صدر تسلیم اور مزاج یار........د ید شنید

صحافی  |  رفیق ڈوگر

مبارک باشد! اپنے نیگرو پونٹے اپنے خرچے پر اپنے صدر سے عید ملنے آئے تھے ان کی امن کی کالی دیوی کے پیغام عید کے بعد بھارت کی سونیا جی کے کیا جانوں میں کون سنگھ کا پیغام عید آیا اور پھر اقوام متحدہ نے ہمارے نمائندے کے علم و آگہی کے بغیر ہی عید مبارک کی قرارداد منظور کر لی اور جب اپنے نیگرو پونٹے جی اپنے صدر محترم سے عید گلے مل رہے تھے تو کیا جانوں میں کون سنگھ جی اپنی پارلیمنٹ کی تالیوں کی گونج میں کچھ اس طرح کا پیغام محبت پڑھ رہے تھے کہ ’’ٹھیک ہو جاؤ ورنہ جان لو کہ ہم اور چچا سام اور اس کے سب صلیبی بھتیجے ایک ہیں‘‘ ہماری حکومت نے تو اس سے پہلے ہی ’’ہم بھی تو آپ کے ہی ہیں آپریشن ‘‘ شروع کر دیا ہوا تھا پھر کیا جانوں میں کون سنگھ جی کو اس پیغام محبت کی کیا مجبوری آن پڑی تھی؟ وہی شیوا جی کے بت کو سلیوٹ؟ ایک طرف اقوام متحدہ ہماری آں جہانی ہو چکی سابق وزیراعظم کو امن کے انعام سے نواز رہی یا نواز رہا تھا تو دوسری طرف کیا جانوں میں کون سنگھ ہمارے ملک کو دہشت گردی کا مرکز ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری فرما رہا تھا۔ مبارک باشد! کس کس کو؟ ان سب کو جو تھوڑے تھوڑے ہندوستانی ہیں۔ صدر محترم کیلئے تو یہ عید بہت ہی مبارک ثابت ہوئی۔ امریکہ کے پا بہ رکاب صدر بش نے اپنے نیگرو کے ہاتھ صدر آصف علی زرداری کو عیدی میں بھی کچھ بھیجا ہے یا انہیں صرف گلے پڑنے کا ہی حکم دے کر بھیجا تھا؟ ملتانی شاہ صاحب نے ابھی تک قوم کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا ہو سکتا ہے انہیں بھی اس بارے میں کچھ بتایا ہی نہ گیا ہو۔ ملک کے وہ شاہ صاحب چیف ایگزیکٹو جو ہوئے۔ اقوام متحدہ نے ہمیں عید کی مبارکباد کی جو قرارداد منظور کی تھی اس سے پہلے امن و آشتی کا محافظ یہ ادارہ اٹھارہ سو انیس قراردادیں منظور کر چکا ہے جن میں سے ایک وہ قرارداد بھی ہے جو اس ادارے نے کشمیریوں کو ان کا رائے دہی کا بنیادی حق دلانے کیلئے نصف صدی سے بھی کئی سال پہلے منظور کی تھی اس قرارداد پر یہ امن دوست ادارہ ابھی تک بھارت سے عمل نہیں کرا سکا لیکن اس کی عید مبارک کی اس قرارداد کے منظور ہونے سے بھی پہلے ہم نے اس پر عملدرآمد شروع کر دیا ہوا تھا اس کے باوجود امریکہ کے چیئرمین جائنٹ چیفس کمیٹی نے اور کیا جانوں میں کون سنگھ نے مشترکہ اعلان کیا ہے کہ یہ تو کچھ بھی نہیں اور دو اپنے امن دوست ہونے کیلئے کچھ ثبوت۔ ہماری حکومت اور اس کے مالک و مختار اس حکم کی تعمیل میں اور کیا کچھ کریں گے۔ ہر حکم خود ہی مانتے جائیں گے یا قوم کی منتخب پارلیمنٹ کو بھی اس سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے میں شامل کرنا پسند فرماویں گے؟ ان لوگوں کے منہ میں ممیاتی بکری کی قربانی کا باسی گوشت جو بدخیالیاں کرتے پھرتے ہیں کہ ہمارے خدام کرام کے بیرونی بنکوں میں موجود ایک ایک دو دو ڈالر بھی خطرے میں ہیں پتہ نہیں ہماری قومی غیرت کب تک سوتی ہی رہے گی؟ اللہ ہمارے خدام کرام کے وہ حق حلال کی کمائی کے ایک ایک دو دو ڈالر محفوظ رکھے اور امن کے محافظ اس عالمی ادارے کو ہم مسلمانوں کے سروں پر قائم رکھے اس کی عید مبارک کی قرارداد سے پہلے والی اٹھارہ سو انیس قراردادوں میں سے ہم مسلمانوں کے مسائل اور مصائب پر کوئی توجہ دینے کے بارے میں کتنی تھیں اور ہم سے عالمی امن اور صلیبی سکون کو بچانے کے بارے میں کتنی تھیں اس کا کبھی کسی نے تجزیہ نہیں کیا لیکن ایک بات کسی تجزیہ کے بغیر کہی جا سکتی ہے کہ جو بھی کوئی قرارداد مسلمانوں یا کسی مسلمان ملک کے خلاف کسی غیر مسلم کے شکوہ و شکایت پر منظور کی گئی اس پر ہمیشہ عمل کیا اور کرایا گیا حد تو یہ ہے کہ امن و آشتی کے محافظ اس ادارے نے عراق پر حملہ کی قرارداد پر بھی مکمل اتفاق کیا تھا اور ابھی تک اس پر عمل کرایا جا رہا ہے۔ حالانکہ دنیا میں امن کے ٹھیکیدار امریکہ کے وہی صدر جنہوں نے عراق کے پاس کیمیاوی ہتھیاروں کی موجودگی کا سرٹیفکیٹ جاری کر کے وہ قرارداد منظور کروائی تھی اور عراق پر اقوام متحدہ کی چھتری کی چھاؤں میں حملہ کر دیا تھا۔ خود اعلان کر چکے ہیں کہ ان کا وہ سرٹیفکیٹ جھوٹا تھا۔ ان کے جھوٹ پر لاکھوں مسلمانوں کو مار دیا گیا۔ ایک مسلمان ملک تباہ و برباد کر دیا گیا اور کیا جا رہا ہے لیکن اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ تم سے بڑا امن اور انسانوں کا کوئی اور بھی دشمن ہے؟ اس کے باپ نے صومالیہ پر حملہ کر دینے کی اسی عالمی امن کے محافظ ادارے سے صرف اتنی سی بات پر قرارداد منظور کرا لی تھی کہ وہاں کچھ بھوکے مسلمانوں نے اقوام متحدہ کے ایک ادارے کا کچھ آٹا گندم چھین لئے تھے اس ملک کو اور اس کے عوام کو تباہ و برباد کر دینے کے علاوہ اقوام متحدہ نے وہاں اور کیا کیا ہے؟ اس اتھوپیا کی فوجوں کی پناہ میں دے دیا ہے جس عیسائی اتھوپیا سے اپنے علاقے اور مفادات چھڑانے اور بچانے کی صومالیہ اسی طرح جنگ لڑ رہا تھا لڑتا آیا تھا جس طرح کی جنگ کشمیری اپنی آزادی اور حق رائے دہی کیلئے لڑ رہے ہیں کر اسکا ہے یہ امن کا محافظ اعلیٰ ادارہ اسرائیل سے کبھی اپنی کسی قرارداد پر عمل؟ مسلمانوں سے اور مسلم ممالک سے اس نے ہمیشہ اپنی ہر قرارداد پر عمل کرایا ہے اور ان کے حق میں کسی قرارداد پر کبھی عمل نہیں کرا سکا وہ تو بش کو کاذب اعظم کا انعام دینے کیلئے بھی تیار نہیں کیا اس کاذب کی ہر بات پر یقین اور اس کے ہر حکم پر عمل سے ہوئی تباہی اور بربادی پر اس ادارے نے کبھی شرم محسوس کی ہے؟ کیا مسلم ممالک نے اس ادارے کے اس مجموعی کردار کا کبھی جائزہ لیا ہے؟ مگر بات تو شاید امن پسندی کی حدود سے باہر نکل رہی ہے اور ہمیں اور ہماری حکومت کو امن کے تحفظ کیلئے ابھی اور سر تسلیم خم کرنا ہے کہ مزاج یار کی خوشنودی اسی میں ہے۔ مبارک باشد احترام مزاج یار۔!!