’’زندہ ہے شورش زندہ ہے‘‘

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
’’زندہ ہے شورش زندہ ہے‘‘

جب کبھی پاکستان میں ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو آغا شورش کاشمیری کی بہت یاد آتی ہے پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات کے قانون میں ’’چالاکی اور عیاری‘‘ سے ختم نبوت پر یقین کے’’ حلف‘‘ کو ’’اقرار‘‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو پارلیمنٹ میں ’’زندہ ہے شورش زندہ‘‘ کے نعروں کی گونج سنائی دی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے خاص طور پر آغا شورش کاشمیری کا ذکر کیا کیپٹن (ر) محمد صفدر نے تو کمال ہی کر دیا انہوں نے وہ کچھ کہہ دیا جو شاید ان کی قیادت کی پالیسی بھی نہیں تھی ان کی طرف سے کئے گئے مطالبات پر کچھ مسلم لیگی رہنمائوں نے منہ چڑایا لیکن بیشتر مسلم لیگی رہنمائوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی ۔ بہر حال کیپٹن (ر) محمد صفدرتو ہر پیشی کے بعد اپنے ’’بیج میٹ‘‘ انجم عقیل کے ہمراہ پیر صاحب گولڑہ شریف مہر علی شاہ کی قبر پر باقاعدگی سے حاضری دے رہے ہیں انہوں نے تو پارلیمنٹ ہائوس میں ’’ممتاز قادری زندہ باد‘‘ کے نعرے لگوا دئیے جب ان کی اہلیہ مریم نواز سے کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خیالات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ ’’یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں‘‘ اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور پارلیمنٹ میں ختم نبوت پر ایمان کے’’حلف ‘‘ کو اقرار میں تبدیل کرنے کا واقعہ اس مہینے پیش آیا جس میں آغا شورش کا شمیری کا یوم وصال تھا اسی سال آغاشورش کا شمیری کاصدسالہ یوم پیدائش ہے۔ کراچی میں میرے دیرینہ دوست جلیس سلاسل نے آغاشورش کاشمیری کی صدسالہ یوم پیدائش کی پروقار تقریب کا اہتمام کیا تو نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی یاسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (دستور)کے زیر اہتمام مرحوم آغا شورش کاشمیری کی یاد میں 42 ویں برسی کے موقع پر تعزیتی ریفرنس کا ا نعقاد کیا اس تقریب کے انعقاد میں نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم نے ہر ممکن تعاون کیا۔ کئی سالوں بعد مجھے آغا شورش کا شمیری کی یاد میں تقریب منعقد کرنے کا موقع ملا۔ آغا شورش کا شمیری کا شمار تحریک آزادی کے ان رہنمائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دور غلامی میں انگریز سے آزادی کا علم اٹھایا۔ قیام پاکستان کے بعد حمید نظامی اور مجید نظامی کے ساتھ مل کر ’’استحکام پاکستان‘‘ کی تحریک کو مضبوط کیا مجید نظامی اور آغا شورش کاشمیری کی مثالی دوستی تھی انہوں نے لاہور میں اسلام ، پاکستان اور جمہوریت کا مضبوط مورچہ لگایا آغا صاحب نے قید و بند کی صعوبتیں جرأت و استقامت سے برداشت کیں۔ جیل یاترا ان کے لئے ’’حجلہ عروسی‘‘ سے کم نہیں تھا آغا شورش کا شمیری نے جیلوں میں جرات و استقامت کی داستانیں رقم کی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو جرات سے قید کاٹنا سکھایا۔ تقریب کی صدارت کا اعزاز قائد ایوان سینیٹ اور موتمرعالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل راجہ محمد ظفرالحق کو حاصل ہوا جو خود بھی آغا شورش کا شمیری کے بڑے شیدائی تھے انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں مرحوم آغاشورش کاشمیری کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ برصغیر پاک ہند کے نامور صحافی، خطیب، ادیب، شاعر اور دانشور تھے۔ ان کی سماجی، مذہبی اور ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مرحوم آغا شورش کا شمیری اصلاف کا تسلسل تھے۔ اس طرح کی تقریبات منعقد کرکے اور ان کی تصنیفات کے ذریعے ان کی خدمات کو زندہ جاوید بنایا جاسکتا ہے۔ آغا شو رش کاشمیری سے ان کی زندگی کے آخری دنوں میں بہت گہرا تعلق ہوگیا تھا۔ جب انہوں نے اسلم قریشی (ختم نبوت تحریک کے ہیرو) کا مقدمہ فوجی عدالت میں لڑا تو وہ بہت خوش تھے اور ان سے فرمائش کی کہ پورے مقدمے کی روداد فراہم کریں تاکہ اسے ہفت روزہ چٹان میں شائع کر سکیں۔ آغا شورش کاشمیری بلند پایہ ادیب، خطیب اور شاعر بھی تھے اور جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کے خون کو شاعری کے ذریعے گرمایا کرتے اور مرحوم کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے برصغیر میں اس وقت کی طاقت کو وہاں سے نکالا جس کا سورج کہیں غروب نہیں ہوتا تھا۔ پاکستان کے قیام میں علماء کرام کا کردار بھی نمایاں ہے۔ راجہ محمد ظفرالحق جنہیں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے انتخابی اصلاحات کے قانون سے ختم نبوت پر ایمان کے حلف کو اقرار میں تبدیل کرنے کی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی نے تحقیقاتی رپورٹ جاری تونہ کی لیکن انہوں نے بین السطور اس بات کا برملا اعتراف کر کے حقیقت بیان کر دی کہ انتخابی قوانین ختم نبوت کے بارے میں حکومت کی ترمیم ایک چال تھی جسے حکومت نے بہت زیادہ تو حل کرلیا ہے تھوڑی سی چیز باقی ہے وہ بھی جلد حل کرلی جائے گی تاہم اہل ایمان اپنے ایمان پر جم کر کھڑے ہوجائیں تو کسی کو ختم نبوت پر ایمان کے حوالے سے قوانین سے چھیڑچھاڑکی جرات نہیں ہو گی۔ تقریب کے مہمان خصوصی پارلیمینٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان نے آغا شور ش کا شمیری کی شخصیت کے حوالے جاندار تقریر کی جس میں انہوں نے آغا شورش کاشمیری کی شخصیت کا پورا احاطہ کیا انہوں نے کہا ہے کہ ’’قادیانیوں کے حق میں پاکستانی وزارت خارجہ کو امریکی سینیٹرز کا بھیجا جانے والا مشترکہ خط دراصل پاکستان پر ایک دباؤ ہے جسمیں واضح کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان قادیانیوں کے لئے تشویشناک ملک ہے‘‘۔ پاکستان پر کبھی ختم نبوت اور کبھی توہین رسالتؐ جیسے حساس امور پر بیرونی دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے کئی امریکی سینیٹرز نے مل کر پاکستان کی وزارت خارجہ کو جو خط بھیجا ہے اس پر پوری قوم ورطہ حیرت ہے۔ انھوں نے کہا کہ آغا شورش کاشمیری بیک وقت شاعر،ادیب، محقق، صحافی اور خطیب تھے جن کے فن اور شخصیت کا میں خود معترف تھا۔ انہوں نے پوری زندگی مجاہدین حق کے لئے علم بلند کئے رکھا۔ وہ اگرچہ مولانا ظفر علی خان اور سید عطااللہ بخاری کی تحریروں کے محافظ تھے لیکن خود مولانا ظفر علی خان انہیں وقت کا رستم قرار دیتے تھے۔ اصل نام عبدالکریم تھا الفت تخلص تھا لیکن طبیعت کی شورش نے انہیں شورش کاشمیری بنا دیا۔ انھوں قادیانیوں کو غیر مسلم قرارد ینے میںاہم کردار اد کیا۔ شورش نے علم و ادب اور صحافت کو نئے اسلوب سے روشناس کرایا۔ جراتمندانہ لب و لہجے کو فروغ دیا۔ انہوں نے تین سو سے زائد اصطلاحات متعارف کرائیں، جس کا اعتراف خود جوش ملیح آبادی، ساحر لدھیانوی، احمد ندیم قاسمی نے بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ آغا شورش کاشمیری کا ہی یہ اسلوب تھا کہ انھوں میرے والد مولانامفتی محمود کو اپنی تحریر میں صوبہ سرحد کا ’’درویش وزیر اعلیٰ‘‘ قرار دیا۔ ملکی حالات ایسے ہیں کہ آج پھر شورش کو یاد کرنا پڑرہا ہے۔ شورش کا جنازہ بھی میرے والد مفتی محمود نے ہی پڑھایا تھا۔ وہ اپنی زندگی میں اپنا مرثیہ خود پڑھاکرتے تھے جس کے چند اشعار درج ذیل ہے

الغرض یہ اس مقرر کا تھا سفر آخری
عمر بھر رہا جس کو رہا حاصل خطیبانہ کمال
جس طرف نکلا جہاں پہنچا فضا پر چھا گیا
اس کے سر پہ تھا فروزاں سایہ ایزد تعال
دس برس تک سختیاں جھیلیں بنام حریت
قید تنہائی میں کاٹے جس نے اپنے مہ و سال
شاعرانہ روپ تھا اس کی زبان کا بانکپن
اس کے لہجے سے ٹپکتا تھا ادیبانہ جمال
بات سچی دار کے تختہ پہ بھی کہتا تھا وہ
ٹوکتا کوئی اسے کسی شخص میں تھی نہ مجال
انہوں نے آغا شورش کاشمیری کے چند اشعار سنائے ؎
ہر دور میں ہر حال میں تابندہ رہوں گا
میں زندہ جاوید ہوں تابندہ رہوں گا
تاریخ میرے نام کی تعظیم کرے گی
تاریخ کے اوراق میں آئندہ رہوں گا
انہوں نے وہ تاریخی اشعار بھی سنائے جو شورش کا شمیری نے تحریک ختم نبوت میں کہے
اپنی اس تحریک میں ایسے اٹھائوں گا شہید
جن کے مدفن کو زمین کربلا دینی پڑے
اتنا کر دوں گا میں مائوں کی محبت بلند
دل کے ٹکڑوں کو شہادت کی دعا دینی پڑے
تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر انھوں نے شورش کشمیری کے درجات کی بلندی لئے اجتماعی دعاکرائی۔اس موقع پر راقم السطور نے کہا کہ شورش کاشمیری بیک وقت برصغیر پاک و ہند کے عظیم صحافی و خطیب تھے۔ ان کی تحریر اور خطابت دونوں ہی مسحور کن تھے۔ انکے جوش خطابت سے مجمع ان کے سحر میں مبتلا ہوجایاکرتاتھا۔ ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ اس دور کا واحد ہفت روزہ اخبار تھا جس کی اشاعت ایک لاکھ سے زائد تھی اور اس کا مواد اتنا جاندار تھا کہ قاری شمارے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ وہ حق و سچ پر مبنی حکومت کے خلاف کھل کر لکھا کرتے تھے جس کی پاداش میں اخبار کی بندش پر اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے بھاری پیشکش بھی ہوئی لیکن ختم نبوت کے حق سے دستبردار نہیں ہوئے۔ آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دئیے جانے پر اپنا حق ادا کیا۔ انھوں نے آغا شورش کاشمیری سے ذاتی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’وہ جب کبھی لاہور سے راولپنڈی آتے اور اٹک و دوسرے شہروں میں جاتے تو میں ان کے ہمراہ ہوا کرتا تھا اسی لئے 1970 سے ان سے ملاقاتوں کا کافی شرف حاصل رہا‘‘۔ انھوں نے اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف کئے رکھی اور ان کی کوششوں سے 1974 میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کا قانون منظور ہوا۔ اس موقع پر مولانا حمد الرحمان و دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے مرحوم آغا شورش کی ملی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی تقریب میں ان کے صاحبزادے آغا مسعود شورش بھی موجود تھے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آغا شورش کاشمیری کی یاد میں جاندار تقریب منعقد ہوئی جس میں شرکاء کی تعداد نے ہال کی ساری وسعت سمیٹ لی جواس بات کا ثبوت ہے ؎زندہ ہے شورش زندہ ہے۔
٭٭٭٭٭