قصور میں درندوں اور اداروں کے درمیان ٹیسٹ میچ

قصور میں درندوں اور اداروں کے درمیان ٹیسٹ میچ

ایک انسان اور ایک قلم کار کے طور پر میری تما م ہمدردیاں دکھی والدین کے ساتھ ہیں، مگر کچھ اقدامات ایسے ہوئے جو نہ ہوتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
میرا تعلق قصور سے ہے، قصور کے سارے قصور میرے ضمیر اور ذہن پر بوجھ بنے ہوئے ہیں، میں نے قصور کے دو سو بچوں کی بے حرمتی پر واویلا کیا تھا مگر میری کسی نے نہ سنی۔ یار لوگ داستان طرازی میں لگے رہے، اب میں قصور شہر کے درندوں پر ایک روز کالم نہ لکھ سکا۔ میرے قلم سے نکلنے والی سیاہی کے قطرے میر اہی چہرہ سیاہ کر دیتے۔
قصور میں مسلسل تیسرا روز قیامت بن کر طلوع ہوا ہے۔
قصور کی قیامت ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتی، یہ شہر اب جغرافیائی طور پر لاہور کا ایک مضافاتی محلہ ہے۔ چیف منسٹر ماڈل ٹاﺅن میں دفتر لگاتے ہیں، یہاں سے قصور بیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے مگر قصور کے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے واٹر کینن تیسرے روز پہنچائی گئی ہے، شاید یہ کچھوے کی رفتار سے چلتی ہے۔ یہ واٹر کینن پہلے ہی روز پہنچ جاتی تومظاہرین کے سامنے دیوار بن سکتی تھی مگر مقامی انتظامیہ نے بہتر سمجھا کہ مظاہرین پر سیدھا فائر ٹھوکا جائے، اس سے دو لاشیں اور گر گئیں، اس سے پہلے درندوں نے ایک درجن کے قریب بچیوں اور بچوں کی عصمتیں بھی لوٹیں اور انہیں موت کے گھاٹ بھی اتارا مگر اس درندگی اور وحشت کی خبریں نہ تو صوبائی دارالحکومت تک پہنچ سکیں، نہ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور جی ایچ کیو کو یہ بھیانک خبریں مل سکیں۔
قصور کے شہری لیڈرشپ سے محروم ہیں۔ یہاں کا ایم این اے اور ایم پی اے تو مظاہرین کی زد میں ہے۔ کیا ستم ظریفی ہے کہ قصور کے سارے ووٹ ن لیگ کو ملے مگر ن لیگی ارکان ا سمبلی کے ڈیرے بھی انہی ووٹروں نے جلائے۔
قصور ایک سرحدی قصبہ بھی ہے، یہاں پاکستان کے ہر ادارے کے نگران یونٹ موجود ہیں، یہ ادارے اپنی رپورٹس کہاں بھجواتے رہے اور انہیں ردی کی ٹوکری میں کیوں پھینکا جاتا رہا، یہ طرز عمل ہماری توجہ کا مستحق ہونا چاہئے۔
معصوم بچی کے والد نے انصاف کی اپیل آرمی چیف اور چیف جسٹس سے کر دی، اس اپیل کو عمران خان نے خوب خوب اچھالا مگر ان دونوں اداروں کا اس جرم کی تفتیش میں کیا کردار بنتا ہے۔ ان دو ہیوی ویٹ اداروں سے اپیل کر دی گئی تو باقی ادارے سہم گئے اور سکڑ گئے حتیٰ کہ ملک کا ایک طاقت ور ترین حکمران بھی متاثرہ خاندان سے تعزیت کے لئے رات کے پچھلے پہر لاہور سے نکل کر قصور پہنچنے کی ہمت کر سکا۔ قصور ہی سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ شہری احمد رضا قصوری نے میڈیا کو خبر دی کہ انہیں چیف جسٹس نے بتایا ہے کہ مجرم پکڑا جا چکا ہے، یہ خبر گھنٹوں میڈیا پر نشر ہوتی رہی مگر سپریم کورٹ نے اس خبر کی تر دید کر دی۔ دوسرے روز ملک کے وکلاءنے ہڑتال کر دی۔ چیف جسٹس نے حیرت سے کہا کہ سانحہ تو بہت دکھ دینے والا ہے مگر اس پر وکیلوں کی ہڑتال تو نہیں بنتی تھی۔
قصور ہی سے تعلق رکھنے والے ایک ایم پی اے پنجاب حکومت کے ترجمان ہیں، اس ایم پی اے کا خاندان اتنے ہی برسوں سے قصور کی سیاست اور حکومت پر حاوی ہے جتنے برسوں سے شریف خاندان صوبے اور ملک کی سیاست پر حاوی ہے۔ درمیاں میں پرویز الٰہی اور مشرف کا دور آیا تو یہ سیاسی گھرانہ بڑا سیانا نکلا، اچھل کر ان کے ساتھ جا ملا۔ کوئی دور حکومت ان کی مدد کے بغیر نہیں چل سکا بلکہ ایک اعتبار سے ملک محمد علی کھائی سینٹ کے ڈپٹی چیئر مین کے منصب پر فائز رہے اور ایک باری انہوں نے قائم مقام صدر مملکت کے طور پر بھی بھگتائی، علاقے کے تمام جرگوں کے وہ سربراہ بنتے رہے۔ ملک خاندان کو علاقے کے امن یا بدامنی کے لئے جوابدہ ٹھہرانا چاہئے، کوئی بیس برس قبل ہماری زمین پر ایک قبضہ گروپ نے ہاتھ صاف کیا تو میں جس کسی کو قصور کے ایس ایس پی کے پاس بھیجتا تھا، وہ مجھے بتاتا کہ قبضہ گروپ کی طرف سے مقامی ایم پی اے صبح سویرے سے ایس ایس پی کے دفتر میں براجمان ہے اور میری کوئی شنوائی نہیں ہونے دیتا۔
ملک احمد خان اور صوبائی وزیر قانون نے سیدھی فائرنگ پر سوالوں کے جواب میں یہ موقف اختیار کیا کہ اس کا فیصلہ تفتیش کے بعد کیا جائے گا کہ یہ فائرنگ ذاتی دفاع میں تو نہیں کی گئی، سوال کیا گیا کہ فائرنگ کا حکم کس نے دیا تواس جواب سے میڈیا کا منہ بند کرنے کی کوشش کی گئی کہ سیلف ڈیفنس کے لئے حکام بالا سے اجازت کی ضرورت نہیں مگر چند گھنٹوں کے بعد پتہ چلا کہ فائرنگ کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، یہ گرفتاری کس تفتیش کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی، فائرنگ سے شہید ہونے والوں کے لئے وزیراعلیٰ نے تیس تیس لاکھ امدادی رقم کا بھی اعلان کر دیا اور مجرم کی گرفتاری میں معاونت کرنے والے کے لئے ایک کروڑ کا انعام، اگر اس رقم میں سے دس ہزار قصور کے ڈی پی او کو دے دیئے جائیں تو ان کا یہ مطالبہ پورا ہو جائے گا جو اہل محلہ کی کوششوں سے معصوم بچی کی لاش برآمد ہونے پر ان صاحب نے انعام کے طور پر مانگے تھے۔ ان صاحب کی بدقسمتی ہے کہ انہیں معطل کر دیا گیا ہے، اس سے بڑی سزا انہیں کوئی نہیں دی جا سکتی، میں نہیں جانتا کہ میڈیا اور قومی سیاست دانوں نے پولیس کے خلاف بول بول کر کیا حاصل کیا۔ ایک معطلی اور دو گرفتاریاں۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ کیا قصور کی قیامت کے ذمے دار یہی تین افراد ہیں یا پورا ملکی نظام اور ہمارا معاشرتی ڈھانچہ۔
سوچنے کی بات ہے کہ قصور میں چندگھنٹوں کے احتجاج کے بعد سیدھی فائرنگ کر دی گئی مگر فیض آباد میں ہفتوں تک دھماچوکڑی مچانے والے گروہ کو کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے عمران خان ا ور طاہر القادری نے مہینوں تک اسلام آباد کو مفلوج رکھا، پی ٹی وی پر قبضہ جمایا۔ وفاقی سیکرٹریٹ بند کر دیا مگر ان سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا اور اگر قصور کے دکھی لوگ سڑکوں پر نکلے ہی تھے کہ جن کی معصوم بچیاں درندگی کا مسلسل نشانہ بن رہی ہیں تو ان پر سیدھی گولی چند گھنٹوں کے اندر چلا دی گئی۔
میں تو یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بات کی جاتی ہے جیو فینسنگ کی، فرانزک ٹیسٹ کی، ڈی این اے کی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فلم کی مگر لاہور سے جو تین صوبائی وزراءقصور پریس کانفرنس کرنے گئے، وہ مقامی صحافیوں کے اس سوال کا جواب نہ دے سکے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں جو بچی نظر آ رہی ہے، اسکا قد بدقسمت بچی سے بہت چھوٹا ہے، گویا تفتیش کی ساری عمارت کی بنیاد ہی غلط نکلی۔
ہم پولیس کو بہت کوستے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ ان سے کام لینے والوں کی لیاقت اور صلاحیت کیا ہے۔ قصور کے نزدیک گنڈا سنگھ والا سکول ایک مقامی تھانیدار رحمت علی کا مرہون منت ہے۔ میں ایک مرتبہ موٹروے سے لاہور آیا۔ رات کے بارہ بجے گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ گاڑی سے ایک لیپ ٹاپ غائب ہے، میں راستے میں ایک جگہ چائے پینے کے لئے رکا تھا، یہ کارستانی وہیں کے سٹاف کی تھی، میں نے گوجرانوالہ کے ڈی آئی جی احمد نسیم کو فون پر سارا ماجرا سنایا۔ تین روز کے اندر لیپ ٹاپ کو موٹروے کے ایک کھمبے کے پاس رکھ دیا گیا مگر اس کا بریف کیس پھر بھی غائب تھا، ایک روز بعد متعلقہ عملے سے تفتیش کے دوران یہ بریف کیس بھی برآمد کروا لیا گیا، اس شخص نے بڑی معصومیت کے ساتھ کہا کہ اس نے بریف کیس کو بچے کے بستے کی جگہ استعمال کے لئے رکھ لیا تھا۔ احمد نسیم بعد میں آئی جی بھی بنے اور اپنی لیاقت ا ور صلاحیت کی وجہ سے بنے۔
میں پولیس کی اچھی کارکردگی کی سینکڑوں مثالیں دے سکتا ہوں۔ قصور پولیس پر دباﺅ ڈالا جاتا تو وہ مطلوبہ نتائج لازمی حاصل کر سکتی تھی، اب بھی تفتیش انہی کے بھائی بند کر رہے ہیں، کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں مبارکباد ملے گی ورنہ وہی طعنے سننے کو ملیں گے۔
میری ناقص فہم کے مطابق آرمی چیف اور چیف جسٹس سے اس معاملے میں دخیل ہونے کی اپیل نہیں کی جانی چاہئے تھی۔ میں متاثرہ خاندان کے دکھ کو سمجھتا ہوں مگر ان اداروں کو یہ اپیل سن کر چیف منسٹر پنجاب ہی سے کہنا چاہئے تھا کہ یہ آپ کا معاملہ ہے، آپ ہی جانیں، ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو۔ وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر انگلیاں نہیں اٹھائی جا سکتیں۔ وہ جنات کی طرح کسی کام کے پیچھے پڑ جاتے ہیں تو کام کروا کے دم لیتے ہیں۔ اب بھی میری فہم کے مطابق اس سانحے کے حل کی مہار انہی کے ہاتھ میں ہے، میں تواس بات کا قائل ہوں کہ سارا بوجھ علاقہ کے تھانیدار پر ڈالا جانا چاہئے۔ اسے تفتیش سے باہر کر دیں گے تو کوئی چاند سے نئی پولیس درآمد نہیں کی جائے گی، کسی اور تھانے کی پولیس آ جائے گی۔ ہمیں درجہ بدرجہ اپنے نظام کا لحاظ کرنا چاہئے، چیف منسٹر تک وہ بات پہنچے جو پورے صوبے کی انتظامیہ کے بس سے باہر ہو جائے۔ میں پھر متاثرہ خاندان کے جذبات کا لحاظ کرنا ضروری سمجھتا ہوں مگر جے آئی ٹی کے سربراہ پر اعتراض وارد کر کے اسے تبدیل نہیں کروانا چاہئے تھا۔ ہمارا ملک پہلے ہی اقلیتوں سے سلوک پر واچ لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے، اوپر سے ہم مزید شواہد خود ہی فراہم کرتے جا رہے ہیں۔
لوگوں کو شبہ ہے کہ کسی شخص کو ملزم قرار دے کر چند دنوں میں یہ کہہ کر پھڑکا دیا جائے گا کہ اس نے گرفتاری سے بچنے کے لئے فائر کھول دیا تھا، موت تو مجرم کی قسمت میں لکھ دی گئی ہے لیکن اگر ہم ذرا جرات کریں اور جنرل ضیا کی تقلید کریں جس نے تین سالہ پپو کے تین قاتلوں کو کیمپ جیل کے دروازے پر لاکھوں کے مجمع کے سامنے لٹکا دیا تھا یا جس طرح سعودی عرب میں ہر جمعہ کی نماز کے بعد منشیات کے مجرموں کا سر قلم کر دیا جاتا ہے تو اس سے دوسرے درندہ صفت انسانوں کو عبرت حاصل ہو گی اور یقین مانئے راوی ہر سو چین لکھے گا۔
جے آئی ٹی یہ ضرور تفتیش کرے کہ جب قصور شہر میں رینجرز طلب کر لی گئی تھی تو ارکان اسمبلی کے گھر کیسے جلے۔
اسد اﷲ غالب