غریب کی ماں کہاں جائے۔۔۔۔۔؟

غریب کی ماں کہاں جائے۔۔۔۔۔؟

عمران خان کی ماں کو کینسر تھا اس نے کینسر ہسپتال بنا ڈالا۔ مریم نواز ماں کی زندگی میں ہسپتال بنائےں گی۔ غریب ملازمہ تشخیص اور علاج کے ہاتھوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگئی۔وہ بھی ایک ماں تھی۔ ماں تو ماں ہوتی ہے امیر کی ہو یا غریب کی۔ امیر کے پاس تو دولت بھی ہوتی ہے۔ غریب کے پاس صرف ماں ہوتی ہے وہ بھی چھن جائے تو بالکل خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ شازیہ کی ملازمہ نہ جانے کب سے گلے کے کینسر میں مبتلا تھی۔۔ جب کام کاج کے قابل نہ رہی تو شازیہ نے اس کی چھٹی کر دی۔ چند روز بعد ملازمہ کی بیٹی روتی پیٹتی ہوئی آئی کہ اس کی ماں سرکاری ہسپتال گئی تھی۔ اس کو گلے کا کینسر ہے۔ میری ماں مر رہی ہے۔ باجی اس کو بچا لیں۔ شازیہ نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اس کی اپنی ساس اس کے شوہر کی ماں دولت ہونے کے باوجود کینسر کے ہاتھوں انتقال کر چکی ہیں۔بڑا پیسہ لگایا مگر مرض کی درست تشخیص نہ ہو سکی۔باہر لے گئے تو کینسر کا بتایا گیا۔ پیسہ تھامگر ساس نے یہ کہہ کر کہ وہ ڈبے میں بند ہو کر وطن نہیں لوٹنا چاہتیں ، باہر علاج کرانے سے منع کر دیا۔ شوکت خانم ہسپتال میں جتنا علاج لکھا تھا کرایا لیکن وفات پا گئیں۔ اگر اس ملک میں سرکاری کینسر ہسپتال اور لیبارٹری اعلی معیار کی بنائی گئی ہوتی تو غریب امیر کو مساوی علاج میسر ہوتا۔ بروقت اور درست تشخیص نہ ہونا بھی کینسر کو موت بنا دیتا ہے جبکہ پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے پھر بھی تسلی بخش تشخیص و علاج مہیا نہیں۔ شازیہ نے ملازمہ کی بیٹی کو زمینی حقائق بتا ئے تو ملازمہ کی بیٹی غربت بھول کر سرکار کو بد دعائیں دیتے ہوئے چلی گئی اور پھر اطلاع ملی کہ ملازمہ مر گئی۔ غریب بیٹی کی غریب ماں مر گئی۔ ماں مریم کی ہو یا ملازمہ کی ، ماں تو ماں ہوتی ہے۔ اور غریب کے پاس نہ اقتدار ہے نہ دولت نہ علاج۔ بس ایک ماں ہے وہ بھی بھوک کی چکی پیستے پیستے دم توڑ دیتی ہے۔سرکار اس بد نصیب کے لئے کوئی ایک معیاری لیبارٹری اور ہسپتال نہ بنا سکی ؟عمران خان کی ماں کو کینسر تھا ۔ اس نے کینسر ہسپتال بنا ڈالا۔ مریم نواز کی ماں کو خدا شفا دے ، ماں کی زندگی میں جدید طرز کے کینسر لیبارٹری اور ہسپتال قائم کریں گی۔ کینسر جیسا موذی مرض نزلہ زکام بنتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے ہر آٹھویں ہلاکت کی وجہ کینسر ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال اندازاً 80 لاکھ سے زائد افراد مختلف اقسام کے کینسر کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ تعداد ایڈز، ٹی بی اور ملیریا کی وجہ سے ہونے والی مشترکہ اموات سے بھی زائد ہے۔سنہ 2030 تک دنیا بھر میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہوں گے۔پاکستان میں مختلف اقسام کے کینسر کی شرح تشویش ناک حد تک بلند ہو چکی ہے اور اس حوالے سے یہ ایشیا کا سر فہرست ملک ہے۔

ملک میں لاکھوں افراد چھاتی، جگر، پروسٹیٹ، منہ، ہونٹ اور اووری کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ یہ تمام کینسر پاکستان میں نہایت عام ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ پانچ ہزار افراد کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یعنی ہر پانچ منٹ میں ایک، ایک گھنٹے میں بارہ اور چوبیس گھنٹوں میں ایک سو اٹھاسی افراد اس موذی مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔طبی ماہرین کی جانب سے لگائے گئے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 90ہزار خواتین صرف بریسٹ کینسر کا شکار ہورہی ہیں جن میں سے تقریباً 30 ہزار سے زائد خواتین ہلاک ہوجاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق چھاتی کا کینسر پاکستانی خواتین میں عام ہے۔ ہر نو میں سے ایک پاکستانی خاتون کے چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہونے کا امکان ہے جو ایشیا میں سب سے بلند شرح ہے۔ کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح کے مطابق پاکستان بھر میں جدید لیبارٹری، کینسر ہسپتال اور تجربہ کار ماہرین کی اشد ضرورت ہے۔ سرکار نزلہ زکام کے علاج کے لئے بھی لندن امریکہ روانہ ہوجاتی ہے لیکن عام شہری کینسر کے علاج کے لئے بھی تڑپ رہا ہے۔