پارٹی پوزیشن اور آخری پیرا!.....حسب حال

صحافی  |  آفتاب اقبال

اصحاب ق کے جسد بیمار میں چند ہفتے پہلے ہلکی سی جنبش ہوئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس میں زندگی کی رمق دوڑنے لگی اور اب ایک بار پھر یہ ٹن ٹن کرتی تندرست و توانا پارٹی کے طور پر سیاسی تھیٹر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار نظر آتی ہے۔ چودھری شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین ایک سرگرم عمل جوڑی کی صورت اپنا بھرپور کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ادھر صوبے میں چودھری پرویز الٰہی اور چودھری ظہیر الدین نے بھی نئے سرے سے کمر کس رکھی ہے اور پارٹی تنظیم نو کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی وقت دینے لگے ہیں۔ اس جماعت کی نوجوان نسل کے اہم ترین نمائندے مونس الٰہی ہیں جو چودھری شافع کے ساتھ مل کر دھڑا دھڑ پورے پنجاب میں جلسے پہ جلسہ پھڑکاتے چلے جا رہے ہیں۔ البتہ اس پارٹی کا وہ طبقہ جو چودھریوں کے حلقہ ارادت سے باہر ہے۔ ان احباب سے بالابالا ہی اپنی اپنی سوچ اور سہولت کے مطابق کام پر جتا ہوا ہے۔ سینیٹر محمد علی درانی اور سمیرا ملک وغیرہ پر مبنی ایک پانچ رکنی گروپ بہرصورت نواز لیگ کی طرف راغب ہے جبکہ ریاض فتیانہ اور کشمالہ طارق وغیرہ اپنا الگ سے راگ الاپ رہے ہیں مگر افسوس کہ ان احباب کی آواز اب وصل وزارت کے ترانے گا گا کر حد سے زیادہ بیٹھ چکی ہے۔ چنانچہ اب انکا الاپ قدرے بے سرا سا لگنے لگا ہے۔
حامد ناصر چٹھہ کو پچھلے غالباً 45 سال سے لگاتار غصہ چڑھا ہوا ہے۔ اس انتہائی طویل المیعاد غصے کی وجہ کم از کم ہمیں آج تک معلوم نہیں ہو سکی۔ یہ نزلہ کسی زمانے میں نواز شریف پر گرتا ہم نے کافی قریب سے دیکھ رکھا ہے۔ پھر میاں منظور وٹو کی باری آئی۔ پھر پرویز مشرف کی بغل میں بیٹھ کر انہیں قدرے آرام رہا۔ مگر آج کل انہوں نے چودھری پرویز الٰہی کو تختہ مشق بنا رکھا ہے انکا خیال ہے کہ پرویز الٰہی اپنے آپ کو فقط صوبے تک ہی محدود رکھیں اور ملکی سطح پر ق لیگ کے معاملات میں دخل اندازی بالکل نہ کریں۔ اس قماش کی بات حامد ناصر چٹھہ ہی کر سکتے ہیں اور کوئی نہیں۔
نواز لیگ کے قائد میاں نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا ہے کمی ہرگز واقع نہیں ہوئی۔ تاہم جو سخت گیر رویہ انہوں نے اپنا رکھا ہے اس کا نقصان بھی صرف اور صرف ملک ہی کو پہنچ رہا ہے کہ موصوف جب تک اہم امور پر اڑی کرتے رہیں گے یہاں کے انتہائی طاقتور سٹیک ہولڈرز انہیں اقتدار کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیں گے۔ نااہلی کی تلوار بھی لٹکتی رہے گی اور نواز لیگ کے اندر دراڑ ڈالنے کی کوشش الگ سے جاری رہے گی۔ حتیٰ کہ دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوششیں تک حسب سابق جاری رہیں گی۔ میاں شریف مرحوم حیات تھے تو انہوں نے مشرف اور انکے ایلچیئوں کی کوششیں بارآور نہیں ہونے دیں مگر اب ان کوششوں کا توڑ نہ تو گھر میں موجود ہے اور نہ ہی پارٹی میں۔ ہماری اپنی اطلاعات یہی ہیں کہ رخنہ اندازی کی یہ کوششیں شہباز شریف پر فوکس کرتے ہوئے بازگشت شروع ہو چکی ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جوکہ شہباز شریف کو بہرصورت اقتدار میں رکھنا چاہتے ہیں اپنی موجودہ مستحکم پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گورنر پنجاب سلمان تاثیر بارے تحفظات کا چرچا مزید کرنے لگیں گے۔ کل شام وزیراعظم ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ’’بہت سوں‘‘ کی مرضی اور منشا کے برخلاف ہی بلایا گیا ہے۔ دیکھیں اس میں ایجنڈے پر کیا کچھ آتا ہے۔ پنجاب کی صورتحال پر بات چیت بہرحال یقینی ہے۔
یوسف رضا گیلانی کا جھکاؤ اصحابِ ق کی نسبت نواز لیگ کی طرف زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں موصوف نے شہباز شریف کو ہر قسم کی ہلاشیری دے رکھی ہے جبکہ مرکز میں نواز لیگ نے ان کے ساتھ اسی قسم کے عہد و پیماں کر رکھے ہیں۔ البتہ آصف علی زرداری جو چاہتے ہیں وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ق لیگ کو کسی صورت بھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور شنید یہی ہے کہ عنقریب پنجاب میں پیپلز پارٹی اور اصحاب ق کا گٹھ جوڑ ہونے والا ہے۔ نواز لیگ کے ایک سو چھہتر ارکان کے مقابلے میں پپپلز پارٹی کے ایک سو سات، ق لیگ کے چوراسی، فنکشنل اور مجلس عمل کی پرچون کو یکجا کرنے کے بعد یہ اصحاب نواز لیگ کے اندر توڑ پھوڑ بھی کریں گے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً بیس بائیس نواز لیگی پہلے ہی بے وفائی کا ’’وچّن‘‘ دے چکے ہیں۔
چنانچہ اگلے ایک ڈیڑھ ہفتے کے دوران حکومتی جماعت ایک بار پھر شہباز شریف کے ساتھ اپنی شرائط پر معاملہ بندی کرنے کی کوشش کرے گی اس حوالے سے نوازشریف کی طرف سے اگر کوئی نرمی اور قابل ذکر خیر سگالی نظر نہ آئی تو پھر پیپلز پارٹی اور اصحابِ ق ایک ہی ٹرک پر سوار ہو جائیں گے۔ ہماری چشم تصور مارچ میں ہونے والے سینٹ الیکشن میں بھی اسی اتحاد کو سرگرم عمل دیکھ رہی ہے۔ اس صورتحال میں صوبہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا معاملہ بھی خاصا دلچسپ ہو جائے گا کہ پیپلز پارٹی کے پاس پنجاب میں شہباز شریف تو درکنار، ان کے پی ایس او کی سطح کا منیجر بھی موجود نہیں اور اصحاب ق کی جھولی میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ ڈالتے وقت پی پی پی کو ویسے ہی ڈبل نمونیہ ہونے کا اندیشہ ہے۔
چنانچہ اس صورتحال میں آئیڈیل سیٹ اپ تو یہی ہو سکتا ہے کہ پنجاب میں وزارت بدستور شہباز شریف کی رہے البتہ اصحابِ ق اور پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ایک وسیع البنیاد اشتراکِ عمل کا آغاز کریں اور اگر نواز لیگ پھر بھی ٹس سے مس نہ ہو تو پھر شہباز شریف کو پنجاب والے گناہِ بے لذت سے پرہیز برتتے ہوئے صوبے میں بھی اپوزیشن کا کردار اپنانا چاہئے۔ اس دوران وہ اپنی جماعت کو پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی منظم کریں اور حکمران اتحاد سے مزید حماقتوں کی کماحقہ توقع رکھتے ہوئے زرداری، گیلانی تصادم کی دعائیں تیز کردیں۔ ایک سال کے اندر اندر کوئی بھی پراسرار یا اندوہناک واقعہ رونما ہو سکتا ہے کہ یہاں یہ سب کچھ ایسے اچنبھے کی بات نہیں سمجھا جاتا۔ چنانچہ اس واقعے کے نتیجے میں نئے انتخابات ناگزیر ہو جائیں گے اور ان انتخابات میں نواز لیگ 1997ء کی تاریخ دہرادے گی۔
پارٹی پوزیشن سے متعلق اہم فیصلے کرتے وقت تمام متعلقہ دوست اگر آخری پیرے کو ملحوظ خاطر رکھیں تو انہیں سیاسی افاقہ ہونے کے امکانات بہت روشن ہیں!!۔