خادم اعلیٰ سے ملاقات ....

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
خادم اعلیٰ سے ملاقات ....

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سینے پر دایاں ہاتھ رکھتے ہوئے بڑے اعتماد سے کہا "میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میاں نواز شریف نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی۔ نواز میرے بھائی ہیں۔ میں ان کے مزاج اور حالات سے بخوبی واقف ہوں۔ کرپشن کے ان پر الزامات میں جو کہانیاں گھڑی گئی ہیں وہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لئے پروپیگنڈہ ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ ان کے بچوں نے لندن میں فلیٹس وغیرہ بنائے لیکن اپنے باپ دادا اور اپنے پیسے سے سب کیا۔نواز شریف نے اس ملک سے عزت پیار لیا اور اس ملک کو دیا بھی۔۔۔۔۔ اتوار کے روز میاں شہباز شریف کی رہائشگاہ پر ہماری تفصیلی ملاقات کے دوران جب ہم نے کہا کہ آپ کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام یا کیس ثابت نہیں ہو سکا تو پھر میاں نواز شریف اس سلسلے میں اپنی شہرت کیوں خراب کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں میاں شہباز شریف نے کہا کہ وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہہ سکتے ہےں کہ میاں نواز شریف پر کرپشن کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔۔۔۔۔ اس پرہم نے کہا کہ آپ کو علم ہے آپ خدا کی قسم کھا رہے ہیں ؟ میاں شہباز نے جواب دیا کہ جی مجھے علم ہے کہ میں نے اپنی قبر میں جانا ہے ، میں جو کہہ رہا ہوں وہ حق اور سچ ہے۔۔۔۔۔ میاں شہباز کے ہاتھ میں وہی پرانی گھڑی دیکھ کر پھر پوچھ ڈالا کہ والد صاحب کا یہ تحفہ کو چالیس سال ہو گئے ، اب نئی گھڑی خرید لیں۔ میاں صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کو یاد ہے میری والد کی اس گھڑی کی مدت ! جی چالیس برس ہو گئے ہیں اور آج بھی درست وقت بتاتی ہے۔ پھر دونوں ہاتھ جوڑ کر اوپر تکتے ہوئے کہا کہ میرے اللہ کا مجھ پر لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے مجھے عزت اور ہمت دے رکھی ہے کہ میں وقت کی قدر کرتا ہوں اور اللہ نے جو موقع دے رکھا ہے اس میں پنجاب کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتا ہوں۔میاں نواز شریف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خادم اعلی پر امید دکھائی دے رہے تھے۔ لاہور میں کرکٹ میچ کے جرات مندا نہ فیصلے پر بھی بات ہوئی اور لاہور کی خوبصورتی اور آسانیوں کا بھی ذکر ہوا۔ لاہور ائیرپورٹ کی عمارت سے بندہ جب باہر نکلتا ہے تو لاہور کی شاہراہیں ، پل ، انڈر اوور پاس ، دیواروں پر نقش و نگار ، پھول ، لہلہاتا سبزہ ، راہگیروں کے لئے راستے پل ، بسیں ، ٹریفک کے نظام میں سختی وغیرہ کا خوشگوار نوٹس لیتا ہے۔شہر خود بول رہا ہے کہ اس پر شب و روز کی محنت اور سرمایہ لگا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مخالفین بھی معترف ہےں کہ یار کرپشن تو تمام ادوار میں ہوتی رہی لیکن کچھ ملک پر بھی لگا نظر آنا چاہئے تھا، لاہور میں سرمایہ لگا نظر آرہا ہے۔اجڑا ہوا سندھ کرپٹ حکمرانوں کا زندہ ثبوت ہے۔ لیکن پنجاب کی حالت خود گواہی دے رہی ہے کہ مجھ پر پیسہ لگایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سے ماڈل ٹاﺅن واقعہ کا بھی ذکر ہوا اور ہم نے برملا کہا کہ اس کے پیچھے سازش ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا جو بھی ہے لیکن بے گناہوں کا خون ہوا ہے جو کسی صورت قابل معافی نہیں۔ معصوم جانیں کسی سازش یا سیاست کی بھینٹ چڑھا دی جائیں تو لعنت ہے ایسی سازش یا سیاست پر میرا خدا جانتا ہے کہ میرے لہو کا آخری قطرہ اس پاک زمین اور معصوم عوام کی خدمت کے لئیے وقف ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف جو کہ چیئرمین اوور سیز پنجاب کمیشن بھی ہیں نے تارکین وطن سے متعلق پی ٹی وی پر ہمارے نئے شو " دیس پردیس "کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے لئے الیکٹرانک میڈیا پر یہ ایک زبردست پلیٹ فارم ہے۔ تارکین وطن کے مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور وفاق نے اوور سیز کمیشن بنا رکھے ہےں ان کے ذریعے حکومت کے اقدامات کو بھی سراہنے اور مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مکتوب امریکہ بھی تارکین وطن کی آواز کو بلند کئے ہوئے ہے۔ دیس پردیس ہمارے کالموں کا لوگو ہی نہیں بلکہ پی ٹی وی کے تمام چینلز پر دیس پردیس شو عنقریب نشر کیا جا ئے گا۔ خادم اعلی سے گفتگو میں اوور سیز پاکستانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاق کا ادارہ اوور سیز کمیشن آف پاکستان کی کارکردگی پر بھی بات ہوئی۔ اس سلسلے میں وفاق کو ابھی بہت چستی کا ثبوت دینا ہو گا۔ اوور سیز پاکستانی فاﺅنڈیشن تارکین وطن کی رقم سے چلتا ہے۔ادارے کو فعال بنانے کیلئے کمیونٹی کی مشاورت سے بنیادی تبدیلیاں لانے کا سلسلہ بتدریج جاری ہے، اگلے سال کے آخر تک نچلی سطح سے کمیونٹی کے ساتھ روابط کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔او پی سی پنجاب کی کارکردگی اچھی جا رہی ہے جبکہ او پی ایف کے تحت پاکستان کی صحیح تصویر کشی کو مثبت پیش کرنے،سرمایہ کاری کے لئے پالیسیاں مرتب کرنے اور سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے،اوورسیز ایڈوائزری کونسل کی تشکیل کیلئے پوری دنیا سے70 سے 75 افراد شامل کئے جائیں گے اور ان سے کمیونٹی کے مسائل کے بارے میں رائے لی جائے گی۔دنیا بھراور خصوصاً برطانیہ میں بسنے والے پاکستانیوں کی شکایات پر پاکستان کے تمام بڑے ائر پورٹس پر دوسرے آٹھ اداروں سے مل کر ایک ڈیسک قائم کیا جائے گاجہاں پر فی الفور شکایات درج کی جا سکتی ہیں۔