لڑائی لڑائی معاف کرو ! .....حسب توفیق

کالم نگار  |  توفیق بٹ

میں نے اپنے گزشتہ کالم ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘ میں عرض کیا تھا کہ ’’مختلف قومی معاملات میں صدر مملکت جناب آصف علی زرداری اور وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی کے نقطۂ نظر میں واضح فرق محسوس ہونے لگا ہے اور جمہوریت کیلئے یہ کوئی نیک شگون نہیں۔‘‘ صدر مملکت کے کچھ خیرخواہوں نے اس پر پُرزور احتجاج کرتے ہوئے فرمایا یہ سب میڈیا اور اپوزیشن کی پھیلائی ہوئی داستانیں ہیں جن میں رتی بھر حقیقت نہیں … عرض کیا اگر میڈیا ایسا تاثر دینے میں مسلسل کامیابیوں سے ہمکنار ہوتا جاتا ہے اور اس کے مقابلے میں سرکار بے بس ہے تو پھر ایسی سرکار کو اپنی نااہلی پر خود ہی کوئی سزا تجویز کر لینی چاہئے‘ جو میرے خیال میں محترمہ ’’ہلا شیری رحمان‘‘ کی صورت میں اُس نے کی بھی ہوئی ہے۔ پھر پوچھا ایسی ’’منحوس داستانیں‘‘ اپوزیشن کے کون سے گروپ کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہیں‘ سرکاری یا غیر سرکاری …؟ افسوس دوسری طرف سے جواب کے بجائے قہقہہ سننے کو ملا۔ ہمارے ہاں فرینڈلی اپوزیشن یعنی سرکاری اپوزیشن کی روایت بڑی پرانی ہے‘ اس روایت کو محترم مولانا فضل الرحمان نے جس ’’ڈیزلانہ انداز‘‘ میں آگے بڑھایا اُس کی مثال نہیں ملتی‘ اور اب تو عوام اپوزیشن لیڈر پر بھی ویسے ہی شک کرتے ہیں جیسے سرکار پر کرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے میں اسلام آباد میں تھا۔ ہمارے ایک محترم وزیر قلم کاروں سے خصوصی محبت فرماتے ہیں کوئی قلم کار ’’حکمرانی شہر‘‘ میں مہمان بن کر آئے اور اُن کی میزبانی کا لطف اُٹھائے بغیر واپس لوٹ جائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگلے روز اسلام آباد کلب میں اُن کی طرف سے دئیے گئے ظہرانے سے فارغ ہو کر اُن کے دفتر پہنچے تو اپوزیشن کے ایک رہنما وہاں پہلے سے موجود تھے۔ ایک روز قبل قومی اسمبلی کے فلور پر سرکار کی جس انداز میں وہ کھنچائی کر رہے تھے یوں محسوس ہوتا تھا ملک و قوم کا سب سے زیادہ درد انہی حضرت کے سینے میں اٹھتا ہے۔ خیال تھا محترم وفاقی وزیر کے دفتر میں وہ کسی اہم قومی معاملے پر مشاورت کے لئے تشریف لائے ہوں گے‘ اپنے ’’ذاتی مسائل‘‘ جس ’’درد مندی‘‘ سے انہوں نے بیان فرمائے‘ مختلف محکموں کے سرکاری افسران کو سفارشی فون کرنے کے لئے کہا تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ویسے غیر جانبداری سے بھی تجزیہ کیا جائے تو صدر اور وزیراعظم کے تعلقات کی دال بلکہ ’’مرغ حلیم‘‘ میں کچھ کالا کالا ضرور دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود اگلے روز مختلف تقریبات میں جناب یوسف رضا گیلانی نے دو سے زائد بار اس بات کا اعتراف ’’اعترافِ جرم‘‘ کی طرح کیا کہ صدر اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں‘ یہ طے ہے کہ دونوں کے درمیان ’’سرد جنگ‘‘ گرم ہو چکی ہے جس کے نتائج کسی ایک کیلئے یا دونوں کیلئے‘ تو بُرے ہونگے ہی مگر اس کے جو اثرات پارٹی پر مرتب ہوں گے یہ ایسا نقصان ہوگا جس کی تلافی شاید کبھی ممکن نہ ہو سکے۔ اپوزیشن اور میڈیا کی طرف سے پھیلائی جانے والی ’’داستان‘‘ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اختلافات کی تردیدیں صرف وزیراعظم کی طرف سے ہی کی جا رہی ہیں۔ ایوانِ صدر کا مکیں اس ضمن میں بالکل خاموش ہے۔ اگر ان خبروں میں صداقت نہیں تو پھر اس کی تردید صرف ایک فریق کی طرف سے ہی کیوں کی جا رہی ہے؟ یہ سوال مزید کئی سوالات پیدا کرتا جا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے کچھ رہنمائوں کا کہنا ہے صدر مملکت جناب آصف علی زرداری وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اتنی عزت کرتے ہیں کہ کئی مواقع پر انہیں آگے کر کے خود اُن کے پیچھے چلنے کے عمل کو بھی سعادت سمجھتے ہیں ممکن ہے یہ بات درست ہو مگر محض ایک ذاتی پہلو کی نقاب کشائی کر کے دونوں کے درمیان اختلافات کے تاثر کو دور نہیں کیا جا سکتا۔ حقائق اس کے برعکس ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سوال بھی قابل غور ہے قومی سلامتی کے مشیر کو برطرف کرنے کی خبر وزیراعظم نے سب سے پہلے اُس چینل کو کیوں دی جس کے ساتھ صدر کے ذاتی عناد کا تاثر ملتا ہے؟ اور اگر وزیراعظم کے حالیہ بیان کے مطابق اس ضمن میں صدر مملکت کی مشاورت شامل تھی تو اس کا تاثر پرائیویٹ چینل کو خبر فراہم کرتے ہوئے کیوں نہیں دیا گیا؟ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے بیان نے حقائق واضح کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فرماتے ہیں صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات کو امریکی سفیر نے دور کروا دیا ہے۔ ویسے تو اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر امریکی سفیر کی طرف سے کروائی گئی مصالحت کے عمل کو مستقبل میں دونوں فریق کمزور نہیں پڑنے دیں گے مگر پاکستانی سیاست ایسا کھیل ہے جس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے فی الحال دونوں کی قربت میں امریکہ کو کوئی فائدہ ہو مگر امریکہ کے فائدوں اور نقصانات کی شکل تو بدلتی رہتی ہے۔ ایسی صورت میں صدر اور وزیراعظم کے آگے چل کر بھی اکٹھے رہنے کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے؟
صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات کن امور پر ہیں؟ یہ راز بھی اب آہستہ آہستہ کھلتا جا رہا ہے۔ دکھ کی بات ہے زیادہ تر اختلافات ذاتی نوعیت کے ہیں۔ ملک و قوم کے مفاد میں اختلافات ہوں تو عوام محب وطن فریق کا ساتھ دینے کے عمل پر فخر کریں جہاں ملک و قوم سے زیادہ ذاتی مفادات عزیز ہ وں وہاں کسی ایک فریق کا ساتھ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ ماضی میں صدارتی عہدوں پر ایسے آمروں کا قبضہ رہا ملک و قوم کے مفاد کا سودا کرنا جن کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اس عہدے کے حوالے سے عوام کے دل و دماغ میں پایا جانے والا منفی تاثر دور ہونے میں وقت لگے لگا۔ یہ درست ہے کہ موجودہ صدر باقاعدہ ایک جمہوری نظام کے تحت منتخب ہو کر آئے ہیں مگر جمہوریت میں غلطی چاہے وزیراعظم کی ہی کیوں نہ ہو قصوروار صدر کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ خصوصاً جب سارے اختیارات صدر نے اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں تو وزیراعظم کا مظلوم ٹھہرنا قدرتی امر ہے زیادہ دور نہیں جاتے ماضی میں منتخب صدر فاروق لغاری نے طاقتوری کی بنیاد پر اپنی ہی پارٹی سربراہ اور وزیراعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ جو کچھ کیا اس پر انہیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کچھ لوگ اس بے وفائی پر انہیں ’’فارغ لغاری‘‘ کا خطاب بھی دیتے ہیں۔ ان حالات میں جناب آصف زرداری کو خود فیصلہ کرنا چاہئے جذبات میں آ کر غیر جمہوری اقدام کا انہوں نے سوچا تو اس سے اُن کی شخصیت پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ پیپلزپارٹی کی بہت سی شخصیات اور کارکن انہیں بھٹو خاندان کا حقیقی محافظ نہیں سمجھتے۔ ایسی صورت میں وزارت عظمیٰ کی جانب کوئی پتھر انہوں نے پھینکا تو واپس اُن کی طرف ہی اچھل سکتا ہے۔ پارٹی سربراہ اور ’’طاقتور صدر‘‘ کی حیثیت سے انہیں بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔