موسمی قصاب اور ممبئی حملے ! .....حسب حال

صحافی  |  آفتاب اقبال

اس عید پر جو احباب ہماری خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے انہیں عرفِ عام میں موسمی قصاب کہا جاتا ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے‘ یہ لوگ محض جزوقتی نوعیت کے ’’کاریگر‘‘ ہوتے ہیں جو کام تو کوئی اور کرتے ہیں مگر بکرا عید پر پیشہ ور کاریگروں کی قلت کے سبب لنگر لنگوٹ کس کر ازخود قصاب بن بیٹھتے ہیں۔ یہ عناصر کسی نہ کسی طرح بیچارے بکروں کو لٹا بٹھا کر یا بہلا پھُسلا کر ذبح تو کر لیتے ہیں مگر اوّل سے آخر تک اس عمل کے دوران ان کا پھوہڑ اور اناڑی پن چیخ چیخ کر یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ ’’انہیں یہ کام نہیں آتا‘‘ چنانچہ اگر آپ کیس سٹڈی کے طور پر کسی ایک موسمی قصاب کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو آپ کو سب سے پہلے تو یہ معلوم ہوگا کہ اس نالائق نے شہ رگ کاٹتے وقت کم و بیش چار مختلف مقامات پر چھری چلائی اور یہ محض اتفاق ہی تھا کہ چوتھی بار بیچاری شہ رگ اس کے ہتھے چڑھ گئی۔ علاوہ ازیں اگر آپ کے کان کافی تیز یعنی سانپ صفت واقع ہوئے ہیں تو آپ کو یہ جان کر بھی دلی کوفت ہوگی کہ یہ حضرت اپنا سارے کا سارا دھیان چھری پھیرنے اور گمشدہ شہ رگ تلاش کرنے پر ضائع کر چکے ہیں اور محض تکبیر پڑھنے کی بجائے اللہ اکبر کے ساتھ استغفراللہ‘ سبحان اللہ‘ ماشاء اللہ حتیٰ کہ لاحول ولا تک پڑھ گئے ہیں کہ اس سے آگے ان کی عربی اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔ اب آئیے کھال کھنچائی کی طرف۔ موسمی قصاب اس کام میں پرلے درجے کا اناڑی واقع ہوا ہے۔ یہ بیوقوف شخص کھال میں اتنے زیادہ ٹُک لگا دے گا کہ پھر وہ کھال مشکیزہ بنانے کے تو نہیں البتہ فوارہ بنانے کے کام ضرور آ سکتی ہے۔ یہ المناک منظر دیکھ کر آپ کا دل اس کی ’’لتریشن‘‘ تک کرنے کو چاہے گا مگر اسے مسلح پا کر آپ اپنا ارادہ ترک کر کے اسے مشیت ایزدی سمجھ کر صبر شکر کر لیں گے۔
بوٹیاں بنانے کی نوبت آتے آتے بیچارہ موسمی قصاب تھک ہار کر بے قاعدہ ہانپنے لگتا ہے چنانچہ اگلے تمام مراحل نیم غنودگی کے عالم میں ہی انجام پاتے ہیں۔ بوٹیوں کا عمومی سائز آزاد نظم کے مصرعوں جیسا ہوتا ہے یعنی اگر ایک بوٹی آدھے کلو کی ہے تو دوسری نصف چھٹانک کی۔ یہ سلسلہ تقریباً چودہ گھنٹے جاری رہتا ہے اور جو کام ایک خاندانی قصاب دو گھنٹے میں مکمل کرتا ہے‘ موسمی قصاب اس پر تقریباً ڈیڑھ دن خرچ کرنے کے بعد عالمِ بے ہوشی میں آپ سے رخصت طلب کرتا ہے اور یوں گوشت کے ساتھ ’’فنا بالجبر‘‘ کا یہ لامتناہی سلسلہ اپنے منطقی انجام کو پہنچتا ہے۔
اگر چودہ گھنٹے کی اس مشقت کے بعد بھی آپ میں کوئی دم خم باقی بچے تو ذرا اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ کیا پچھلی نصف صدی سے آپ کے ملک کی باگ ڈور بھی موسمی قصابوں کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ماسوائے ایک دو کے ہر حکمران ہی پرلے درجے کا پھوہڑ اناڑی‘ نالائق اور نااہل ثابت ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو آپ کی کٹائی ڈھنگ کی ہوئی‘ نہ کھنچائی اور نہ ہی بنوائی۔
ہم مختلف ٹی وی چینلز کو مشورہ دیں گے کہ قومی تاریخ کے تمام موسمی قصابوں کی ایک جامع فہرست مرتب کرکے ہر اہم قومی دن پر چند نمایاں ترین موسمی قصابوں کو تمغات حسنِ کارکردگی سے سرفراز کیا جائے۔ اس حوالے سے پہلا اور دوسرا ایوارڈ تو بلاشرکت غیرے پرویز مشرف اور ان کے شوقین ٹوڈی شو کے رنگ باز کو جائے گا البتہ تیسرے کے لئے مستحقین کی فہرست بہت طویل ہے اور کوئی بعید نہیں کہ نوبت قرعہ اندازی تک جا پہنچے۔
یوں تو مشرف کو یاد کرنے کے ہمیں ہر روز درجنوں مواقع میسر ہوتے ہیں مگر جس روز سے ممبئی پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا ہے‘ موصوف بڑی شدت کے ساتھ یاد آنے لگے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہم نے ان سے زیادہ نااہل حکمران کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا مگر یہ بھی غلط نہیں کہ ہم سے زیادہ پھوہڑ اور نالائق عوام بھی شاید روئے زمین پر کوئی نہ ہو کہ پورے آٹھ سال چپ سادھے ایک موسمی قصاب کو اپنی قربانی کا ستیاناس کرتے دیکھتے رہے۔ ممکن ہے ہمارے اکثر دوست اور قاری ہمارے ساتھ متفق نہ ہوں مگر خدا لگتی یہی ہے کہ پکڑ دھکڑ کا جو سلسلہ گذشتہ روز سے شروع ہوا ہے‘ وہ 2002ء سے ہی چل نکلتا تو آج نہ ہم یوں بین الاقوامی تضحیک اور تحقیر کا نشانہ بنتے اور نہ ہی ہماری سیاسی‘ اقتصادی اور اخلاقی حالت وہ ہوتی جو اب ہے۔
ویسے تو آپ نے ایک موقر انگریزی روزنامہ کی سٹوری کا چرچا بھی سن لیا ہو گا جس کا فوکس اجمل امیر قصاب نامی نوجوان پر ہے جسے بھارتی خفیہ ایجنٹوں نے ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں کسی نہ کسی طرح زندہ گرفتار کر لیا ہے۔ اس شخص کا تعلق فریدکوٹ ضلع اوکاڑہ سے ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارا اپنا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ انگریزی اخبار کی اطلاع کے مطابق اجمل آج سے قریباً دو سال پہلے تک دیپالپور کی نواحی بستی فریدکوٹ میں آوارہ گردی اور پکوڑے فروشی کیا کرتا‘ پھر اچانک اس کی ملاقات کسی جہادی تنظیم کے ایک سرکردہ رکن سے ہوئی‘ پھر وہ لاہور آ گیا‘ پھر لاپتہ ہوا اور اب ممبئی حملوں میں دھر لیا گیا ہے۔ بھارتی ایجنسیاں اس کے ساتھ ہر طرح کا ’’حسن سلوک‘‘ روا رکھے ہوئے ہیں اور دروغ برگردن بھارتی ایجنسی و انگریزی اخبار اس شخص نے دورانِ تفتیش ہماری ایک دو اہم جہادی تنظیموں کا نام بھی لیا ہے اور نہ صرف مختلف سرکردہ اکابرین کو اس واردات میں ملوث کیا بلکہ مختلف فون نمبر بھی فراہم کر دئیے۔ یہ اور بات کہ دبئی میں جس ملاقات کی اطلاع متذکرہ دہشت گرد نے دی ہے وہاں سرکردہ اکابرین کبھی گئے ہی نہیں مگر ہمارے حکمران اور انگریزی اخبارات تحقیق کرنے کے عادی نہیں اس لئے بھارت کے کہے کو حرفِ آخر ہی سمجھئے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ تمام عناصر غیرریاستی ہی ہیں اور اس قسم کی کسی واردات میں بھی حکومت یا اس کا کوئی ادارہ ہرگز ملوث نہیں مگر نائن الیون کے بعد تبدیل شدہ حالات میں آپ اسے جرمِ ضعیفی سمجھیں یا حالات کی ستم ظریفی کہ حکومت پاکستان نہ چاہتے ہوئے بھی اس خواہ مخواہ کی ذلت کا شکار ہو جاتی ہے۔
ہم چاہتے تو یہ بھی تھے کہ پاکستانی دفتر خارجہ اور اس کی سفارتی مشینری کو بھی موسمی قصاب کا خطاب عطا کرتے مگر ان حالیہ شواہد نے جنہیں ابھی تک کسی نے مصدقہ قرار نہیں دیا ہم پر بھی گھڑوں پانی انڈیل دیا ہے۔ اب انگلیاں بہرحال آپ پر اٹھتی چلی جائیں گی۔ ایسے میں تو برادر ہمسایہ ملک چین تک آپ کا ساتھ چھوڑ گیا ہے کہ اس نے دو روز پہلے پاس ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو نہیں کیا اس لئے ہمارے مندوب نے دوست ملک کو ویٹو پر آمادہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ گزارش یہ ہے کہ اگر آپ عوامی جمہوریہ چین کو قائل نہیں کر سکتے تو بیچارے ڈپلومیٹ یورپ اور امریکہ کو کیونکر رام کر سکتے ہیں۔ اس لئے حکومت کو اپنے عُمال اور سفارتکاروں کی کھنچائی سے پہلے اپنے گھر کو درست کرنا ہو گا۔ موجودہ موسمی قصابوں کو مشرف اور ضیاء سمیت تمام موسمی قصابوں کی باقیات کو راہِ راست پر لانا ہو گا ورنہ یہ رنڈی رونا یونہی جاری و ساری رہے گا!!