سابق وزیراعظم اور انقلاب

کالم نگار  |  جاوید صدیق
سابق وزیراعظم اور انقلاب

پانامہ کیس میں سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نے جی ٹی روڈ پر مختلف مقامات پر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ان سے بار بار سوال کیا ہے کہ کیا آپ انقلاب کے لئے تیار ہو۔ نوازشریف نے یہ بھی کہا ہے کہ لوگ ان کے پیغام کے لئے تیار رہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے ذہن میں کس انقلاب کا خاکہ ہے۔ کیا وہ موجودہ پارلیمانی نظام کو تبدیل کر کے اس کی جگہ صدارتی نظام حکومت لانا چاہتے ہیں یا ان کے ذہن میں پاکستان کے لئے کسی اور نظام کا خاکہ ہے‘ ممکن ہے وہ داتا دربار کے سامنے خطاب میں اس انقلاب کا خاکہ عوام کے ساتھ شیئر کریں جو اب ان کے یا ان کے معتمد ساتھیوں کے ذہن میں ہے۔
جہاں تک صدارتی نظام کا تعلق ہے یہ نظام جنرل ایوب خان نے 1962ءکے آئین کے ذریعہ پاکستان میں نافذ کیا تھا اور قریباً 6 سال تک ملک میں صدارتی نظام قائم رہا۔ اس نظام میں عوام کو براہ راست صدر منتخب کرنے کا اختیار نہیں تھا بلکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے عوام پہلے اسی ہزار لوکل باڈیز کے ارکان کو ووٹ دے کر منتخب کرتے تھے ان کے بعد یہ اسی ہزار لوکل باڈیز کے ارکان صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے ارکان کو منتخب کرتے تھے اور یہی ELECTORAL COLLEGE صدر کو چنتا تھا۔ جب صدر جنرل ایوب خان سے یہ سوال ہوتا تھا کہ وہ لوگوں کو بالغ رائے دہی کے تحت ووٹ ڈالنے کا حق کیوں نہیں دیتے تو ان کا جواب ہوتا تھا کہ پاکستان کے عوام ابھی تک جمہوری نظام کو سمجھنے کے قابل نہیں‘ اس لئے انہیں ”ون مین ون ووٹ“ کا حق ابھی نہیں دیا جا سکتا۔ اس بی ڈی نظام کی بنیاد پر ریاستی طاقت اور اثرورسوخ کو استعمال کر کے 1964ءمیں ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دی تھی۔ یہی شکست ایوب خان کے زوال کا سبب بنی اور صرف دو سال بعد ایوب خان کے خلاف مشرقی اور مغربی پاکستان میں عوامی تحریک شروع ہوئی اس تحریک کے نتیجہ میں ایوب خان اور ان کے صدارتی نظام کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ پاکستان میں 1970ءکے جو انتخابات جنرل یحییٰ خان کی حکومت نے کرائے تھے وہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کرائے گئے تھے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان بھی دولخت ہو گیا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے جب 1972ءمیں حکومت سنبھالی تو وہ بھی پاکستان کو بدلنا چاہتے تھے انہوں نے پاکستان کو 1973ءکا آئین دیا۔ پاکستان کو ایٹمی پروگرام دیا۔ 1974ءمیں لاہور میں کامیاب ترین اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد کرائی۔ وہ بھی پاکستان میں انقلاب کا نعرہ لگاتے رہے لیکن وہ کوئی ہمہ گیر تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
اکیسویں صدی میں مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا ”بہارعرب“ کے نام پر مصر‘ تیونس‘ لیبیا میں انقلاب لانے کی جو کوششیں کی گئیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ بیسویں صدی میں جو انقلاب روس‘ چین اور ایران میں برپا کئے گئے ان کے لئے طویل عرصہ تک جدوجہد کی جاتی رہی۔ روس کے 1917ءکے کمیونسٹ انقلاب کے لئے جدوجہد کم و بیش ستر برس پہلے شروع کی گئی تھی لینن کی قیادت میں 1917ءمیں جو بالشویک انقلاب برپا کیا گیا اس کی ابتداءانیسویں صدی کے وسط سے ہوئی تھی۔ روس کے ممتاز دانشور اور راہنما جارجی پلیخا نوف نے WORKERS EWAWCIPATIO PARTY کے ذریعہ روس میں زار روس اور اس کے استعماری نظام کے خلاف جدوجہد کا آغازکیا تھا۔ اس جدوجہد کو کمیونسٹ پارٹی نے آگے بڑھایا اور اکتوبر 1917ءمیں بالشویک انقلاب برپا کردیا۔ سوویت یونین کی بنیاد ڈالی گئی۔ چین میں ما¶زے تنگ اور ان کے ساتھیوں نے لانگ مارچ کے ذریعہ 1934ءاور 1935ءکے دوران دس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اس لانگ مارچ میں ما¶زے تنگ کے ہزاروں ساتھیوں نے نیشنلسٹ فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے جان دی۔ یہ لانگ مارچ فتح سے ہمکنار ہوا۔ لانگ مارچ کے دوران ما¶زے تنگ اور ان کے ساتھیوں نے درجنوں پہاڑی سلسلوں اور 24 دریا¶ں کو عبور کیا۔ بیسویں صدی کا ایک اور بڑا انقلاب پڑوسی ملک ایران میں امام خمینی لے کر آئے لیکن اس اسلامی انقلاب کے لئے انہوں نے شاہ ایران کے خلاف کم و بیش بیس برس تک جدوجہد کی جلاوطنی کاٹی۔ جب امام خمینی فروری 1979ءمیں تہران پہنچے تھے تو تہران شہر میں انسانوں کے سر ہی سر تھے۔ ایئرپورٹ سے امام خمینی کی گاڑی کو باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ جسے ایک روایت کے مطابق انقلابی کارکن ہاتھوں میں اٹھا کر ایئرپورٹ سے باہر لائے تھے۔ میاں نوازشریف کے ذہن میں اگر کسی بنیادی تبدیلی کے لئے کسی انقلاب کا خاکہ موجود ہے تو وہ لوگوں سے شیئر کریں۔ اپنی پارٹی اور حامیوں سے مشاورت کریں۔ انقلاب کے لئے ماحول تیار کرنا پڑتا ہے اور انقلاب قربانیاں مانگتا ہے۔