سیاسی مفاہمت میں غیر سیاسی مزاحمت

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

بھٹو صاحب جب بھارت سے جنگی قیدیوں کو لانے اندرا گاندھی سے مذاکرات کرنے جا رہے تھے تو پہلے انہوں نے اپنے لیڈروں سے بات کی تھی۔ یہ ہوتی ہے مفاہمت پالیسی کہ بھٹو کو الوداع کہنے جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد بھی آئے تھے اور بھٹو 90 ہزار قیدی چھڑا کے لے آئے۔ اندرا نے ہی مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنایا تھا۔ بھٹو نے کہا کہ او مائی اندرا ہم بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک لڑیں گے۔ بعد میں بھٹو نے ہی بھارت کے ایٹمی پروگرام کے مقابلے میں اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا۔ اب بھٹو کے جانشین میدان میں سر جھکائے کھڑے ہیں۔ 1973ء کے آئین پر سارے اپوزیشن لیڈرز کے دستخط تھے۔ خان عبدالولی خان مولانا مفتی محمود اور حاصل بزنجو۔ 1973ء کا آئین آج بھی پاکستان میں جمہوریت کا ضامن ہے۔ بھٹو کے عدالتی قتل کے خلاف سیاستدان اور عوام اٹھ کھڑے ہوتے تو پھر بھٹو کی بیٹی دو دفعہ کیوں توہین آمیز طریقے سے ہٹائی جاتی۔ دو دفعہ نوازشریف نے بھی یہ سزا بھگتی۔ اس کے بعد نوازشریف جلاوطن ہوئے اور بینظیر بھٹو کو گولی لگی۔ نوازشریف نااہل ہوئے اور شہباز شریف کی حکومت گئی۔ صدر زرداری صرف چند مہینوں کے بعد اتنے نامقبول کیوں ہوئے۔ جو کچھ جرنیل صدر کیلئے آٹھ نو برسوں کے بعد ہوتا ہے وہ ایک منتخب سویلین صدر کے ساتھ آٹھ نو مہینوں میں ہو گیا۔ ایوب کتا ہائے ہائے اور گو مشرف گو کے بعد صدر زرداری کو بلڈی سویلین صدر بنا دیا۔ 1977ء میں سیاسی مفاہمت کے بعد غیر سیاسی مزاحمت کو جمہوری لوگوں نے کیوں قبول کر لیا۔ مفاہمت کے اندر مزاحمت ہوتی ہے اور مزاحمت کے اندر مفاہمت ہوتی ہے مگر اسے اندر ہی رہنا چاہئے۔ ہمارے جلدباز اور بے صبرے سیاستدان فوراً ہی سب کچھ باہر لے آتے ہیں۔ بھٹو بھی باہر آ گئے تھے مگر اب تو نظریہ ضرورت اور نظریہ مفاہمت میں کوئی فرق نہیں رہا۔ آزاد عدلیہ میں بھی نظریہ ضرورت نے نظریہ مفاہمت کی جگہ لے لی ہے۔ صدر زرداری پر تو آج کل مفاہمت بی بی چھائی ہوئی ہے۔ جیسے بی بی ان کے اعصاب پر سوار ہے۔ زندہ ہے بی بی زندہ ہے۔ فرزانہ راجہ کا کمپلیکس ہے کہ وہ بی بی کی ہمشکل ہے؟ صدر زرداری نے ججوں کو نوازشریف کے ساتھ معاہدے یعنی مفاہمت کے نتیجے میں بحال نہ کیا تو اب کس کے ساتھ معاہدے اور مفاہمت کے بعد بحال کئے جا رہے ہیں۔ ایک ریٹائرڈ جج کے بحال ہونے پر کسی وکیل لیڈر نے کہا کہ یہ تو بے حال کر دینے والی بات ہے۔ جسٹس شاہد صدیقی بے چارے لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر تھے۔ ایک محفل میں پورا ہال ان کے احترام میں کھڑا ہو گیا۔ مگر وہ اس وقت پریشان ہو گئے جب انہیں جناب احسن بھون کے ایک قریبی وکیل نے مبارکباد دی۔ احسن بھون لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر ہوتے ہوئے جج بنے تھے۔ یہ سب کچھ صدر زرداری کی مفاہمت پالیسی کا کیا دھرا ہے۔
پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سب شرکا نے کہا کہ ہم پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ حکومت نہیں بنائیں گے کیونکہ ہم حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کے اجلاس میں جاوید ہاشمی نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ زرداری صاحب کو صدر زرداری مانتے ہیں۔ پورے مجمعے نے ہاتھ اٹھا کے کہا کہ ہم نہیں مانتے بلکہ انہوں نے شہباز شریف کی طرح ترنم سے کہا۔ ہم نہیں مانتے ہم نہیں مانتے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے مخدوم گیلانی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ آپ ہمارے وزیراعظم ہیں اور زرداری صاحب ہمارے صدر ہیں۔ صدر زرداری بھی وہ سب کچھ کئے جاتے ہیں جس کی توقع شریف برادران نے صرف مخدوم گیلانی سے باندھ رکھی ہے۔ صدر زرداری نے وفاق میں ن لیگ کی شمولیت کیلئے ساری باتیں کر ڈالی ہیں۔ بشریٰ رحمن نے خوبصورت کالم میں لکھا ہے کہ آخر مسلم لیگ (ن) مرکز میں وزارتیں لے گی۔ مفاہمت کی بات صدر زرداری مخدوم گیلانی سے کروا رہے ہیں۔ جو کام صدر زرداری مفاہمت میں لینا چاہتے ہیں وہی کام شریف برادران مزاحمت کے ذریعے لینا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں کام ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا کچھ بگاڑ نہیں سکی۔ پھر بھی وہ پنجاب میں وزارتیں لینے کو بے قرار ہے۔ گناہ بے لذت میں اتنا تو پتہ ہوتا ہے کہ یہ گناہ ہے۔ پھر بھی مسلم لیگ (ن) نے فارورڈ بلاک کو یونیفکیشن بلاک بنا لیا ہے۔ کسی ستم ظریف نے کہا کہ یہ صرف عطا مانیکا کو سبق سکھانے کیلئے کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر جاوید ٹھیک ہے کہ کسی بات پر بولے گا نہیں۔ دوست محمد کھوسہ کو چیف منسٹر بنایا جا سکتا ہے تو یہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
کسی کو یہ وہم نہ رہے کہ لوٹا بھی لیڈر بن سکتا ہے۔ منظور وٹو نامنظور۔ مانیکا کے چیئرمین بن جانے پر کہا گیا کہ یہ مفاہمت پالیسی ہے وہ قبول کرے نہ کرے دونوں طرح معاملہ اپنے ہاتھ میں رہے گا۔ صدر زرداری تھلے لگا ہوا ہے اور شریف برادران کو پرواہ ہی نہیں۔ مفاہمت یہ ہے کہ اب صدر زرداری کی کسی بات کا شکریہ بھی ادا نہیں کیا جاتا۔ جو کچھ وہ دھڑا دھڑ کئے جا رہے ہیں۔ شکریہ مخدوم گیلانی کا اور اس طرح کہ شوکت خانم کیلئے لوگ عمران خان کو چندہ دیتے تھے اور وہ چاہتا تھا کہ شکریہ بھی وہی ادا کریں۔
مخدوم گیلانی پنجاب کے سرائیکی علاقے کے ہیں۔ یہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ مفاہمت کے کتنے فائدے ہیں۔ وہ دوہری مفاہمت کر رہے ہیں۔ ایک مفاہمت صدر زرداری کے ساتھ اور دوسری شہباز شریف کے ساتھ چل رہی ہے۔ صدر زرداری بھی یہ کھیل مخدوم گیلانی کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور جو شریف برادران کے ساتھ کھیل رہے ہیں اس کیلئے بھی گیند مخدوم گیلانی کی طرف پھینک دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ یہ مفاہمت بالکل ایسی ہے جو امریکہ کی پاکستان کے ساتھ ہے۔ اس سے صدر زرداری کو اتفاق ہے اور اختلاف نوازشریف کو بھی نہیں ہے۔ امریکہ کے ایلچی صدر زرداری کے علاوہ مخدوم گیلانی کے ساتھ ملتے ہیں۔ وہ شریف برادران سے بھی ملتے ہیں۔ وہ تو آرمی چیف جنرل کیانی سے بھی ملتے ہیں۔ نئی مفاہمت میں ان کا بہت ہاتھ ہے۔ امریکی پاکستان سے سیدھے بھارت جاتے ہیں۔ پاکستان میں کسی سیاستدان کو امریکہ یا بھارت کے خلاف بات کرنے کی مجال نہیں۔ رچرڈ ہالبروک کے اس بیان پر ہمارے لیڈر خاموش ہیں۔ ’’بھارت خطے کا لیڈر ہے‘‘ آخر میں ایک ’’مفاہمتی‘‘ جملہ کہ نظام عدل کا معاہدہ سوات صدر زرداری نے پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے۔ اس پر فوزیہ وہاب گرج رہی تھی اور اقبال ظفر جھگڑا برس رہا تھا۔ یہ کوئی نئی مفاہمت پالیسی ہے؟