کرکٹ بورڈ کے شعبہ میڈیا و مارکیٹنگ کا کیس نجم سیٹھی کی خدمت میں!!!!

کالم نگار  |  حافظ محمد عمران
کرکٹ بورڈ کے شعبہ میڈیا و مارکیٹنگ کا کیس نجم سیٹھی کی خدمت میں!!!!

بحثیت قوم ہم نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اقوال، ہدایات اور نظریے سمیت تمام اہم چیزوں کو نظرانداز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے آج بھی ہم قائد اور اقبال کا پاکستان ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ ہر پرانا حکمران جب نئی حکومت بناتا ہے تو وہ قائد سے کیا گیا ہر عہد توڑنے میں ذرہ برابر بھی دیر نہیں لگاتا۔ ہم نے ناصرف بابائے قوم کی ہدایات اور فلسفے کو پس پشت ڈالا بلکہ جہاں جہاں قائد و اقبال کا نام لگتا ہے وہاں ہماری توجہ زیادہ ہونے کے بجائے کم ہوتی جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال قائد اعظم ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس اہم ٹورنامنٹ کو سر سے ہی اتارتا ہے۔ قائد کے خطاب سے منسوب اور اہمیت کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے کہ اس ٹورنامنٹ کی بھرپور تشہیر کی جائے، میڈیا کوریج کا بہترین انتظام کیا جائے، جہاں تک میڈیا ڈیپارٹمنٹ کا تعلق ہے وہ چوبیس گھنٹے میں ایک مرتبہ سکور کارڈ بھیج کر سمجھتا ہے کہ اسکی ذمہ داری پوری ہو گئی ہے۔ کرکٹ بورڈ کے بھاری بھر کم میڈیا و سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے افراد بیرون ملک دوروں پر تو نظر رکھتے ہیں لیکن ملک کے سب سے اہم ایونٹ پر انکی عدم توجہ نے ناصرف اس شعبے کے ذمہ داران کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ اہم امور میں عدم دلچسپی کو بھی واضح کر دیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ کم از کم ہر روز کھیل کے آغاز، لنچ اور دن کے اختتام تک تمام میچز کی اپڈیٹس سمیت نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ اور قومی ریکارڈز قائم کرنیوالوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں لیکن بہت زیادہ کام کرنیکے دعویداروں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ یہ کام کر سکیں۔ کرکٹ بورڈ کے میڈیا اور سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ والوں نے قائد اعظم کے اردو والے کام کام اور بس کام کو انگلش والا calm سمجھ لیا ہے اور اسی پر عمل کر رہے ہیں۔ نوجوان سپورٹس جرنلسٹ فرحان نثار اپنے شوق سے ملک کے مختلف سنٹرز میں ہونیوالے قائداعظم ٹرافی کے مقابلوں کی اپڈیٹس اور ریکارڈز روزانہ کی بنیاد پر شائقین تک پہنچا رہے ہیں وہ یہ کام ڈومیسٹک کرکٹ سے محبت میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن مجال ہے لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ممبران کو اتنی فرصت ہو کہ وہ بھی کچھ کریں خود حرکت نہیں کر سکتے تو فرحان نثار سے معلومات لیکر اپڈیٹ کریں۔ لیکن بدقسمتی سے ٹاپ لیول کے لوگوں کی عدم دلچسپی کی بیماری نیچے تک نیچے آتے آتے لاعلاج مرض کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ آپ کسی سے بات کریں وہ کام نہ کرنے درجنوں مسحورکن عذر پیش کرے گا لیکن اکیلے فرحان نثار کی کاوش ہر عذر کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو راستہ نکل ہی آتا ہے۔ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری نہیں وہ فرسٹ کلاس کرکٹر کی بہتر کوریج کا بندوبست کرے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سپانسرز کو قائل کیا جائے، کچھ میچز کو براہ راست نشر کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ہم اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ قائداعظم ٹرافی ٹورنامنٹ کو اتنی اہمیت نہیں دیتا جتنی اہمیت دینی چاہیے۔ کبھی مارکیٹنگ کے حوالے سے بات ہوتی ہے کہ اس ایونٹ کی مناسب مارکیٹنگ نہیں کی جاتی اور تو اور اس اہم ترین ایونٹ کے بغیر سپانسر شپ کے کھیلے جانیکی خبریں قارئین تواتر سے پڑھ رہے ہونگے۔ کیا پی سی بی مارکیٹنگ ٹیم کی ذمہ داری صرف پاکستان سپر لیگ ہی ہے کیا وہ صرف تین ہفتوں اور ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کے لیے ہی سپانسر شپ حاصل کر کے سمجھتے ہیں کہ انکی ذمہ داری پوری ہو گئی ہے۔ سب سے اہم ٹورنامنٹ کیا شعبہ مارکیٹنگ کی ذمہ داری نہیں ہے؟؟ یہی مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ گذشتہ کئی برس سے علاقائی ٹیموں کے لیے سپانسرز ڈھونڈنے میں ناکام رہا ہے۔ اگر اس شعبے کے ذمہ داران یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ٹیم کے لیے سپانسرز شپ حاصل کر کے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیتے ہیں تو حال ہی میں پاکستان سپر لیگ کی ایک فرنچائز کا ہونیوالا اقسط درجے کا ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام انکی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

قائداعظم ٹرافی میچوں کو براہ راست نشر کرنے کے حوالے سے ایک عرصے سے بحث جاری ہے لیکن کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہو سکی اس معاملے میں واضح طور کرکٹ بورڈ کا مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ ناکام نظر آتا ہے۔ فارمیٹ کے ساتھ بار بار چھیڑ چھاڑ کیوجہ سے بھی مسائل سامنے آتے رہے ویسے اس معاملے میں اب مستقل مزاجی نظر آتی ہے کہ یہ تیسرا سال ہے اور فارمیٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ گیند کونسا استعمال کیا جائے،کیسی پچز تیار کی جائیں امپائرنگ کا معیار کیسے بلند کیا جائے، ٹاپ کرکٹرز کی شمولیت کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ ٹیموں کی سلیکشن کے نظام کو کیسے شفاف بنایا جائے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ برسوں گذرنے کے بعد بھی آج کے جدید دور میں بھی سلیکشن کا عمل شفاف نہیں ہو سکا۔ کھلاڑیوں کا انتخاب پسند نا پسند، علاقائی تعصب اور سفارش کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس اہم کرکٹ پر تنقید کرنیوالے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں نے کبھی چار روزہ میچ دیکھنے کے لیے گراونڈ جانے میں دلچسپی کا مظاہر نہیں کیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بیرون ممالک جا کر قومی ٹیم کے میچز دیکھنے کے لیے کوششیں کرنیوالے تنخواہ دار قومی سلیکشن کمیٹی کے اراکین کو بھی قائد اعظم ٹرافی کے میچز دیکھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔
ویسے بھی ان دنوں قائد اعظم ٹرافی میں اچھے مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ علاقائی ٹیمیں محکمہ جاتی ٹیموں کا ناصرف اچھا مقابلہ کر رہی ہیں بلکہ کامیابیاں بھی حاصل کر رہی ہیں۔ چند ایک مقامات سے نامناسب پچز کے حوالے سے اطلاعات موصول ہو رہی لیکن مجموعی صورتحال اچھی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ بہتر مارکیٹنگ، مناسب تشہیر اور بہتر میڈیا پالیسی کے ذریعے ہم چار روزہ کرکٹ کو عوامی سطح پر مقبول بنا سکتے ہیں۔
اس ٹورنامنٹ کو ملک کا سب سے بڑا معتبر اور اہم ٹورنامنٹ قرار دیا جاتا ہے۔ حقیقی معنوں میں ایسا ہی ہے یہی وہ کرکٹ ہے جہاں سے اچھے باصلاحیت، مضبوط اقر فٹ کھلاڑی ٹیم میں جگہ بناتے ہیں۔ اسی سطح سے کرکٹرز کے کھیل میں پختگی آتی ہے۔ وہ رنز کرنے اور وکٹیں حاصل کرنے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ دباو کو برداشت کرنے اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کا فن سیکھتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا بانی پاکستان کے خطاب کی لاج رکھتے ہوئے اس ایونٹ کے بارے اپنا رویہ سوچ اقر کام کرنے کا انداز بدلیں گے۔ اگر نہیں بدلیں گے تو ایک دن وہ خود ہی بدلے جائیں گے جیسا کہ ان سے پہلے والے بدلے گئے۔
ان چند مثالوں اور حوالوں کے ساتھ ہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے دو اہم شعبوں کی کارکردگی بورڈ چئیرمین نجم عزیز سیٹھی کے سامنے رکھتے ہیں وہ ایک کامیاب ایڈمنسٹریٹر سمجھے جاتے ہیں براہ راست انکی نگرانی میں کام کرنیوالوں کے بارے سب سے اہم بہتر اور میرٹ پر فیصلہ وہی کر سکتے ہیں۔ بہتر فیصلے کے لیے آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہوتی ہیں کیا سیٹھی صاحب ایسا کر پائیں گے؟؟؟؟؟