لائف سٹائل آمدن سے میچ نہیں کرتا

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
لائف سٹائل آمدن سے میچ نہیں کرتا

جے آئی ٹی کے مطابق شریف خاندان کے اعلان کردہ اثاثے اور ان کا طرز زندگی آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔رپورٹ کے مطابق وزیراعظم اور ان کے بچوں کے ذرائع آمدن میں واضح فرق ہے۔۔۔۔ جے آئی ٹی کی دس جلدوں پر مشتمل رپورٹ میں بہت کچھ زیر بحث اور زبان خلق ہے لیکن میری تمام توجہ اس ایک جملے پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے کہ نواز شریف فیملی کے ذرائع آمدن ان کے لائف سٹائل سے میچ نہیں کرتے یعنی شاہانہ طرز زندگی اثاثوں اور اِنکم سے مطابق نہیں رکھتا۔ قطع نظر کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کتنی صداقت ہے اور نواز شریف اور ان کے بچے کہاں تک بے گناہ اور معصوم ہیں ،رپورٹ کے اس ایک جملہ میں نہ صرف حکمرانوں بلکہ پاکستان کی امیر کلاس کی حقیقت بیان کر دی گئی ہے۔لائف سٹائل میں الا ما شا اللہ جج جرنیل بیوروکریٹس بزنس مین غرض ہر وہ شخص اور طبقہ شامل ہے جس کے ذرائع آمدن ان کے امیرانہ و شاہانہ لائف سٹائل سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بلا شبہ پاکستان میں یہ طرز زندگی اوپر سے نیچے آیا ہے اور ستر سالہ پاکستانی تاریخ میں حکومتیں بنانے انہیں طول دینے اور موت تک سیاست کرنے کی ہوس و حرص نے لوگوں کو خریدنے کا کلچر پروان چڑھایا ہے۔ سرکاری افسران کی تنخواہ ایک لاکھ روپیہ ماہانہ کے لگ بھگ ہو گی جبکہ طرز زندگی کروڑوں روپوں کے بجٹ کا متقاضی ہے۔ پاکستان میں جن لوگوں کے پاس پیسہ ہے توبے شمار پیسہ ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آ سکا کہ اتنا پیسہ آتا کہاں سے ہے۔ محل نما بنگلے آسائش و زیبائش فرنیچر سازو سامان گاڑیاں ملبوسات زیورات جوتے پرس عیش و عشرت سیر سپاٹے تقریبات غیر ملکی برانڈز اوردرسگاہوں سے بچوں کے تعلیمی اخراجات وغیرہ ایک لاکھ یا چند لاکھ آمدن میں ممکن نہیں۔معمولی زمیندار بھی الا ماشا اللہ لینڈ مافیاز بن چکے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں جملہ مشہور ہے کہ اس ملک میں رہنے کا مزہ ہی تب ہے جب انسان کے پاس کھلا پیسہ ہو اور بندے کی حیثیت اس کے لائف سٹائل سے پہچانی جائے۔سیاستدانوں کے کھاتے کھولنا مشکل نہیں سواد تو تب ہے جب ملک کے تمام لائف سٹائل ہولڈرز کو بے نقاب کیا جائے۔ آصف علی زرداری کے سوئس بینکوں سے بھی دولت واپس لائی جائے۔ جنرل پرویز مشرف کے لائف سٹائل کو چیلنج کیا جا سکے۔ بیورو کریٹس کے لائف سٹائل ایکسپوز کئے جائیں۔ کاروباری آئی کونز کی طرز زندگی کو کو ننگا کیا جا سکے۔ پاکستان کے پوش علاقوں میں ایسے لوگوں نے بھی محل تعمیر کر رکھے ہیں جن کے باپ دادا سرکار کے معمولی ملازم تھے اور بیٹے ارب بتی بن گئے ؟ لینڈ مافیاز سے ہائوسنگ سو سائٹیوں کے مالکان بن گئے؟ سرکاری ملازم بھی دو تین شادیاں کئے بیٹھے ہیں جبکہ سرکاری تنخواہ اور مہنگائی میں ایک فیملی کو عزت سے رکھنا مشکل ہے۔ پاکستان میں مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کو طرز زندگی کا مفہوم بھی معلوم نہیں۔سفید پوش بمشکل زندگی گھسیٹ رہے ہیں۔ لائف سٹائل حرام اور ناجائز ذرائع آمدن والوں کا ہوتا ہے۔ ناجائز مال اور ناجائز اولاد دونوں ہی باعث رسوائی ہیں۔ خدا سیاسی قائدین پر اپنا رحم فرمائیں۔ عدالت نے نواز شریف کے ماضی کا پنڈورا باکس کھولا ہے تو اب زرداری ، مشرف اور عمران خان پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ عمران خان کا لائف سٹائل بھی ان کی آمدن سے مطابقت رکھتا ہے؟ عدلیہ آزاد ہے تو عسکری و سول تمام افسران و ماتحتوں کے لائف سٹائل کے پس پشت آمدن کے ذرائع کی کھوج لگائی جائے۔ میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کی آمدن کے تمام ذرائع کی تفتیش کرائی جائے۔ جہاں تک شریف خاندان کے پنڈورا باکس کا تعلق ہے تو سیانے کہتے ہیں "ہاتھوں کی لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں "۔