اب تو رونے کی اجازت بھی نہیں!

کالم نگار  |  خالد احمد

دنیا کے قدیم ترین جہازران اور حساب دان تاجروں کے ملک لبنان نے ایک بار پھر سر اٹھایا اور بیروت آہستہ آہستہ مشرقِ وسطیٰ کا ’مالیاتی مرکز‘ بن بیٹھا، تو، اسلحہ کے بل پر معیشی سیادت کے مدعی آگے بڑھے اور ’مشرق وسطی کاہیرا‘ جلا کے راکھ کر دیا! کوئلہ بھئی نہ راکھ! عراق نے لبنان پر آتش و آہن کی اسرائیلی بارش سے سبق سیکھا اور مشرق وسطیٰ کی سب سے مضبوط فوج کھڑی کر لی، ایران عراق جنگ کا در وا کیا، دونوں اطراف سے تیرہ، تیرہ، چودہ، چودہ سال کے بچے تک آتش وآہن کے کھیل مےں کود پڑے! ایران اور عراق امریکہ کے اہداف تھے! عراق پر امریکہ اور برطانیہ حملہ آور ہوئے تو امریکی بہت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھے، حتیٰ کہ جناب صدام حسین تو ان کے ہاتھ لگ گئے مگر ’عراقی سرفروش‘ ابھی تک کسی کے ہاتھ نہیں آسکے! بڑے بڑے سروں والے سرفروش تو امریکی حملے کے دوران ہی تتربتر ہوگئے اور ہم سایہ ممالک کے راستے ’امریکا‘ پہنچ گئے! ’عراق‘ کے بعد ’لبنان‘ ایک بار پھر خبروں مےں جلوہ گر ہوا، بیروت پر آتش و آہن کی اسرائیلی بارش سہتے لبنانی وزیراعظم نے قوم سے خطاب کے دوران ’اسرائیلی سفاکی‘ کے شکار بچوں، بچیوں اور ان کی ماﺅں کا تذکرہ چھیڑا تو ان کی آواز ’رندھ گئی اور پھر آنسوﺅں کی نہروں نے ان کے گالوں پر رستے بنا لیے! ایک طرف دنیا ان کی فریاد کی تاب نہ لا سکی تو دوسری طرف حزب اللہ، ’ازکار رفتہ راکٹ‘ اٹھا کر اسرائیل پر چڑھ دوڑی اور دنیا مےں سکون ہوگیا! لبنانی وزیراعظم کی رقت آمیز اور رقت انگیز تقریر پر پاکستان مےں پہلا ’ردعمل‘ پاک فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے آیا تھا، ’ہم پاکستانی وزیراعظم پر یہ ’رقت‘ کبھی طاری نہ ہونے دیں گے!‘ حالانکہ جناب شوکت عزیز سے ان کے جذباتی ردعمل کی توقع رکھنا ہی عبث تھی! آج بھی جناب پرویز مشرف کبھی کبھی اپنی عقل کا ماتم کرتے اور سر پیٹتے نظر آ جاتے ہےں مگر جناب شوکت عزیز ابھی تک اپنے اثاثوں کی حقیقی مالیت کے اعدادوشمار کی ترتیب سے ہی فرصت نہیں پا سکے! ایک مضبوط معیشت کی حفاظت کے لئے ایک مضبوط دفاعی نظام بھی درکار ہوتا ہے اور ایک مضبوط دفاعی حصار کے قیام اور استحکام کے لئے ایک مضبوط معیشت درکار ہوتی ہے! مگر یہ بات نہ ضیاءالحق سمجھے نہ مشرف کے دماغ مےں آسکی! وہ ’ببل اکانومی‘ اور ’ارتقا پذیر معیشت‘ کے درمیان فرق نہیں کر سکے!
جناب جاوید ہاشمی کی رقت خیز تقریر نے پوری قوم کا دل پگھلا دیا پنجاب پولیس، پاکستان رینجرز پنجاب، سندھ پولیس، پاکستان رینجرز سندھ، بلوچستان پولیس اور پاکستان رینجرز بلوچستان، امن عامہ قائم کرنے کے لئے میدانِ عمل مےں کود پڑے ہےں اور اپنے وضع کردہ اصولوں پر قانون نافذ کر رہے ہےں! پوری دنیا کی نگاہیں ہم پر لگی ہےں! ہمیں بھی اب ہوش کے ناخن لینا چاہئیں! پولیس ’اندرون ملک‘ خاص طور پر دیہی علاقوں مےں اپنے اختیارات کس طور استعمال کر رہی ہے؟ رینجرز کس طور پولیس کے ہاتھوں مےں کھیل رہے ہےں؟ فوجی اور نیم فوجی اہل کار شہری اہل کاروں سے اسی لیے دور رکھے جاتے ہےں کہ اچھائی کبھی برائی کی طرف سفر نہیں کرتی البتہ برائی اچھوں مےں سرایت کرتے دیر نہیں لگایا کرتی! یاد رکھیں ’لبنان‘ ڈھانے کے لئے لبنان کے اندرونی محاذ پہلے کھولے گئے تھے! اور اسرائیلی آتش و آہن کی بارش بعد مےں بھیجی گئی تھی! ہمارے خیال مےں ہمارے یاد رکھنے کی بات اتنی ہی ہے!
جناب لیون پنیٹا، تو دہشت گردوں سے ہمارے سکیورٹی اہل کاروں کے روابط کے ثبوت کے ساتھ ساتھ شمالی اور جنوبی وزیرستان مےں بارودی سرنگیں اور بم بنانے کے کارخانوں کی تفصیلات بھی فراہم کر کے اسلام آباد سے واشنگٹن روانہ ہوگئے تو افغان صدر جناب حامد کرزئی اسلام آباد آپہنچے اور اب کابل سے خبر آئی ہے کہ پاکستان ’افغانستان پر حملہ‘ کرنے والے اور ’امن مذاکرات‘ مےں شرکت سے گریزاں طالبان کے خلاف قدم اٹھانے پر رضامند ہوگیا ہے، افغان ایوانِ صدر کے ترجمان جناب وحید عمر کے مطابق چند ’طالبان راہ نما‘ امن عمل مےں شریک کئے جا سکتے ہےں مگر ابھی تک کسی گروپ کے ساتھ ’مذاکرات‘ کا عمل شروع نہیں کیا گیا! البتہ، افغانستان کے 7حصوں کا کنٹرول افغان سکیورٹی فورسز جلد سنبھالنا شروع کر دیں گی!
اسلام آباد سے ایک خبررساں ادارے نے اطلاع فراہم کی ہے کہ صدر بارک اوباما نے رواں سال کے دوران اپنا مجوزہ دورہ¿ پاکستان منسوخ کر دیا ہے! جبکہ ہمارا خیال ہے کہ وہ ایک بار پھر ترکی، افغانستان، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ’ویت نام‘ تک ضرور مار کریں گے اور یہ دورہ ان کی انتخابی مہم کے لئے بہت ’کارگر حصے‘ کے طور پر ’یادگار نتائج‘ ساتھ لے کر ان کے ساتھ واپس امریکہ پہنچے گا!
پاکستان کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ زمین مےں دبے پرانے اور ناکارہ بم پھٹنے لگے ہےں! غریبوں پر جینا محال تر ہو رہا ہے! اور چار کنال سے زائد رقبے پر محیط ’فارم ہاﺅسز‘ پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے جبکہ ’فارم ہاﺅسز‘ چار کنال سے کم ہوتے ہی نہیں، زائد ہوں تو وہ چار چار کنال کے دو فارم ہاﺅسز ہوتے ہےں اور ان کی ملکیت شوہر اور بیوی کے نام پر الگ الگ رجسٹر ہوتی ہے! ہمارا خیال ہے کہ ظالمانہ نظام سے جان چھڑانے کے لئے ’میاں بیوی‘ ایک ہی ’اقتصادی یونٹ‘ کے طور پر پہچانے جانا بہت ضروری ہےں، ہمیں پہلے یہ قدم اٹھانے کی جرا¿ت کرنا ہوگی! رہ گئی، ’وسائل کی منصفانہ تقسیم‘ تو، وہ ہم پھر کسی اور مناسب وقت پر کر ہی لیں گے! فی الحال ہمیں اپنی بے کسی پر رونے یا چپکے چپکے ’رو لینے‘ کی اجازت درکار ہے! مگر کیا کیجئے! ع
اب تو رونے کی اجازت بھی نہیں!!