مستقل قومی منصوبے اور ڈکیتی کی نئی واردات

 مستقل قومی منصوبے اور ڈکیتی کی نئی واردات

وزیر اعظم کی ایک ا چھی تجویز نت نئے بکھیڑوں کی نذر ہو کر رہ گئی ۔ سینیٹ کے الیکشن اور اب کراچی میں رینجرز کا چھاپہ، روز مرہ کے بحث مباحثہ پر حاوی ہو گیا ہے۔ مگر ہمیں ٹھوس اور سنجیدہ مسائل کی طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے، ان دنوںبعض معاملات پر قومی اتفاق رائے کی صورت پیدا ہونے لگی ہے۔ پہلے پشاور سانحہ کے بعد ہماری سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر اتحاد کا مظاہرہ کیا۔اب سینیٹ کے الیکشن ہوئے تو اس کے عہدیداروں پر حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ پوزیشن لی۔ شاید اسی خوشگوار ماحول کودیکھ کر وزیر اعظم نے تجویز پیش کہ ہمیں قومی ترقی کی منصوبہ بندی بھی اتفاق رائے سے کرلینی چاہیئے تاکہ ایک حکومت کے خاتمے کے بعد اس کے جاری کردہ منصوبوں پر کام رک نہ جائے۔

اس تجویز کی کون مخالفت کر سکتا ہے بلکہ یہ کہا جائے گا کہ صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ وزیر اعظم اپنی تجویز پریک طرفہ طور پر بھی عمل شروع کر سکتے ہیں ۔ پہلے تو وہ چودھری پرویزالٰہی کا یہ شکوہ دور کریں کہ ان کے منصوبے کھٹائی میں پڑے ہیں ۔اور یہ منصوبے انتہائی ضروری ہیں۔ وزیر آباد یاملتان میں دل کا ہسپتال کس کو نہیں چاہئے۔بلکہ شہر شہر ایسے ہسپتال قائم کرنے کی ضرورت ہے۔میںیہاں یہ بات طعنے کے طور پر نہیں بلکہ ریکارڈ کی خاطر لکھ رہا ہوں کہ میاں شہباز شریف نے لاہور قصور روڈ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ دو طرفہ سڑکوں کے مابین غیر ضروری طور پر جگہ چھوڑی گئی ہے، شہبازشریف جب میٹرو بنانے لگے تو یہی خالی جگہ ان کے کام آئی۔اسی طرح میاں صاحبان کے ماڈل ٹائون کے پرانے گھروں کے عقب میں چودھری پرویز الہی نے ایک سافٹ ویئر پارک قائم کیا تھا، اس پر شہباز صاحب کا تبصرہ تھا کہ ا س قدر خوبصورت عمارت گندی سی سبزی منڈی میں کیوں گھسیڑ دی گئی۔ آج یہ عمارت پنجاب کے چیف منسٹر کے اہم تریں محکموں کے کام آ رہی ہے۔
مجھے یاد ہے ایک زمانے میں ، میں نے امتیاز رفیع بٹ کے والد مرحوم پر تحقیقات کا آغاز کیا تو باقی باتوں کے علاوہ یہ بات بھی میرے علم میں آئی کہ بانی پاکستان نے رفیع بٹ کو ایک ایسی کمیٹی میں شامل کیا تھا جسے تین ،پانچ سالہ منصوبے بنانے کی ذمے داری سونپی گئی۔پوری دنیا میں طویل مدتی منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ یہ تو صر ف ہمارے ہاں ایساہوتا ہے کہ حکمران کو خواب آتا ہے کہ فلاں منصوبہ شروع کیا جائے اور وہ اگلی صبح اس کو شروع کر دیتا ہے، کہیں غورو خوض کا تکلف ہی نہیں کیا جاتا۔اور باقی ہر کام کھٹائی میں پڑا رہتا ہے۔ یہ بھی ہمارے ہاں رواج ہے کہ گزشتہ حکومت کا کوئی کام آگے نہیں چلنے دینا۔
چلئے، یہ سوچ اب بدلنے کاا حساس پیدا ہو گیا تو اسے خوش آئند کہا جائے۔وزیر اعظم اپنی تجویز کو بروئے کار لائیں اور سارے پارٹی قائدین کو مدعو کریں اور ان کے سامنے وہ سارے منصوبے مشاورت کے لئے پیش کریں جو ان کے ذہن میں ہیں۔وہ قومی قائدین کے سامنے وہ معاہدے اور ایم او یوز بھی رکھیں جو چین ، جرمنی، ایران ، سعودی عرب یا یو اے ای وغیرہ سے کئے گئے ہیں تاکہ ان کی فیزیبلٹی کا بھی جائزہ لیا جا سکے۔خاص طور پر لوڈ شیڈنگ کے ازالے کے لئے انہوں نے جن درجنوں منصوبوں کا اعلان کر رکھا ہے ، انہیں بھی زیر غور لایا جائے کہ ان میں سے کوئی کام کا بھی ہے یا نہیں۔یہ نہ ہو کہ یہ حکومت چلی جائے اور ان کے دکھاوے کے منصوبے اگلی حکومت ردی کی ٹوکری میں پھینک دے اور یہ لاڈلے شور مچانے لگ جائیں کہ ہمارے ساتھ ساتھ ہمارے منصوبوں کو بھی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنا لیا گیا ہے۔
میں توقع کرتا ہوں کہ قومی اتفاق رائے کی اس فضا سے بھر پور فائدہ ا ٹھاتے ہوئے وزیر اعظم کل پارٹی اجلاس بلائیں گے اور ملک کی ترقی وتعمیر کے لئے ان کے ذہن میںجوبھی پلاننگ ہے یا دوسرے راہنما ہمارے مسائل کا جو حل پیش کریں ، ان پر غور کر کے دس پندرہ بیس برس کے لئے فیصلے کر لئے جائیں۔ ہمارے ایک وفاقی وزیر نے کل ہی کہا تھا کہ پانی کا شدید قحظ رونماہونے والا ہے، یہ وارننگ احسن اقبال بھی دے چکے ہیں۔ بہتر یہ ہو گا کہ قومی قائدین ان بحرانوں کا مل جل کر حل تلاش کریں۔
میں اس موضوع پر آئندہ تفصیل سے لکھوں گا ۔اس وقت میں اپنے بیٹے نعیم الاسلام چودھری کے ساتھ ڈکیتی کی کی ایک واردات کااحوال خود انہی کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔
20لاکھ کے ڈاکے،ڈاکوئوں نے دو شہری مار ڈالے ، لاہور میں مختلف وارداتوں میں لاکھوں روپے مالیت کی نقدی ، طلائی زیورات ، موبائل فون، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور دیگر سامان لوٹ لیا گیا…یہ محض ایک اخبار کی 7مارچ 2015ء کے جرائم کی خبر ہے ، اس دن قوم کے محافظ حکام بالا کے حکم پر عوام کو جرائم پیشہ عناصر کے رحم کرم پر چھوڑ کر جشن بہاراںو کیٹل شوز کی حفاظت میں مصروف تھے اور چور ڈاکو لٹیرے پورے شہر میں دندناتے پھر رہے تھے۔یہ نتیجہ نکلا سارے پنجاب کی پولیس نفری کو جشن بہاراںو کیٹل شوز پر لگانے کا ،کہ پیچھے سے پورے صوبے میں ڈاکوئوں نے بھی خوب اندھا دھند شہریوں کی جان مال کے ساتھ جشن بہاراں منائی ، ان دنوں ڈاکوئوں کا "آتش عشق "کچھ معمول سے زیادہ تھا وگرنہ سارا سال ہی شہریوں کی "عزت افزائی" جاری رہتی ہے راقم الحروف نے بھی گذشتہ روز 3ڈاکوؤں کے ہاتھوں 18ہزار روپے کی قربانی دے کر جشن بہاراں کو خوب "انجوائے" کیا۔ "تھرپارکر یا موہنجوداڑو یا سندھـ" کے کسی دور دراز دیہی علاقے میں نہیں،تین مرکزی تھانوں و سول لائنز کی ناک تلے شہر کے مرکزی پررونق مقام چوبرجی پر راقم الحروف سے تین ڈاکوئوں نے گن پوائنٹ پر نقدی، موبائل ،سمز اور انتہائی قیمتی دستاویزات چھین لیں اور جب ایف آئی آر کے اندراج کے لئے رجوع کیا گیا تو اس سے بھی انکار کر دیا گیا کہ پورے صوبہ کی پویس نفری "جشن بہاراں" میں مصروف ہے۔ راقم الحروف کے ساتھ ڈکیتی کی واردات میں کچھ اچنبھے کی بات نہیں، ساری دنیا میں صحافیوں کو اپنی ذمہ داریوں سے روکنے ، انہیں حق گوئی کامزا چکھانے او ر حق سچ بیان کرنے سے باز رکھنے کیلئے ان کی ایسی ہی "پذیرائی "کی جاتی ہے لیکن پاکستان نے اس معاملے میں بھی گذشتہ سال "سونے کا تمغہ ـ"جیت لیا ہے۔14صحافیوں کے قتل کے ساتھ پاکستان دنیا میں "پہلے نمبر "پر رہا، بی بی سی پر صحافیوں کی سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے 2014ء میں سب سے خطرناک ملک ثابت ہوا ۔افغانستان ، فلسطین ، عراق،یوکرین،شام، عراق سمیت بیشتر ممالک بھی 118صحافیوں کی مقتل گاہ بنے۔
یہ ایک طویل احتجاجی کالم کا اقتباس ہے، میں اس پر کوئی مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتا، میں اور میرا خاندان پچھلے تیس برس سے چوریوں، ڈکیتیوں کا نشانہ ہے ۔ نجانے یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔