چھوٹی چھوٹی باتوں میں بڑی بات

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
چھوٹی چھوٹی باتوں میں بڑی بات

اتوار کے دن میری خواہش ہوتی ہے کہ کوئی غیر سیاسی بات کی جائے مگر پھر وہ بات بھی سیاسی بن جاتی ہے۔ سیاستدانوں کی طرف سے جملے بازی اب کچھ کچھ تخلیقی ہو تی جاتی ہے۔ جملے بازی شاعروں ادیبوں کے درمیان ہوتی ہے۔ عام لوگوں میں بھی یہ مشغلہ عام ہو رہا ہے۔ 

سندھ اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر شہلا رضا اور نصرت سحر کے درمیان نوک جھوک ہوئی نصرت نے کوئی ایسی بات کی جو شہلا رضا کے لئے تنقیدی لہجے میں تھی تو انہوں نے نصرت کو بیٹا کہا۔ یہ لفظ کسی کو پیار سے بھی کہا جا سکتا ہے مگریہ مذاق مذاق میں بھی ہوتا ہے ایسا مذاق میں جس میں غصہ بھی ہوتا ہے۔ نصرت سحر نے ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کو امی جان کہہ دیا تو پورے ایوان نے قہقہے لگائے۔
شہلا رضا نے بھی بہت برجستگی سے جواب دیا تو پھر بیٹا تمیز سے بات کرو کاش تمہیں امی کے مقام کا پتہ ہوتا۔
بیٹا مخاطب کو محاورے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ میں جب گورڈن کالج راولپنڈی میں لیکچرار ہواتو میری کلاس میں لڑکے لڑکیاں تھے۔ ان کی عمراور میری عمر میں کم فرق تھا مگر انہیں میں ہمیشہ بیٹا کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ انہوں نے مجھے کبھی ”ابا جی“ نہیں کہا تھا۔
شہلا بہت شائستہ اور مہذب خاتون ہیں اور کامیاب سپیکر ہیں۔
کمرہ عدالت میں بہت ہجوم تھا۔ برادرم پرویز رشید زمین پر نواز شریف کے قدموں میں بیٹھ گئے۔یہ سیاسی وفاداری نہیں، ذاتی نیاز مندی کی انتہا ہے۔ اس سے پہلے ایک بار مریم اورنگ زیب بھی مریم نواز کے قدموں میں بیٹھ گئیں اور تصویریں بھی بنوائیں تاکہ ریکارڈ رہے۔
کہتے ہیں کہ مریم اورنگزیب کو وزیر بھی مریم نوازنے بنوایا ہے۔
آج کل ہمارے ہاں سموگ کا راج ہے۔ یہ دھند ہے کچھ آگے ماحول ہے جسے اندھا دھند کہا جاسکتا ہے۔
بڑے بڑے افسروں کی شہباز شریف نے کھچائی کی جو کچھ انہوں نے افسروں کے ساتھ کیا۔ اس کے لئے کھچائی کے علاوہ کوئی لفظ مناسب نہیں۔ شہبازشریف نے کہا کہ سموگ کے لئے بروقت اور مناسب اقدامات نہیں کئے گئے۔ میرے لئے جو بات اہم ہے اور خوشی کا باعث ہے وہ یہ ہے کہ سموگ پالیسی انگریزی میں بنائی گئی ہے۔
شہبازشریف بہت برہم ہو گئے اور افسروں سے پوچھا کہ کیا عوام انگریزی جانتے ہیں؟ افسران یعنی بیوروکریٹس نے ہمیشہ انگریزی سے کام چلایا۔ انہیں اس زبان کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ ایک معصوم شخص نے کہا کہ یہ کیا قابلیت ہے۔ انگریزی تو انگریزوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی بول لیتے ہیں۔ سی ایس ایس کا امتحان اردو میں ہوتا تو یہ تمام لوگ فیل ہو گئے ہوتے۔ انگریزی جاننے والے افسران ہی اصل حکمران ہیں۔ ہماری بیورو کریسی کو برا کریسی کہتے ہیں۔ کرپشن کے تمام طریقے یہی لوگ نام نہاد حکمرانوں کو سکھاتے ہیں اور بے عملی کی تربیت دیتے ہیں۔
دانشور اور تجزیہ نگار محمود صادق نے کہا ہے کہ بھٹو کے خلاف جے آئی ٹی بنانے کی بات تو دور کی بات ہے یہ لوگ بھٹو کے قریب سے بھی نہیں گزر سکتے تھے۔ جو پھانسی چڑھ گئے مگر کوئی کمپرومائز نہ کیا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں ایک بچی بار بار مشال ملک کے پاس آتی اور اس سے لپٹ جاتی اس کی معصومیت اور بے ساختگی دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا۔ بچی کو مشال ملک اچھی لگی تھی یا اپنی ماں جیسی لگی تھی؟
اسلام آباد سے برادرم اورنگ زیب نے بتایا ہے کہ ملتان شہر میں جاوید ہاشمی نے اپنی بیگم کی کوٹھی بیچ دی۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے اپنی اوراپنی بیگم کی بہت سی چیزیں بیچ دی ہیں۔ سیاست میں یوں بھی ہوتا ہے کہ کچھ کمانے کی بجائے اپنا سب کچھ فروخت کردیا جاتا ہے۔ اب جاوید ہاشمی مخدوم رشید منتقل ہوگئے ہیں۔ ہم جاوید ہاشمی کے بہت قائل ہیں وہ بہادر اور جینوئن آدمی ہیں۔
ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کی ڈرامے بازی کے مناظر ہم نے دیکھے اس اداکاری میں ہم فاروق ستار کو زیادہ مبارکباد دیتے ہیں۔ فاروق ستار نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا ہے کہ ارشد وہرہ کو نااہل قرار دیا جائے کیونکہ وہ ایم کیو ایم سے پاک سر زمین پارٹی میں چلے گئے ہیں اس سے پہلے تحریک انصاف کی عائشہ گلالئی کے لئے ایسی صورتحال بنی تھی مگر الیکشن کمیشن نے عائشہ کے حق میں فیصلہ کیا۔ سیاسی جماعتوں کی آمریت ختم ہونا چاہئے۔ بہادر اور دانشور سیاستدان ڈاکٹر بابر اعوان نے تحریک انصاف جائن کی تو سینٹ کی نشست سے استعفیٰ دیا۔ اب شاہ محمود قریشی کیا کرے گا۔ شاہ محمود نے تو جاوید ہاشمی کو تحریک انصاف سے نکلوادیا تھا۔ عائشہ گلالئی کے لئے وہ نرم پڑگئے ہیں۔
آخر میں مریم نواز کی طرف سے پڑھا گیا شعر دیکھےں جو انہوں نے مشرف کے بیان کے ردعمل میں پڑھا۔ مشرف آجکل نشانِ عبرت ہے۔
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا ہے خدا کے لہجے میں
٭٭٭٭٭