پولیس سٹیٹ میں شائستہ پولیس .....بے نیازیاں

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

رحمان ملک نے اچھی بات کہی ہے کہ آئندہ پولیس والے لوگوں سے بات کریں تو انہیں SIR (سر) کہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔ وہ پاکستانی بالخصوص پنجابی پولیس کو برطانوی پولیس جیسا رویہ اپنانے کیلئے کہہ رہے ہیں۔ برطانوی پولیس والے بھی جب پاکستانی لوگوں سے بات کرتے ہیں تو پاکستانی پولیس بن جاتے ہیں۔ یورپ امریکہ والے سب پاکستانیوں کو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔ بھارت میں 9 دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ خوف کے مارے بھارتیوں کی کپکپی دور نہیں ہو رہی ہے۔ ان کا خوفزدہ مطالبہ ہے کہ سارے پاکستانی دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کارروائی کرے۔ ان کے خیال میں سارے پاکستانی دہشت گرد ہیں۔ ثبوت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ پاکستانی ہیں۔ پاکستان نے حکم کی تعمیل شروع کر دی ہے۔ اپنے حکم میں زور ڈالنے کیلئے بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ کے حکم کو شامل کرا لیا ہے۔ سلامتی کونسل بھی امریکہ کے لئے ایسی ہی ہے جیسے پاکستانی حکومت ہے‘ جو کہیں وہ مان لیتی ہے۔ سلامتی کونسل نے افغانستان اور عراق پر حملے کے لئے جھوٹی قراردادیں منظور کیں۔ پاکستان کے لئے اور افغانستان عراق کے لئے قراردادوں کی روس اور چین نے بھی حمایت کی ہے۔ یہ دونوں ’’سپر پاور‘‘ ہیں؟ سلامتی کونسل نے جن لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے‘ ان میں ایک راجہ اشرف بھی ہیں جو 2003ء میں فوت ہو گئے تھے۔ ان کے خیال میں پاکستانی دہشت گرد مرنے کے بعد بھی فعال رہتا ہے۔ ایک کارٹون میں پاکستانی پولیس کے شیرجوان ایک قبر پر بندوقیں تانے کھڑے ہیں اور مردے سے کہہ رہے ہیں… تم دہشت گرد ہو‘ خبردار! باہر نہیں نکلنا۔ تم نظربند ہو‘ اب جو کرنا ہے اگلے جہان میں کرنا۔ وہاں فرشتے تم سے نبٹ لیں گے۔ ان کے پاس گرُز ہوتے ہیں‘ ہمارے پاس تو صرف بندوقیں ہیں یا جوتا ہے جسے ہر مہینے سرسوں کا تیل پلانا پڑتا ہے کہ وہ قابل استعمال رہے۔ حکومت کہتی ہے دہشت گردی ختم کرو اور دوسری چیزوں کے ساتھ تیل بھی مہنگا کئے جا رہی ہے۔ سلامتی کونسل کی کمیٹیاں اور ہمارے ہاں کی کمیٹیاں ایک جیسی ہیں۔ ان کے ارکان اور پولیس اہلکاران ایک جیسے ہیں! کسی بستی میں گڑبڑ ہوئی‘ دہشت گردی ہونے لگی‘ پولیس کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ یہ ڈیوٹیاں آجکل امریکہ یا امریکہ کے کہنے پر سلامتی کونسل لگاتی ہے۔ کچھ مدت کے بعد اس بستی میں پولیس والوں نے شریف شہری مارنے شروع کر دیئے۔ بستی کے لوگ احتجاج کیلئے حاضر ہوئے۔ انہیں پولیس والوں نے کہا کہ دہشت گرد ہمیں ملتے نہیں تو ہم کیا کریں‘ ہم نے ڈیوٹی بھی تو دینا ہے۔ جو قتل ہو گئے ہیں‘ آپ انہیں دہشت گرد سمجھ لیں۔ جو ’’پاکستانی دہشت گرد‘‘ بھارتی فوج کی غفلت سے بچ گیا ہے کیونکہ انہوں نے ڈر کے مارے اپنے انسداد دہشت گردی کے سربراہ کرکرے کو مار گرایا ہے۔ اس نے سمجھوتہ ایکسپریس میں تحقیقات کے ذریعے ثابت کیا کہ اس دہشت گردی میں بھارتی کرنل پروہت‘ دو میجر اور کئی دوسرے بھارتی ملوث ہیں۔ وہ ممبئی دہشت گردی کے لئے پہلے سے سمجھتا تھا کہ یہ بھی اپنی کارروائی ہے۔ حیرت ہے یہ ’’اپنا دہشت گرد‘‘ ان کی دستبرد سے کیسے بچ گیا۔ اس کا نام انہوں نے پیار سے اجمل رکھ لیا ہے۔ اس سے عجیب عجیب جھوٹ بلوائے جا رہے ہیں۔ بھارتی تو سچ بھی جھوٹ کی طرح بولتے ہیں کہ اسی پر امریکہ‘ یورپ اور سلامتی کونسل یقین کرتی ہے۔ ایک دوست نما دشمن نے مجھے فون کیا کہ وہ تمہارا ہمنام ہے تو ہمراز بھی ہو گا۔ مجھے ان سب بے چاروں پر ترس آیا جن کا نام اجمل ہے۔ امریکہ میں اب تک ان سب لوگوں نے اپنا نام بدل لیا ہے جن کا نام اسامہ تھا مگر عالم اسلام میں نئے پیدا ہونے والے بچوں کا نام اسامہ رکھا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ابامہ اسامہ کا چھوٹا بھائی ہے۔ اسامہ کو امریکی جب چاہتے ہیں زندہ کر لیتے ہیں۔ یہ شوق ابامہ کو چھوڑنا پڑے گا تو پھر ابامہ کا دور شروع ہو گا ورنہ امریکی تھنک ٹینک امریکیوں کو اسامہ دور سے رہائی دلانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ دہشت گردی امریکہ اور امریکی سلامتی کونسل کے اقدامات کی وجہ سے بڑھتی جا رہی ہے۔ دہشت گردی کو دہشت گردی سے ختم کرنا ممکن نہیں۔ دہشت زدہ دہشت گرد سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
’’پاکستانی دہشت گرد‘‘ اجمل نے کہا ہے کہ حافظ محمد سعید مجھے دبئی میں ملے تھے۔ حافظ صاحب نے کہا ہے کہ میں کبھی دبئی گیا ہی نہیں۔ پاکستانی حکومت اسے سچ ثابت کرنے کیلئے حافظ صاحب کو ایک چکر دبئی کا لگوا لائے گی۔ کہا گیا ہے کہ اجمل وزیراعظم پاکستان مخدوم گیلانی کے شہر ملتان کی بستی فریدکوٹ کا رہنے والا ہے۔ فرید کوٹ کے ریکارڈ کے مطابق اجمل نام کا ایک آدمی تین سال ہوئے انتقال کر گیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ زندہ ہو کر ممبئی چلا گیا ہو۔ دہشت گرد کچھ بھی کر سکتا ہے حتیٰ کہ زندہ ہو کر کئی لوگوں کو مار بھی سکتا ہے۔ امریکہ اور بھارت زندوں کو پھر مارنے کے لئے مرے ہوئوں کو زندہ کر دیتے ہیں۔ ہندوؤں کے دھرم میں دوسرا جنم بڑا اپم ہے۔ سلامتی کونسل میں سب سے زیادہ فرماں برداری پاکستانی سفیر حسین ہارون نے دکھائی۔ وہ امریکہ کے لئے پاکستانی حکمرانوں سے بھی زیادہ پاکستانی حکمران نکلا۔ وہ پاکستان کے خلاف قرارداد پاس کروانے کیلئے زیادہ متحرک تھا۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر کا نام بھی حسین حقانی ہے۔ نومنتخب امریکی صدر ابامہ نے کہا ہے کہ میں اپنے پورے نام بارک حسین ابامہ کے ساتھ حلف لوں گا۔ معروف کالم نگار طیبہ ضیاء نے بتایا کہ ہم نے تو حسین کو ووٹ دیا ہے۔ عالم اسلام میں کربلائیں بھی امریکہ نے ’’سجائی‘‘ ہیں۔ اس کے بعد امریکی صدر حسین بنا؎
آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
بات رحمان ملک کی اس بات سے شروع ہوئی تھی کہ آئندہ پولیس والے لوگوں کو SIR (سر) کہیں گے۔ ملک صاحب کے لئے اطلاعاً عرض ہے کہ ممبران اسمبلی اور وزیر شذیر‘ پولیس افسران اور اہلکاران کو ’’سر‘‘ کہہ کر بلاتے ہیں۔ ملک امیر محمد خان نواب کالاباغ جب گورنر مغربی پاکستان تھے تو اپنے علاقے کے پٹواری اور تھانیدار کو گندم اور گھی وغیرہ پہنچاتے تھے۔ آج کی ہی خبر ہے کہ رنگ پور سیالکوٹ کی مدیحہ گوہر نے دریائے راوی میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی جس کے ساتھ ایک کانسٹیبل پولیس نے زیادتی کی اور کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اسے لوگوں نے پکڑ کر تھانہ شاہدرہ پولیس والوں کے حوالے کر دیا۔ اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ یہ تفتیش ایسی ہی ہو گی جو لاہور کے کسی تھانے میں تھانیدار صاحب نے کی۔ انہوں نے تین چار ’’مشکوک‘‘ لڑکیوں کو پکڑا۔ سب سے خوبصورت لڑکی سے تفتیش شروع کر دی اور باقی کو لیڈی پولیس کے حوالے کر دیا۔ وہ بھلا ان سے کیا تفتیش کریں گی۔ مظلوم اور بے آسرا لڑکیوں کے ساتھ ایسے کئی واقعات ہوتے رہتے ہیں اور ان کی خبر بھی نہیں بنتی۔ ایک غریب ملزم کو پولیس والے تشدد کے لئے ’’ڈرائنگ روم‘‘ کی سیر کرانے سے پہلے کہیں گے ’’سر‘‘ کو بڑی عزت سے لے جائو اور اس جگہ پر جوتے مارو جس کا نام احتراماً نہیں لیا جا سکتا۔ یہ احتیاط رہے کہ جوتا زور سے مارنا ہے اور اس سے پہلے صاحب کو زور سے ’’سر‘‘ کہنا ہے کہ وہ بے ہوشی میں بھی سن لے۔ وکیلوں کے پُرامن جلوس پر لاٹھی چارج سے پہلے انہیں ’’سر‘‘ بلکہ مائی لارڈ کہہ کر پکارنا ہے۔ جیل تو کاٹی ہوئی ہے رحمان ملک نے اور اسے پتہ ہے کہ پولیس والے کیا حسن سلوک کرتے ہیں۔ اب اس سے پہلے ’’سر‘‘ کہہ کر اے مزید حسن سلوک بنا دیں گے۔