حکومت نے پیپلز پارٹی کے ’’جیالے‘‘ کو طوعاً وکرعاً چیئرمین تسلیم کر ہی لیا

حکومت نے پیپلز پارٹی کے ’’جیالے‘‘ کو طوعاً وکرعاً چیئرمین تسلیم کر ہی لیا

جمعرات پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں تاریخی دن ہے حکومت اور اپوزیشن نے ایک ’’جیالے‘‘ کو ایوان بالا کا ساتواں چیئرمین منتخب کر لیا۔ پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں حکومتی ٹیم کی اپنے امیدوار کیلئے مطلوبہ تعداد میں حمایت حاصل کرنے میں ناکامی موضوع گفتگو بنی رہی اور یہ بات کہی گئی کہ ’’مذاکرات کی میز‘‘ پر کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والی شخصیت کو مذاکراتی عمل سے باہر رکھنے سے حکومت جیتی ہوئی جنگ ہار گئی جسے بعد میں ’’جیت‘‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ،سابق صدر آصف علی زرداری اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کے درمیان ہونے والی بات چیت سننے والے ایک صحافی نے بتایا کہ زرداری ہائوس میں عشائیہ میں زرداری نے اسفند یار ولی سے کہا کہ اگر حکومتی مذاکراتی ٹیم میں چوہدری نثار علی خان شامل ہوتے تو اپوزیشن جماعتوں کا فیصلہ حکومت کے حق میں ہو جاتا لیکن زرداری نے اپنے گرد بیشتر جماعتوں کواکھٹا کرکے سیاسی شطرنج کی بازی جیت لی بالآخر حکومت نے طوعاً کرعاً میاں رضا ربانی جیسے سخت گیر پارلیمنٹرین کو چیئر مین قبول کر لیا جو اپنے اصولوں پر کمپرومائز نہیں  کرتا جو پرویز مشرف سے حلف لینے کیلئے تیا رنہیں ہوا جس نے مسلم لیگ(ق) کے ساتھ کابینہ کا رکن بننے سے انکا ر کر دیا اس لئے یہ بات کہی جا سکتی ہے اتفاق رائے کا چیئرمین بننے کے باوجود حکومت کے لئے ایوان بالا میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔