آگ دونوں طرف ہے برابر لگی ہوئی ! .....حسب توفیق

کالم نگار  |  توفیق بٹ

میں حیران ہوں اپنے حکمرانوں پر کہ ملک خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے‘ دشمن آنکھیں پھاڑتا ہوا ہماری جانب بڑھتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سطح پر ہمارا وقار اور اعتبار دائو پر لگا ہے اور حکمران ذاتی لڑائیوں یعنی اقتدار کی لڑائیوں میں مصروف ہیں کیا ہم دشمن کو یقین دہانی کروانا چاہتے ہیں کہ ہم اندر سے کٹے‘ پھٹے اور بکھرے ہوئے لوگ ہیں؟ ملک ہاتھ سے چلا جائے اقتدار نہ جائے‘ حکمرانوں کے بارے میں یہ تاثر کل بھی قائم تھا‘ آج بھی ہے۔ ذرا ڈھونڈھ کے دکھائیے فوجی اور سیاسی حکمرانوں کے عادات و اطوار میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کیا اپنے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے سب کے رویے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ پنجاب میں جو کُشتی یا نورا کُشتی جاری ہے اور اس کے جو خوفناک نتائج بظاہر دکھائی دینے لگے ہیں‘ کیا یہ جمہوریت ہے؟ جمہوریت ایک دوسرے کی بات سننے‘ ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور باہمی مشاورت سے ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کا نام ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے ایک دوسرے کی بات سننا تو درکنار ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا جائے۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنا تو دور کی بات ہے ایک دوسرے کا نام سننا بھی پسند نہ کیا جائے۔ جس قسم کی لڑائی پنجاب میں جاری ہے یوں محسوس ہوتا ہے حکومت بچوں کے ہاتھ میں آ گئی ہو‘ جسے کسی بھی وقت کھلونا سمجھ کر توڑا جا سکتا ہے۔ ایک روز محترم گورنر صاحب بڑھک مارتے ہیں تو اگلے روز اس سے ملتی جلتی بڑھک دوسرے فریق کی طرف سے مار دی جاتی ہے۔ مظہر شاہی یہ سٹائل اور کتنے عرصے تک چلے گا کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر سیاسی حکمرانوں کے بارے میں منفی تاثر گہرا ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اقتدار پسند جرنیل سیاستدانوں کو چلنے ہی نہیں دیتے۔ تو کیا اب گورنر اور حکومت پنجاب کے درمیان ہونے والی کُشتی یا نورا کُشتی میں کسی جرنیل کا ہاتھ ہے؟ کیا اب ثابت نہیں ہوتا کہ اقتدار پسند جرنیل ’’مجھے دھکا کس نے دیا تھا‘‘ کے نعرے غلط بلند نہیں کرتے۔ سیاسی حکمرانوں سے ہماری استدعا ہے خدا کیلئے اب کسی جرنیل کو یہ نعرہ لگانے کا موقع مت فراہم کریں کہ اس نعرے کی آڑ میں ایک جرنیل آٹھ نو برسوں تک جو گھنائونا کھیل کھیلتا رہا اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا میں آج ہم تنہا تنہا نظر آنے لگے ہیں۔ دکھ کی بات ہے ہم اندر سے اکٹھے ہیں نہ باہر سے پھر کیسے توقع کریں‘ کیسے اُمید باندھیں کہ مشکل وقت آیا تو سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے۔ فی الحال تو ہم ایک دوسرے کے سامنے دیواریں کھڑی کرنے میں مصروف ہیں۔ کیا دشمن کا راستہ صاف کرنے کیلئے ہمارا یہ عمل کافی نہیں؟
گورنر اور حکومت پنجاب کے درمیان تنازعہ گورنر سلمان تاثیر کی تقرری پر اٹھا تھا۔ پنجاب میں برسراقتدار جماعت کو اعتراض تھا کہ اس ضمن میں اُن سے مشاورت نہیں کی گئی۔ مشاورت کا عمل یقیناً بہتر ہوتا مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ وفاقی حکومت کا اختیار تھا اگر پنجاب حکومت اپنے اختیارات میں کسی سے مشاورت کا عمل پسند نہیں کرتی تو پھر وفاقی حکومت سے بھی ایسی توقعات وابستہ نہیں کرنا چاہئیں۔ ویسے بھی صدر آصف علی زرداری نے مختلف قومی ایشوز پر اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جو نامناسب رویہ اپنائے رکھا‘ وعدہ خلافیوں کی جو ’’خوبصورت روایت‘‘ قائم کی اُس کے بعد اُن سے یہ توقع کرنا بے وقوفی نہیں تھی کہ گورنر کی تقرری کے ضمن میں اتحادی جماعت سے مشاورت کی جائے گی؟ مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنمائوں کا یہ موقف کسی حد تک درست ہے کہ جیسے انہوں نے مرکز میں وزارتیں چھوڑیں ویسے پیپلزپارٹی انہیں پنجاب میں فری ہینڈ دے۔ گورنر پنجاب اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے‘ اُن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی وزارتوں سے الگ ہو گئی تو میں وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے کہوں گا جو وہ کسی صورت میں نہیں لے سکتے۔ اس سے تو یہ مضحکہ خیز نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی وزیراعلیٰ پنجاب کی ’’محبت‘‘ میں وزارتوں سے الگ نہیں ہو رہی۔ کیا جمہوریت کی خاطر یہ خوبصورت روایت قائم نہیں ہو سکتی کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی وزارتوں سے الگ ہو کر بھی مسلم لیگ (ن) کو حکومت کرنے دے جو کہ ویسے بھی وہ کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی بتائے کیا پنجاب میں اُن کی مرضی کے بغیر کسی چپڑاسی کا تبادلہ بھی ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں تو وزارتوں کی ’’منہ کالک‘‘ لینے کا فائدہ ؟
گورنر اور حکومت پنجاب کے درمیان تازہ تنازعہ صوبائی محتسب اعلیٰ کی حلف برداری اور پنجاب سروسز ٹربیونل کے چیئرمین کی تقرری پر اٹھا ہے۔ گورنر دو چار روز کیلئے ملک سے باہر گئے تو قائم مقام گورنر مسلم لیگ (ن) کے سپیکر رانا محمد اقبال نے صوبائی محتسب اعلیٰ سے حلف لے لیا جس کے لئے سلمان تاثیر ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔ اس عمل سے پیپلزپارٹی کے اندر بھڑکتی ہوئی چنگاریوں نے ایک بار پھر شعلوں کا روپ دھار لیا۔ گورنر نے واپس آتے ہی ان تقرریوں کے خلاف پریس کانفرنس کر ڈالی جس میں وہی لب و لہجہ اختیار کیا جو مسلم لیگ (ن) کیلئے ہمیشہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ فرمایا پنجاب حکومت نے میری عدم موجودگی میں ’’سیاسی چھاپہ‘‘ مارا ہے۔ میں اس مسئلے پر بھی خط لکھوں گا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جناب سلمان تاثیر کا کام اب صرف خط لکھنا ہی رہ گیا ہے لہٰذا ان سے یہ توقع کرنا بالکل جائز ہوگا۔ غیر جانبداری کا تاثر قائم کرنے کیلئے جہاں وہ حکومت پنجاب کی غلطیوں کی نشاندہی کیلئے خط لکھتے ہیں وہاں حکومت پنجاب کے کچھ اچھے کارناموں پر بھی خط لکھ دیا کریں۔ جناب شہبازشریف نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں مختلف اضلاع میں تقریباً ایماندار افسروں کی تقرریاں‘ پارکوں میں فری داخلہ اور ہسپتالوں میں فری پارکنگ‘ قبضہ گروپوں سے نجات‘ طلبہ میں خود اعتمادی پیدا کرنے کیلئے تقریری مقابلوں اور مضمون نویسی کا اہتمام اور عوام کو سستی روٹی کی فراہمی ایسے کارنامے ہیں جن پر تعریفی خطوط لکھنے سے گورنر پنجاب کے ضمیر کو یقیناً اطمینان ہی ملے گا۔ دوسری طرف جناب شہبازشریف کو بھی چاہئے گورنر کی باتوں کو سریس نہ لیا کریں‘ جب ’’اوپر کی سطح‘‘ پر انڈر سٹینڈنگ قائم و دائم ہے تو نچلی سطح پر شور و شرابا اُن کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ البتہ اُن کی خدمت میں ایک گزارش ضرور ہے جناب آصف علی زرداری اور جناب سلمان تاثیر کیلئے نہ سہی شہید بی بی کیلئے ہی پیپلزپارٹی کے لاوارث کارکنوں کا کچھ خیال کر لیا کریں آپ کی موجودگی میں اُن کی دال ذرا نہیں گل رہی۔ ان کے وزیروں کو بھی چھوٹے موٹے اختیارات ضرور دے دیں مثلاً یہ کہ ان کے کہنے پر پٹواریوں‘ تھانیداروں کے نہ سہی چپڑاسیوں کے ہی تبادلے ہو جایا کریں تو اتنے پر بھی وہ خوش ہو جایا کریں گے۔ ان وزرا کے محکموں کے سیکرٹریوں کو بھی ہدایت جاری فرما دیں کہ مہینے میں ایک آدھ بار ہی سہی انہیں رِنگ بیک ضرور کر لیا کریں۔ ممکن ہے محض اتنے سے ہی گورنر پنجاب کے خطوط اور غصے میں کچھ کمی آجائے!