گیلانی کابینہ میں امریکی پالیسیوں پر عمل کرنیوالے وزراء

صحافی  |  رفیق ڈوگر

ہمارے چیف ایگزیکٹو سید یوسف رضا گیلانی صاحب کے جو بھی وزیر مشیر صاحبان ہیں وہ صدر مکرم کی عطاء ہیں۔ ان کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر‘ اعظم خاں سواتی کے حوالے سے ہم نے ایک بیان پڑھا تھا کہ ’’امریکہ پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ادارے تباہ کرنے کا خواہشمند ہے اور بعض وزراء امریکی پالیسی کے تحت پاکستان کی تباہی پر عمل پیرا ہیں۔‘‘ ان کا یہ انکشاف امریکہ ہی کے خبریں دینے والے ایک ادارے کو دئیے انٹرویو کے حوالے سے شائع ہوا تھا۔ سی پی او لاہور پرویز راٹھور نے 10 اپریل کو انکشاف کیا تھا کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اور مناواں کے پولیس ٹریننگ سکول پر دہشت گردوں کے حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے مشیر داخلہ نے اگلے ہی روز اتنے اعلیٰ تحقیقاتی افسر کے ٹھوس ثبوتوں کو مسترد کرنے کیلئے باقاعدہ پریس کانفرنس کا سہارا لیا تھا لیکن اعظم خاں سواتی کے انکشاف کی نہ ایوان صدر کے کسی ترجمان نے تادم تحریر صفائی دی ہے اور نہ ہی ساری سول انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مالک و مختار نے کوئی پریس کانفرنس کی ہے۔ اس بارے میں سید یوسف رضا گیلانی تو اس وجہ سے قوم کو حقیقت حال سے آگاہ نہیں کر سکے ہوں گے کہ وہ خود بھی تو صدر مکرم کے ہی بنائے اور بنوائے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہیں ان کی کابینہ میں ان کی حکمران پارٹی کے جو بھی اور جتنے بھی وزیر ہیں وہ بھی انہیں اور قوم کو صدر مکرم نے ہی عطا کئے ہوئے ہیں مگر کابینہ کے ایک رکن کا اپنے ساتھی بعض وزراء کے بارے میں اتنا اہم انکشاف اور ایوان صدر قوم کو کوئی بات بتائے ہی نا؟ پاکستان کے عوام کی منتخب قومی اسمبلی کا اجلاس رواں دواں ہے ملک کی آزادی خودمختاری سلامتی اور ان سے متعلقہ اداروں کا تحفظ اس اسمبلی اور پارلیمنٹ کے ہر رکن کا دینی اور دنیاوی فرض ہے کیا کوئی رکن اسمبلی اپنا یہ فرض پورا کرے گا؟ پوچھے گا ایوان میں کھڑے ہو کر کہ وہ کون وزیر ہیں جو اس ملک کے عوام کے خرچ پر اس کے دشمن میاں خرالزماں کی پالیسیوں کو کامیاب بنا رہے ہیں جو پاکستان کی تباہی پر عمل پیرا ہے؟ عام نہیں تو بہت سے خاص ارکان بھی تو موجود ہیں اس اسمبلی اور پارلیمنٹ میں۔ ایوان میں دوسری بڑی پارٹی کے ارکان اور قائد حزب اختلاف ہیں اہل (ق) ہیں مولانا فضل الرحمان کے اہلِ اسلام ہیں سینٹ میں جماعت اسلامی کی باقیات حضرات ہیں۔
بہت سے ہیں اہل درد و دل اس اسمبلی اور پارلیمنٹ میں سال رفتہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کے بعد ملک کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے پالیسی تیار کرنے کیلئے جو پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی تھی اکتوبر سے مارچ‘ اپریل تک کی محنت شاقہ و فاقہ کے بعد اس کمیٹی نے اپنی سفارشات بھی ہفتے میں قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہیں۔ ان سفارشات پرغور و فکر کر کے ملک کی سلامتی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کیلئے اس رواں اجلاس میں پالیسی ساز بحث و مباحثہ بھی ہونا ہے کیا اس مباحثہ میں پاکستان کے خرچ پر پاکستان کو تباہ کرنے کی امریکی پالیسیوں پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بھی تحقیق و تفتیش کی کرائی جائے گی؟ اگر نہیں تو کیسے کر سکے گی ملک کی منتخب پارلیمنٹ ملک کی سالمیت آزادی اور خودمختاری کا دفاع؟ وہ اس رپورٹ کی سفارشات کے مطابق داخلہ خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کی حدود و قیود تیار بھی کر لے تو بھی ان نئی پالیسیوں پر عمل تو کابینہ کے ارکان نے ہی کرنا کرانا ہے۔ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے ارکان اپنے اسلامی اور جمہوریہ ہونے کا ثبوت دیں گے؟ اپنے اور اس ادارے کے وجود کا جواز اور ثبوت فراہم کریں گے جس کے وہ منتخب معزز اور باوقار ارکان ہیں؟ ایک سال کی اپنی عمر پوری کر چکنے کے باوجود پارلیمنٹ اپنی آزادی اور خود مختاری بحال نہیں کرسکی اب بھی صدر مکرم کی اجازت یا مرضی سے ہی اس نے میثاقِ جمہوریت کو اپنا دستور حکمرانی بنانے کی قرارداد منظور کی ہے۔ کیا اپنے قائد ایوان کی کابینہ میں پاکستان کی پالیسیوں پر عمل کرنے والے اور اس کی تباہی کی امریکی پالیسیوں پر عمل پیرا وزراء کی شناخت پریڈ کیلئے بھی انہیں صدر مکرم کی اجازت کی ضرورت تونہیں ہوگی؟ ہمارے خیال میں میاں برادران کی لیگ اور چودھری برادران کی جماعت کے ارکان کو تو اس بارے میں صدر کی اجازت کی کوئی مجبوری نہیں ہونا چاہئے۔ اندازہ تو یہ بھی ہے کہ اس آزادی میں انہیں آزاد عدلیہ کا اس کی حامی کالا کوٹ برادری کا سول سوسائٹی کا پریس کا اور پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کا بھی بھرپور تعاون حاصل ہوگا۔ ہاں این جی او خواتین و حضرات کا معاملہ الگ ہے جس کا کھانا اسی کا گانا ان کی پیدائشی مجبوری ہے۔ جس بھی کسی کے پائوں اس کے پیٹ میں ہوں وہ سینہ تان کر گردن اٹھا کر کب کبھی چلنے کے قابل ہوا ہے؟ وہ تو پیٹ کے بل رینگا ہی کرتا ہے۔ کیا ہماری قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ اور ان کے ارکان سینہ تان کر گردن اٹھا کر کھڑے ہو سکیں گے؟ دیکھتے ہیں۔ !