جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی......نیرنگ خیال

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

جنگ کوئی پسندیدہ کام نہیں‘ نہ ہی فائدہ مند‘ ہم نے بھارت کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں اور یہ تینوں جنگیں بھارت نے ہی ہم پر مسلط کیں۔ اس کے باوجود جو نتائج نکلے وہ بھی پسندیدہ نہ تھے‘ 71ء کی جنگ میں ہم نے آدھا ملک گنوا دیا‘ یہ سبق بھارت نے اس لئے ہمیں سکھایا کہ تم جو کشمیر مانگتے ہو اب اپنا آدھا ملک کیوں نہیں مانگتے‘ دیکھیں تو ہم کئی معاملات میں بھارت کے مقروض ہیں اور قرضہ اتارنا ضروری ہوتا ہے بشرطیکہ استطاعت ہو‘ صدر آصف علی زرداری اس عدم استطاعت کو سمجھ چکے ہیں کہ ہم اس وقت جن حالات میں گھرے ہوئے ہیں وہ ہمیں جنگ کی اجازت نہیں دیتے‘ ماسوا اس کے کہ ہم اپنا ایٹم بم استعمال کر دیں جو اجتماعی بربادی کے مترادف ہے‘ بھارت مہم جوئی کیلئے پر تول رہا ہے‘ یہ اس کی حماقت ہے‘ وہ ایک ایسی ایٹمی قوت کو جو روایتی اسلحے کے لحاظ سے کم تر ہے‘ اسے ایٹمی جنگ پر مجبور کر رہا ہے‘ یہ بات ہمارے سفارتکاروں کو دنیا بھر کو سمجھا دینی چاہئے‘ اگر یہ جنگ روایتی ہتھیاروں سے لڑی گئی تو نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے اور ہم اپنے قرضے اتار بھی سکتے ہیں۔ ہمارے حکمران جو کچھ جنگ نہ ہونے کیلئے کر رہے ہیں وہ دانشمندی ہے‘ کیوں کہ پاکستان اندر باہر سنگین صورتحال سے دوچار ہے‘ اس کے باوجود بھی اسے ہماری بزدلی کمزوری قرار دیتے ہوئے اگر بھارت نے طالع آزمائی کی تو اس کے ستارے ڈوب سکتے ہیں‘ کیونکہ روایتی اسلحہ کے اعتبار سے بھی وہ اب گذشتہ جنگوں کے زمانے کا پاکستان نہیں ہے‘ وہ میزائل ٹیکنالوجی میں کہیں آگے نکل گیا ہے‘ ایسے میزائل کہ جو بھارت کے ہر کونے تک پہنچ سکتے ہیں‘ جنگ ان دونوں ملکوں کیلئے ایسی وبا ہے جو دونوں کو ساٹھ ساٹھ برس پیچھے لے جائے گی‘ جبکہ دونوں ملک اپنے تنازعات باہمی بات چیت سے حل کر سکتے ہیں‘ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے یہ بھارت بھی جانتا ہے اسی لئے وہ اسے دبائے چلا جا رہا ہے‘ کشمیر پر کامیاب مذاکرات ہو جائیں اور مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو دونوں ملک ایک دوسرے کو پھلنے پھولنے میں خاصے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں‘ ممبئی دھماکے کس نے کرائے یہ اپنی جگہ تحقیق طلب ہے‘ مگر یہ حقیقت ہے کہ اس میں پاکستان ملوث نہیں‘ بہر صورت جس نے بھی کرائے وہ یہ چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کو جنگ کی آگ میں جھونکا جائے کیونکہ وہ دونوں کی ترقی سے الرجک ہے‘ ایک اہم بات جو ہمارے من حیث القوم سوچنے کے لائق وہ یہ ہے کہ ہم اعتدال کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں اور خصوصاً مذہب کے معاملے میں جبر کی طرف بڑھ رہے ہیں‘ یہ اسلام کی خدمت ہے نہ اس کا تقاضا‘ اگر مسلم امہ کی تمام اسلام پسند قوتیں اپنے اپنے ملک میں رائے عامہ کو اپنے ساتھ ملا کر انتخابات کے ذریعے انقلاب لے آنے پر زور صرف کرتیں تو بڑے آرام اور امن کے ساتھ اسلامی ملکوں میں اسلامی نظام رائج ہوتا‘ ان کا ایک اپنا بلاک بن جاتا‘ جو مجموعی لحاظ سے دنیا کی سپر پاور کہلاتا اور عالم اسلام‘ اغیار کیلئے اس طرح شارع عام نہ بنتا جیسے ان دنوں ہے‘ اگر بھارت نے ایک بار پھر ہم پر جنگ مسلط کی تو ہم دفاع کا حق رکھتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ہماری فورسز ہر خطرے سے نمٹنے کیلئے الرٹ ہیں‘ حکومت پاکستان ممبئی دھماکوں کے حوالے سے جو اقدامات کر رہی ہے‘ ان کے پیش نظر غالب گمان یہ ہے کہ جنگ نہیں ہو گی‘ امریکہ ہمارا دوست تو ہے مگر ’’دوست‘‘ قابل اعتبار نہیں‘ ہمیں چین کی طرف توجہ بڑھا دینی چاہئے‘ روس بھارت کا قابل اعتبار دوست ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے کئی سکواڈرن بھارت پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان سے جتنا زیادہ کام لیا پہلے اتنا ہی اسے اس کا کم اقرار ہے‘ ہمیں بالآخر اس کے ساتھ دوستی رسمی بنانا ہو گی۔ امریکہ افغانستان سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا بلکہ وہ مزید فوج بھیج رہا ہے‘ اس کا کیا منصوبہ ہے اس سے ہمارے بے خبر لوگ بھی باخبر ہیں‘ اس درپیش کروسیڈ کی وجہ سے حکومت کیلئے آنے والے دن اور بھی سنگین ہوں گے‘ مگر دانشمندی تدبر اور صائب الرائے ماہرین کی رائے لے کر اسی مشکل دور سے نکلا جا سکتا ہے‘ امریکہ نے اپنی اس ساری مہم جوئی میں عالمی سطح پر نفرت ہی کمائی ہے‘ یہ بھی امریکہ ہی کا کیا دھرا ہے کہ نائن الیون کے بعد اس نے جو کچھ مسلم امہ کے ساتھ کیا اس کے نتیجے میں اسلام کو زبردست فائدہ پہنچا اور امت جو اپنے دین سے دور ہو چکی تھی اس کے قریب تر ہو گئی اگر دیکھا جائے تو امریکہ نے اس ساری تگ و دو میں گنوایا ہے پایا نہیں‘ جوں جوں وقت گزرے گا یہ حقیقت اور بھی واضح ہوتی جائے گی کہ امریکی تھنک ٹینک میں بھوسہ بھرا ہوا ہے‘
اگر کوئی طاقت یہ سوچتی ہے کہ دنیا سے مذہبی تنظیموں کا خاتمہ ہو جائے گا تو یہ ناممکن ہے‘ بلکہ مستقبل میں یہ اور زور پکڑیں گی اور اہل دانش بالآخر بقائے باہمی کی خواہش رکھنے اور بات چیت سے مسئلے حل کرنے کا مشورہ دیں گے۔ ’’جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی‘‘ سے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خواتین جنگ نہیں لڑ سکتیں‘ امریکن فوج میں اچھی خاصی تعداد عورتوں کی ہے‘ خود ہمارے ہاں بھی فوج کے طبی شعبے اور ایئر فورس میں خواتین کام کرتی ہیں‘ ہمارا مقصد تو اس مثال سے اتنا ہے کہ جنگ کوئی مفید چیز ہے اور نہ ہی آسان‘ اس کو صرف مدافعت کیلئے استعمال کرنا چاہئے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان بھارت کے درمیان کسی جنگ کا کوئی امکان نہیں‘ ہمارے حکمرانوں نے کافی حد تک آگ بجھا دی ہے۔ اگرچہ بھارتی ہندو اس آگ میں ابھی تک جل رہا ہے۔ یہ مرنے کے بعد بھی جلتا ہے اور جیتے جی بھی!