے حوالے سے مجھے فون کیا کہ کالم لکھو اور یہ میں تم سے کہہ رہی ہوں کہ تم سے ہی جرا¿ت اور انصاف سے لکھنے کی امید ہے۔ اور میں نے ان کے حکم پر کئی کالم لکھے اور یہ میری عزت افزائی ہے کہ انہوں نے مجھ سے کہا۔ میرے خیال میں عاصمہ کی عزت یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان کے لئے سوچتی ہے۔ یہ جملہ اس کے شایان شان نہیں۔ اس کے باوجود بھی مجھے اس کی نیت پر کوئی شک نہیں۔ مگر میں جانتا ہوں اور شامی صاحب نے اس تقریب میں برملا کہی کہ طے شدہ معاملات کو نہ چھیڑو۔ مخالفانہ ماحول میں جرا¿ت مندانہ بات کرنا کسی لبرل دانشور کے بس کی بات نہیں اور ایک جینوئن مسلمان سے بڑھ کر کوئی لبرل نہیں ہوتا۔ امریکہ کی تابعداری ،اسلام اور پاکستان کی مخالفت ہی لبرل ازم نہیں۔ شامی صاحب نے کہا کہ اسلام کو پاکستان سے اور پاکستان کو اسلام سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ آئین میں سیاسی جرنیلوں سے محفوظ رکھنے کی بات ہے اور پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے سیاسی جرنیلوں کی حمایت بھی سیاستدانوں نے کی اور امریکہ نے ان کی سرپرستی کی۔ جنرل مشرف امریکہ ہی کی امداد سے نو سال پاکستان کا فرعون بنا رہا۔ سیاستدان امریکہ کے کہنے پر اس کے قدموں میں پڑے رہے۔ اب بھی امریکہ کے اشارے پر تمام سیاستدان ناچتے ہیں۔ امریکہ پاکستان میں سیاست، حکومت، صحافت، وکالت اور دین و دنیا کو ذلیل و خوار کرنے کے بعد اب فوج کو بھی بدنام اور ناکام کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ فوج کے خلاف مہم چلا رہے ہیں وہ کس کی مہم چلا رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو عبرت کا نشان امریکہ بنانا چاہتا تھا۔ وہ نہ جہادی تھا، نہ جرنیل تھا مگر وہ سچا پاکستانی نیشنلسٹ تھا۔ اس میں جنرل ضیا ناقابل معافی ہے۔ مگر جن سیاستدانوں اور لبرل لوگوں نے تحریک چلائی۔ ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف امریکہ کے کہنے پر بابائے جمہوریت کی قیادت میں جو مہم چلوائی گئی اس کا نام تحریک نظام مصطفی تھا اب مصطفی کا نام لینے والوں کو پاکستان میں رہنے کا حق کیوں نہیں؟ انہوں نے امریکہ کے اشارے پر یہ کام کیا۔ یہاں اس طرح کے کام امریکہ کرواتا ہے۔ لبرل اور امریکہ کے ساتھی خوش ہوتے ہیں کہ ہم جہاد کر رہے ہیں سیاسی اسلامیوں اور سیاسی ترقی پسندوں نے ایک جیسا کام کیا ہے۔ جہاد کے لفظ سے عاصمہ جہانگیر، امتیاز عالم اور امریکی دوستوں کے ناراض ہونے کا خدشہ ہے۔ جدوجہد کا لفظ ٹھیک ہے مگر اس لفظ کے رشتے بھی جہاد کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ جہادیوں پر اعتراض نہیں کیا جا رہا ہے۔ یہ امریکہ نے بنائے تھے۔ روس کے خلاف یہ کام ٹھیک تھا مگر روس والا کام امریکہ کرے تو اس کے خلاف ٹھیک نہیں۔ جہاد تو پہلے دن سے پاک فوج کا ماٹو ہے۔ نعرہ تکبیر ان کا حلف ہے۔ حلف کی خلاف ورزی چند سیاسی جرنیلوں نے کی ہے۔ اس سے ساری فوج کو کیوں ذلیل کرتے ہو۔ ایک جرنیل کو خود بے نظیر بھٹو نے تمغہ جمہوریت دیا تھا۔ چار سیاسی جرنیلوں کے علاوہ جو جرنیل ہیں ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی حکومتوں پر شب خون نہیں مارا تھا۔ جنرل کیانی نے لوگوں کی نظروں میں شرمسار فوج کے وقار اور اعتبار کو بحال کیا۔ اس نے امریکہ کے لئے بھی بڑی قربانیاں دیں امریکہ اپنے ایسے لوگوں کا انجام بڑا برا کرتا ہے۔ جنرل ضیا نے سب کچھ امریکہ کے کہنے پر امریکہ کے لئے کیا تھا۔ بھٹو کی پھانسی بھی ایسا جرم ہے۔ اس کا کیا حشر کیا گیا۔ جنرل کیانی کو بے عزت کرانے کی مہم امریکہ نے چلوائی ہے۔ ورنہ پہلے تو عاصمہ جہانگیر اور امتیاز عالم فوج کے لئے اس طرح بات نہ کرتے تھے۔ جب جرنیل کسی سیاست دان کی حکومت توڑتے تھے تو سیاست دان کیوں نہ اکٹھے ہوئے۔ تب یہ لوگ کہاں تھے کہتے ہیں تب بھی امریکہ کی کسی اور خدمت کا صلہ ان کو ملتا رہتا تھا۔ نواز شریف کی حکومت ٹوٹی تو وزیراعظم بننے کی خواہش کئی دلوں میں تڑپنے لگی۔ اقتدار کی باریاں مقرر تھیں۔ پورا سسٹم اور ماحول ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت سے دوستی کا پروپیگنڈا کرنے والوں سے میری گزارش ہے کہ تھوڑی سی دوستی پاکستان سے بھی کر لیں۔ بھارت اور امریکہ ناقابل اعتبار ہیں۔ امتیاز عالم اس طرح کا کوئی کام بھارت میں کرکے دکھائیں۔ یہ باتیں پاکستان میں ہی ممکن ہیں کہ پاکستان میں پاکستان کے خلاف جلسے کئے جائیں۔ ایک بار عاصمہ جہانگیر کا ویزا بھارت نے روک لیا تھا۔ میں نے ان سے افسوس کیا تھا۔ تب بھارت کے لئے عاصمہ نے محتاط انداز میں مخالفانہ بات کی تھی۔ بھارت کا کام پاکستان میں ختم ہو لے تو پھر دیکھیں گے کہ بھارت کیا کرتا ہے۔ اور امریکہ نے اپنے دوستوں کو موت اور ذلت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ہم بھی سوچیں کہ معاشی اور سیاسی لحاظ سے بھی طاقتور ہونا ہے اور فوجی لحاظ سے بھی۔ ہر شعبے کا اپنا کردار ہے اور ہمیں بدکردار نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ ، بھارت اور کسی ملک کے لئے معاشی ترقی ضروری ہے اور فوجی ترقی بھی۔ کیا امریکی سیاست میں پینٹاگان کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔
میں نے کل کالم میں لکھا تھا کہ عسکری قیادت تنقید کے لئے خود موقعہ دے رہی ہے۔ فوجی افسران کو سول افسران کی طرح ملک کی بربادی میں حصہ نہیں لینا چاہئے انہیں پاکستان کی فوج بننا ہو گا اور وہ وہ ساری باتیں جس نے فوج کو بدنام کیا، ختم کرنا ہوں گی۔ ایبٹ آباد، نیول بیس کراچی کے واقعات کیا ہیں؟ رینجرز کیا کر رہی ہے۔ ڈی جی جرنیل ہے اسے پہلے دن ہی مستعفی ہونا چاہئے تھا۔ اسی طرح کی صورتحال میں سیاستدانوں اور دوسروں کو بھی جرا¿ت کرنا چاہئے۔ رینجرز شرپسندوں اور شدت پسندوں کی سرپرستی کے لئے شکوک وشبہات کو خود ہوا دے رہے ہیں دہشت گردوں کے لئے عسکریت پسند کی اصطلاح کے کیا معنی ہیں؟ عسکری قیادت سوچے۔! فوج تو ہر ملک میں ہوتی ہے۔ جنرل کیانی اصلاح احوال کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کریں وہ ملک میں بگڑتی صورتحال پر بھی توجہ دیں۔ میں نے کئی بار لکھا ہے کہ سیاست میں اور حکومت میں آئے بغیر فوج کو آئینی حدود میں رہ اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ سیلاب زدگان کے لئے پاک فوج کے کردار کا ہر کوئی معترف ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ فوجی افسران سول افسران کی طرح کیوں بن گئے ہیں۔ کرپٹ اور ارب پتی فوجی افسران کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ سول افسران، پولیس افسران بھی ویسے ہی ہیں۔! بہرحال ہمارے لبرل نوٹ فرما لیں کہ جس طرح شامی صاحب نے کہا ہے کہ اسلام اور پاکستان لازم وملزوم ہیں اسی طرح پاکستان اور اس کی مجاہد فوج لازم و ملزوم ہیں کیونکہ ہمارا دشمن ازلی دشمن بھارت ہے جو سمجھتا ہے کہ پاکستان بننے سے بھارت ماتا کے دو ٹکڑے ہو گئے ہیں اسے پھر ایک ہونا چاہئے! بھارت ماتا!