سیاست میں خوئے دلنوازی ..... بے نیازیاں

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

سی پی این ای کے نومنتخب عہدیداروں کے اعزاز میں چودھری شجاعت حسین نے اپنی رہائش گاہ پر ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ ہم پہنچے تو درجنوں آدمی تھے۔ خوشی ہوئی کہ چودھری صاحبان نے صحافیوں کی ایک اعلیٰ نمائندہ تنظیم کو اعزاز دینے میں ہمیشہ کی طرح بڑی کشادگی اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اخبار والوں اور اختیار والوں کے درمیان روابط کو تسلسل دینے کا طریقہ کیا ہے۔ یہ بھی کسی پالیسی کو جاری رکھنے کا انداز ہے۔ اب اقتدار چودھریوں کے پاس نہیں مگر ان کے ساتھ اختلاف کے باوجود ان کے اعتراف میں کچھ کمی نہیں آئی۔
سب سے زیادہ عزت مندانہ مقام اس محفل میں عارف نظامی کا تھا اور یہ ہمارے لئے تشکر اور تفاخر کا باعث تھا۔ یہ دونوں جذبے ایک ساتھ ہوں تو آدمی کی عزت میں ناقابل تسخیر حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ نجانے کچھ لوگ کیوں اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور اپنی رعونت کو ہر صورتحال میں ہر کسی پر مسلط کرتے رہتے ہیں۔ رعونت کے مقابلے میں رعنائی کو بھی بگاڑ کے رکھ دیتے ہیں۔ جلال کو جاہ و جلال ناکے ضائع کیا جاتا ہے جبکہ جلال و جمال مل کر اتنے گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے کہ خوشی اور خوشحالی پورے زمانے کا مقدر بن سکتی ہے۔ عارف نظامی نے صحافیانہ وقار کی ایک تاثیر حاضرین کے دلوں میں تحریر کی اور مجیدنظامی کی مکمل نمائندگی کرتے ہوئے ایک مختلف بات کی۔ ’’لیگوں کے اتحاد سے ملک میں دو جماعتی نظام کی راہ ہموار ہو گی‘‘ عارف نظامی کی یہ بات پاکستان میں جمہوری نظام کی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے جس کی وجہ سے جمہوریت ہمیشہ زیرآب آئی رہتی ہے۔ اس موقع پر سی پی این اے کے سیکرٹری جنرل خوشنود علی خان نے حکومت کی طرف سے اخبارات کے لئے نئے قواعد کے اعلان کے مقابلے میں اعلان کیا کہ ہم اس کے خلاف آخری حد تک جائیں گے۔ میں اس پر بعد میں لکھوں گا۔ اس ضمن میں خوشنود نے آواز اٹھانے میں پہل کی اور نوائے وقت نے سب سے پہلے ادارتی نوٹ لکھا۔
عارف نظامی نے خاص طور پر نوجوان سیاستدان مونس الٰہی کا ذکر کیا۔ تقریب میں چودھری پرویزالٰہی کے علاوہ مسلم لیگ کی تقریباً ساری قیادت موجود تھی۔ ہمارے ساتھ والی نشست پر ڈاکٹر خالد رانجھا‘ مشاہد حسین‘ چودھری ظہیر الدین‘ راجہ بشارت‘ میاں منیر ‘ ایس ایم ظفر تھے۔ آج بھی چودھری اقبال اپنے کیمرے کے ساتھ مستعد تھے جیسے اقتدار کے دنوں میں نظر آتے تھے‘ کسی بھی حال میں جو آدمی اپنے فن اور فرض سے غافل نہیں ہوتا وہ محبت کے قابل ہوتا ہے۔ مہناز رفیع اب بھی ویسے ہی ہیں جیسے وہ ایم این اے کے طور پر تھیں۔ فریدہ سلہری کے علاوہ بھی کچھ خواتین تھیں اور میں انہیں جانتا نہ تھا۔ البتہ عائشہ جاوید اور آمنہ اُلفت کی عدم موجودگی بہت سی معزز عورتوں کی موجودگی سے زیادہ محسوس ہوئی۔ چودھری شجاعت سیدھے سادھے بلکہ ’’جٹکے‘‘ انداز میں ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو سیاست میں دیر تک گفتگو کے دائروں میں رہتی ہے۔ اس پر غور کیا جاتا رہتا ہے۔ وہ حکومت اور حکمت کی سانجھ میں سے بات نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’نوازشریف انتخابات کے اگلے روز ہمارے پاس آ جاتے تو آج ملک کے صدر ہوتے‘‘۔ نوازشریف کہنے کو کہہ دیں گے کہ میں صدر بننا ہی نہیں چاہتا مگر وہ دل سے نکلے ہوئے اس جملے پر غور تو کریں کہ اس میں کتنے معانی چھپے ہوئے ہیں۔ لیگوں کے اتحاد میں مجید نظامی کی کوششوں کے بعد وہ کہتے ہیں کہ یہ اتحاد برابری کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔ برابری سے مراد عزت نفس کا احترام اور عتراف ہی تو ہے۔ وہ تو آپ کو صدر بنا رہے ہیں۔ صدر پر صرف یہ لازم ہے کہ وہ شرح صدر کے ساتھ دوستوں کے مقام اور احترام کی حفاظت کرے۔ سب نے اکٹھی سیاسی جدوجہد کی تو کبھی راستے جُدا بھی ہو جاتے ہیں۔ دونوں سے غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ مقابلہ بھی ٹھیک ہے مگر درگزر اس سے بھی بڑا مقابلہ ہے کہ یہ آدمی اپنے آپ سے کرتا ہے۔ اس میں جیت اصل کامیابی ہے۔ لوگ انا اور استغنا میں فرق کو کیوں نہیں سمجھتے۔ دیار حجاز میں سات برس رہنے والوں سے گزارش ہے کہ ان کا گھرانہ مذہب کی گہرائیوں اور سچائیوں سے زیادہ باخبر ہے۔ یہ خوش قسمتی ہے کہ انہیں وہاں سعادت و برکت کے علاوہ عزت اور راحت سے رہنے کا موقع ملا۔ تو کیا ان کے ساتھی پاکستان کی جیلوں میں سڑتے رہتے اور جو واقعی اس اذیت اور قربانی کی منزلوں سے آگے گزر گئے تھے۔ وہ آج بھی وفا نبھا رہے ہیں مگر وہ کس حال میں ہیں؟ آج ہر زبان پر جاوید ہاشمی کا نام ہے۔ اس کے ساتھ کس ’’برابری‘‘ کا معاملہ چل رہا ہے۔ چودھری شجاعت کے بقول جہاز ڈوب رہا ہو اور کیپٹن چلا جائے تو پھر دوسرے مسافر کیا کریں؟
نوائے وقت میں بیٹھے ہوئے کسی اور حوالے سے دنیا کے سب سے بڑے فاتح اور دلوں کو فتح کرنے والے آقا و مولا رسول کریم حضرت محمدؐ کا ذکر چلا اور چلتا ہی رہا۔ ارشاد عارف‘ یاسین وٹو‘ اسرار بخاری‘ حفیظ قریشی اور میں کسی اور دنیا میں تھے۔ جب فتح مکہ کے وقت آنحضورؐ کی سواری اس شہر میں داخل ہو رہی تھی جہاں سے ذلت اور اذیت کی انتہا کرتے ہوئے آپ کو نکال دیا گیا تھا۔ آپؐ اونٹنی پر سوار تھے سرجھکا ہوا تھا اور گود میں غلام زادہ اُسامہ بن زیدؓ بیٹھا ہوا تھا لفظ اسامہ پر غور کریں۔ آپؐ نے ڈرے سہمے لوگوں سے پوچھا کہ آپ کو (کفار مکہ) مجھ سے کس قسم کے سلوک کی توقع ہے۔ وہ جو دشمن تھے کہنے لگے کہ آپ کریم بھائی ہیں آپ سے معافی اور محبت کی اُمید ہے۔ آپ نے جو کلمات فرمائے وہ دنیا کے سارے فاتحین کے لئے روشنی کی طرح ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔ آپؐ نے فرمایا جو میرے دشمن ابو سفیان کے گھر چلا جائے۔ اس کے لئے پناہ ہے جو خانہ کعبہ میں چلا جائے اور جو اپنے ہی گھر میں بیٹھ جائے۔ وہ محفوظ ہے اور اس سے کوئی بازپُرس نہ کی جائے گی۔
ہم معزز بہن کلثوم نواز کی تحریک میں ساتھ ساتھ تھے۔ وہ نوازشریف کے لئے میرے کسی جملے پر خفا ہوئیں۔ انہوں نے مجھے فون کیا اور کہاکہ میں کسی کالم نگار کو نہیں اپنے بھائی کو فون کر رہی ہوں کہ ہم ایک ساتھ اورینٹل کالج میں پڑھتے بھی رہے ہیں۔ ’’آپ ایک بار نوازشریف سے مل لیں مجھے یقین ہے کہ آپ پھر ان کے خلاف کوئی جملہ نہیں لکھو گے‘‘ میں نے ان سے کہاکہ نجانے کب ان سے ملاقات ہو گی مگر آج کے بعد آپ کو یہ شکایت نہیں ہو گی۔ میں نے نوازشریف سے مل لیا ہے اور میں ان کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ وہ چودھری شجاعت کو مل آئیں پھر دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے‘ مگر مجھے اُمید نہیں ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔ چودھری شجاعت نے یہ بھی کہیں کہا ہے کہ نوازشریف ’’میں‘‘ کا لفظ اپنی سیاست سے نکال دیں اور ’’میں‘‘ کی بجائے ’’ہم‘‘ کا استعمال شروع کر دیں۔
اقبال کا ایک شعر یاد آیا۔ اس میں ایک لفظ نوازشریف کے لئے قابل توجہ ہے؎
کوئی کارواں سے چھوٹا کوئی بدگماں حرم سے
کہ میر کارواں میں نہیں خوئے ’’دلنوازی‘‘