قابل تحسین فیصلہ

کالم نگار  |  جاوید صدیق
قابل تحسین فیصلہ

توہین مذہب اور رسالت کے معروف مقدمہ جس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دیا تھا کا راقم کو چند روز قبل تفصیلی مکالمہ کا موقع ملا۔ اس فیصلے کو وسیع پیمانے پر سراہا گیا اور بعض حلقوں نے اس پر اعتراضات بھی اٹھائے۔ یہ مقدمہ فیس بک پر ’’بھینسا موچی اور روشنی کے نام سے چلائے جانے والے پیجز میں رسول کریمؐ اور اہل بیت اور صحابہ کرامؓ کے بارے میں توہین آمیز مواد کیخلاف ایک درخواست پر ہائیکورٹ میں زیر سماعت رہا۔ مقدمہ کے فیصلہ میں جہاں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اسلام‘ قرآن اور شریعت کی روشنی میں اپنے فیصلے میں مفصل دلائل دئیے وہاں فاضل جج نے بڑی عرق ریزی سے اپنے فیصلے میں اس موثر دلیل کو بھی استعمال کیا ہے کہ مذہب یا رسالت کی توہین نہ صرف پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت قابل گرفت ہے بلکہ دوسرے ملکوں خاص طور پر یورپی ممالک میں مذہب اور رسولوں کی توہین کرنے والے کو بھی سزا دی جاتی ہے۔ جسٹس صدیقی نے اپنے فیصلے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کا بھی تفصیل سے حوالہ دیا ہے اور اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ انسانی حقوق کا عالمی منشور جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دس دسمبر 1948ء کو منظور کیا ‘ میں بھی آزادیوں اور حقوق کے تناظر میں ایسی حدود کا تعین کیا گیا ہے جو دوسروں کی آزادی اور حقوق تسلیم کرنے ان کے احترام ‘ جمہوری نظام امن اور اخوت اور عام فلاح و بہبود کے مناسب لوازمات سے مشروط ہے۔ اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی منظوری کے بعد رکن ملکوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس منشور کو اپنے ہاں تعلیمی اداروں میں پڑھائیں۔ اس منشور میں یہ طے کیا گیا ہے کہ اپنی آزادیوں اور حقوق سے فائدہ اٹھانے میں ہر شخص ایسی حدود کا پابند ہو گا جو دوسروں کی آزادیوں اور حقوق کو تسلیم کرنے اور ان کا احترام کرنے کے لئے متعین کی گئی ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے فیصلے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کی دفعہ 10 کا خصوصی طور پر حوالہ دیا ہے اور لکھا ہے کہ اس دفعہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو فکر‘ اخلاقی شعور اور مذہب کی آزادی کا حق ہو گا۔ اس حق کے تحت اسے اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق ہو گا۔ مذکورہ فیصلے میں اظہار رائے کی آزادی کو قانونی اور آئینی حیثیت پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ فیصلے میں فاضل جج نے لکھا ہے کہ آزادی اظہار اور تقریر پر مناسب اور جائز قدغن صرف پاکستان کے دستور میں نہیں عائد کی گئی بلکہ سیکولر ملکوں میں بھی آزادی اظہار اور تقریر کو مناسب حدود اور قیود کے ساتھ مشروط کیا گیاہے۔ یورپ کے اکثر ملکوں میں آزادی اظہار اور تقریر کو مناسب قانونی پابندیوں کے ساتھ قبول کیا گیا ہے۔
فاضل جج نے اپنے فیصلے میں ڈنمارک کے قوانین کا بھی تفصیلی حوالہ دیا ہے۔ جہاں سے گستاخانہ خاکوں کا آغاز ہوا اور جو اسلامی دنیا میں غم و غصہ اور تشدد آمیز واقعات کا سبب بنا۔ وہاں بھی 1953ء میں اقوام متحدہ کے منشور کی تصدیق کی گئی۔ ڈنمارک میں کریمنل کوڈ کی دفعہ 140 میں دوسروں کے مذہبی جذبات کی توہین اور تضحیک کو جرم قرار دے کر اس جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو جرمانہ اور قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ فاضل جج نے فرانس میں مذہب کے تقدس کے حق میں انقلاب فرانس کے مشہور زمانہ حقوق کے اعلامیہ سے اقتباسات درج کئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ جہاں انسان کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے وہاں اس حق کا غلط استعمال کرنے والا اس کے نتائج کا ذمہ دار بھی ہو گا۔ فاضل جج نے اس سلسلے میں جرمنی کے قوانین کا بھی تذکرہ کیا ہے اور فیصلے میں لکھا ہے کہ وہ جرمنی کے ضابطہ تعزیرات میں ’’مذہب اور فلسفہ زندگی‘‘سے متعلق جرائم پر سزا دی جاتی ہے ان قوانین کی دفعہ 166 کے تحت اگر کسی کے عقیدہ اور فلسفہ حیات کی توہین کی جاتی ہے اور اس توہین سے امن عامہ میں خلل واقع ہونے کا امکان ہو‘ تو قانون شکنی کرنے والے کو قید اور جرمانہ کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فن لینڈ اور آسٹریا کے قوانین کا بھی حوالہ دیا ہے اور کہا ہے ان ملکوں میں بھی مذہب اور شہریوں کے عقائد کی توہین پر سزا دی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر مذہب، قرآن اور رسالت کی توہین کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آچکا ہے لیکن جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے فیصلہ میں مغربی ملکوں کے دانشوروں‘ صحافیوں اور خاکے بنانے والوں کے اس استدلال کو بھی مغربی ملکوں کے قوانین کی روشنی میں باطل قراردیا ہے اور سیکولر مغربی ملکوں کے اپنے قوانین سے یہ ثابت کیا ہے کہ مغرب کے سیکولر معاشروں میں بھی لوگوں کے عقائد اور مذہب کی توہین قانون کی نظر میں قابل گرفت ہے۔ جسٹس صدیقی کی یہ بڑی کنٹری بیوشن ہے کہ انہوں نے پاکستان کے لبرل طبقہ اور مغربی دانشوروں کے اس استدلال کو بڑے موثر انداز میں رد کیا ہے کہ مذہبی عقائد کی توہین پر قانوناً گرفت کا جواز نہیں ہے۔