چچا عظیم خان واقعی عظیم آدمی تھے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
چچا عظیم خان واقعی عظیم آدمی تھے

کالم کے لئے دو دن کی غیرحاضری پر دوستوں کے کئی فون آئے۔ مجھے اچانک اپنے آبائی گائوں موسیٰ خیل میانوالی جانا پڑا۔ میرے بڑے محبوب چچا محمد عظیم خان 90 برس کی عمر کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ وہ قبائلی روایات کے بہت عظیم آدمی تھے۔ بہادر اور بُردبار تھے۔ اس وقت وہ ہمارے قبیلے کے سب سے بزرگ آدمی تھے۔ وہی سردار تھے۔ اسم بامسمیٰ۔ پیرانہ سالی اور بیماری کے عالم میں کبھی اپنی تکلیف کی بات نہ کی۔ ہمیشہ گھر والوں کی خیریت دریافت کرتے۔ بڑی آسانی سے کہتے کہ میری بات چھوڑو اپنی سنائو۔ میرے دادا جہان خان ذیلدار کے سچے جانشین چچا عظیم خان تھے۔ ہمارے ہاں انکل کہنے کا رواج نہیں ہے۔ چچا کے لفظ میں جو اپنائیت اور احترام ہے وہ انکل میں کہاں؟ وہ دشمنوں اور دوستوں کو مکمل طور پر نبھانے کے قائل تھے۔ میرے دادا کہا کرتے تھے دوستوں کو سنبھال کے رکھو اور دشمنوں کو کبھی معاف نہ کرو۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے دوست بہت ضروری ہیں۔ دشمن بھی ضروری ہیں۔ اس کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ چچا عظیم خان نے پوری زندگی پوری طرح گزاری۔ وہ کم پڑھے لکھے آدمی تھے مگر زندگی کے سارے معانی جانتے تھے۔
65ء کی جنگ میں بی بی سی سننے کا آغاز کیا اور پھر ساری عمر ہمیشہ بی بی سی سنتے رہے۔ یہ خبریں سننے میں کبھی ناغہ نہیں کیا۔
میں نے گائوں میں بڑے بڑے جنازے دیکھے۔ ساری بستی جنازے میں ضرور شریک ہوتی ہے مگر میرے دادا جہان خان کا جنازہ بہت بڑا تھا۔ اور یہ بات تو میرے دل پر نقش ہے۔ ایک شخص جنازے میں شریک تھا۔ اس کے پاس اسلحہ بھی تھا۔ اسے کسی نے کہا کہ جنازے میں وہ آدمی بھی ہے جس نے تمہارے والد کو قتل کیا ہے۔ یہ موقع ہے بدلہ لے لو۔ اس نے کہا کہ زندگی میں ایسے موقعے اور بھی آئیں گے مگر آج نہیں۔ آج سردار کا جنازہ ہے۔ یہاں کوئی گڑبڑ نہیں ہونا چاہئے۔ بابا جہاں خان بابا مظفر خان کو بھی بہت پسند کرتے تھے۔ بابا جہان خان سب کو جھڑکتے تھے مگر کبھی بابا مظفر خان کی طرف غصے سے نہ بولے۔ ان کے پاس جدید ترین اسلحہ تھا۔ شہر میں کسی کے پاس نہ تھا۔ یہ اسلحہ  اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت صرف چچا عظیم خان کو تھی۔ دوسرا جنازہ چچا عظیم خان کا تھا۔ بہت لوگ تھے۔ پوری بستی میں گاڑیوں کی بھرمار تھی۔
’’چھوٹے قد کا بلندوبالا انسان تھا۔ میں نے دیکھا کہ گھر کا بلکہ شہر کا کوئی فرد ان کے سامنے نہ بولتا تھا۔ وہ بھی ہر ایک سے بہت عزت اور محبت سے بولتے تھے۔ ہر خاندان اور قبیلے میں ایسا فرد ہونا چاہئے کہ جس کے لئے اجتماعی عزت مندی کا رنگ ہر آنکھ میں ہو۔ ہم نے بچپن سے انہیں دیکھا۔ ان کے معمولات اور معاملات میں کوئی فرق نہ آیا۔ بڑی کھلی ڈھلی گپ شپ لگاتے اور ہر آدمی کے مزاج اور شخصیت کے مطابق اسلوب گفتگو اختیار کرتے۔
ایک بار صدر جنرل مشرف کے گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول نے سرکاری ریفرنڈم کے خلاف میرے کالم پر مجھے ملازمت سے بغیر کوئی وجہ بتاتے ہوئے برخواست کر دیا۔ شاید اس زمانے میں واحد کالم نگار میں تھا جس کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ میں مرشد و محبوب ڈاکٹر مجید نظامی کے اخبار میں لکھتا تھا جس کی پالیسی یہ ہے کہ ’’جابر سلطان کے آگے کلمۂ حق بلند کرنا بہترین جہاد ہے۔‘‘ میں اپنے لکھے کے لئے ڈٹ گیا۔ میں کالم بھی لکھتا رہا۔ مجھے نظامی صاحب نے فرمایا کہ تم ملازمت کی پرواہ نہ کرنا۔ میرا اخبار حاضر ہے۔ میرے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے۔ میں نوائے وقت کا کالم نگار ہوں اور اسی حیثیت میں دنیا سے جانا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کے علاوہ کالج میں کلاس پڑھانا بھی نہ چھوڑا۔ مجھے پرنسپل نے روکا بھی مگر میں نے کہا کہ مجھے کلاس پڑھانے اور کالم لکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ میری فائل ایک سال تک چلتی رہی اور پھر گورنر پنجاب نے مجھ سے معذرت کی اور یہ معاملہ رفع دفع ہوا۔
اس دوران میڈیا پر اس بات کا بہت چرچا ہوا تو مجھے موسیٰ خیل سے ایک فون آیا اور وہ فون چچا عظیم خان کا تھا۔ انہوںنے کہا کہ مجھے امید ہے کہ تم ڈٹ کے رہو گے۔ تم نے حق سچ لکھنے کی قسم کھائی ہے اور تم مجاہد صحافت مجید نظامی کے اخبار نوائے وقت کے کالم نگار ہو۔ مگر ہم بھی اس امتحان میں تمہارے شریک ہیں۔ اور اس کے بعد جو جملہ انہوں نے کہا اس نے میرے خون میں بجلیاں دوڑا دیں۔ انہوں نے کس طرح اپنی عزت کو میری عزت سے بڑھ کر جانا۔ اپنی وابستگی کو وارفتگی بنایا۔ تُوں ساڈی کنڈ نہ لوائیں (تم ہماری پسپائی اور رسوائی نہ کرانا)۔ ان کے الفاظ کا صحیح ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کے ساتھ ایسے بہادر اور حق پرست رشتہ دار ہوں تو انہیں دنیا میں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ شکست خوردگی شکست سے بھی بڑی رسوائی ہوتی ہے۔ میں نے ہمیشہ ان کے ہونے سے طاقت محسوس کی اور کوئی خوف میرے دل میں راہ نہیں پا سکا۔
ہم جب انہیں قبر میں اتار رہے تھے تو کئی ساتھی بلند آواز میں نعتیں پڑھ رہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بھی سن رہے ہوں گے۔ چچا عظیم خان نے بڑی دلیری اور غیرت مندی سے زندگی گزاری۔ مٹی کا یہ ٹکڑا جسے چچا عظیم خان کی قبر کی حیثیت مل گئی ہے بہت بیش بہا ہے۔ ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ قبر ایک بڑا ٹھکانہ ہے۔
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
جس نے زمین کے اوپر اچھی زندگی گزاری وہ زمین کے نیچے بھی اچھی زندگی گزارے گا۔ کاش میں ان کی قبر میں لیٹ کے دیکھتا۔ ساتھ میں بابا جہاں خان کی قبر ہے۔ انہوں نے چچا عظیم خان کا استقبال کیا ہو گا۔