تو بیورو کریٹ ایسے بھی ہوتے ہیں؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
تو بیورو کریٹ ایسے بھی ہوتے ہیں؟

اوریا مقبول جان نے اپنی ماں کی نماز جنازہ خود پڑھائی۔ یہ بہت بڑا واقعہ ہے۔ ایک معرکہ آرائی ہے۔ اوریا صاحب ایک سینئر بیورو کریٹ ہیں۔ وہ ڈپٹی کمشنر رہے، کمشنر رہے، اب وہ صوبائی سیکرٹری ہیں۔ اگر ہر بیورو کریٹ اس قابل ہو جائے تو مولویوں کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ اگر ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر صحیح ہو جائے۔ اہل اور اہل دل ہو جائے تو سب لوگوں کے مسائل ختم ہو جائیں اور الجھنیں دور ہو جائیں۔ فرقہ واریت ختم ہو جائے اور اگر ایک محکمے کا سیکرٹری ٹھیک ہو جائے تو پورا محکمہ ایک پورا شعبہ زندگی ٹھیک ہو جائے۔ 

میرا خیال ہے کہ ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر آتے رہے اور جاتے رہے۔ کس نے کیا کیا؟ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ بس چلتا رہا جیسے چلتا آ رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع اور سیکرٹری اپنے محکمے کا گورنر ہوتا ہے۔ مجھے معاف کیا جائے تو کہوں کہ بہت کچھ پاکستان میں بیورو کریسی نے خراب کیا ہے بلکہ برباد کر دیا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ بیورو کریسی کا صحیح تلفظ ہے برا کریسی اور یہی اس کا عمل اور ردعمل بھی ہے۔ اس کا طرز عمل بھی یہی ہے۔ چنگا نہ کریسی برا کریسی۔ اس ملک اور عوام کو سب سے زیادہ نقصان افسران بالا نے پہنچایا ہے۔ یہ افسران بالا نہیں ہیں افسران تہ و بالا ہیں۔ اگر کوئی حکومت ان کو خود کام کرنے کا موقع دے تو یقیناً بہتری ہو گی۔
اوریا مقبول جان نظریاتی آدمی ہیں۔ بہادر اور بے باک ہیں۔ اللہ نے انہیں قدرت کلام بخشی ہے۔ وہ اپنے خیالات اور نظریات پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتے۔ والدہ کی تعزیت کے لئے صاحب عرفان بابا عرفان الحق انہیں ملے تو دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ وہ ایک امام مسجد کے بیٹے ہیں۔ امام سردار ہوتا ہے۔ میرے آقا و مولا رحمت اللعالمین محسن انسانیت رسول کریم حضرت محمدﷺ امام الانبیا ہیں۔ آپ نے معراج کے سفر میں مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاءکی امامت کرائی تھی۔ پہلے ہمارا قبلہ بیت المقدس تھا پھر خانہ کعبہ ہو گیا۔ آپ دونوں قبلوں کے وارث ہیں۔ اس حوالے سے مجھے بابا عرفان الحق کی یہ بات ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ وہ انوکھی اور سچی باتیں کرتے ہیں کہ لفظوں کے معانی خود بخود بدل جاتے ہیں۔ کیفیتیں بدل جاتی ہیں اور تاثیر دوچند ہوتی ہے بلکہ تاثیر بھی بدل جاتی ہے۔ وہ بات کرتے ہیں تو حیران کر دیتے ہیں۔ حیرانی خوشی سے آگے کی چیز ہے۔ سرخوشی؟
بابا جی نے فرمایا مکہ مکرمہ آپ نے بغیر لڑے ہوئے فتح کر لیا۔ انسانی تاریخ میں اس کی دوسری مثال نہیں ہے۔ آپ نے فتح مکہ کے بعد حضرت بلالؓ کو ہدایت کی کہ کعبے کی چھت پر چڑھ جاﺅ اور اذان دو۔ وہ کعبہ کی چھت پر جا کے دم بخود کھڑے رہے۔ آپ نے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ میں مدینہ میں ہوتا ہوں تو کعبے کی طرف منہ کر کے اذان دیتا ہوں۔ اب کیا کروں۔ حضور نے فرمایا منہ میری طرف کر لو۔
حضور کے اس جملے پہ غور کرو اور مزید حیران ہو جاﺅ۔ میرے خیال میں اس طرح روحانی سرشاریوں اور شان سے گفتگو کرنے والا کوئی نہیں۔ میرے سامنے دوسری مثال منصورالرحمن آفریدی کی ہے۔ وہ بات اندر سے کرتے ہیں اور بڑے جذبے سے بولتے ہیں۔ یہ لوگ عمر کے آخری حصے میں اپنے آپ پر آشکار ہوئے ہیں۔ وہ واصف علی واصف کا بہت ذکر کرتے ہیں۔ واصف پردہ کر گئے مگر انہوں نے آفریدی صاحب سے پردہ نہیں کیا۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ کبھی بابا جی سے ضرور ملیں۔
بابا جی نے اوریا جی کی اس بات پر کسی حیرت کا اظہار نہ کیا کہ انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ کے جنازہ کی امامت کی۔ فیض احمد فیض ایک شاعر ہیں۔ مرحوم کے لئے ایک میری تحریر کا عنوان تھا ”صوفیوں جیسی صفات والا شاعر“۔
ان کی محفل میں خموشی ہوتی تھی۔ خموشی قدرت اللہ شہاب کی محفل میں بھی ہوتی تھی۔ ایک محفل میں دو گھنٹے کے اندر شہاب صاحب اور جاوید غامدی کی زبان سے صرف ایک لفظ نکلا ”وعلیکم السلام“۔ جو آدمی آتا وہ السلام علیکم کہتا تو وہ بھی جواب دیتے اس کے علاوہ کوئی بات انہوں نے نہ کی۔ وہ بھی بہت انوکھے اور بہت بڑے بیورو کریٹ تھے۔ ان کے بارے میں نامور ادیبہ اور نایاب خاتون بانو قدسیہ (بانو آپا) نے ان کی وفات کے بعد ایک کتاب لکھی ہے ”مرد ابریشم“۔ ان کے لئے حکیم الامت علامہ اقبال کے مشہور شعر کا ایک مصرع پڑھا جا سکتا ہے۔
ہو حلقہ¿ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
وہ رزم حق و باطل میں میں بھی بریشم کی طرح ہوتے تھے۔ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ فولاد اپنی فطرت میں مضبوط رہتا تھا مگر بریشم کی طرح نرم ہو جاتا تھا۔ دشمن کبھی اس بریشم کی تاب نہ لا سکا تھا۔
میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ فیض نے بھی محترمہ نومسلم ایلس کے ساتھ اپنا نکاح خود پڑھایا تھا۔ کئی معاملات میں ہمیں مولوی صاحبان کی خدمات لینا پڑتی ہیں۔ آخر ہم اپنی خدمت خود کیوں نہیں کر سکتے اور خود کیوں نہیں کرتے تو پھر ہر معاملے میں خود بخود آسانیاں ہی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ جتنی آسانیاں دین میں رسول کریم نے پیدا فرمائیں وہ کسی دین میں نہیں ہیں۔ اس بات پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ اوریا مقبول جان کی اس بات پر غور کریں کہ اسلام میرا دین ہے اور پاکستان میرا مذہب ہے۔