”دیر آید.... درست آید“

کالم نگار  |  سعید آسی

یہ تو اچھا ہوا کہ میاں نوازشریف کو لندن پہنچ کر اپنی پارٹی کیخلاف کسی ”مست سازش“ کی بھنک پڑ گئی اور انہوں نے اپنی پارٹی میں موجود اس سازشی عنصر کے پَر کاٹنے کا حکم صادر کردیا مگر پنجاب اسمبلی کے فورم پر میڈیا کے ساتھ کی گئی یہ ”مستی“ کیا اکیلے اپنے ثناءاللہ مستی خیل کی تھی؟ یہ تماشہ تو اسمبلی میں تین دن تک چلا اور تینوں دن وزیراعلیٰ کی موجودگی میں چلا۔ تیسرے دن اسمبلی میں آﺅٹ آف ٹرن قرارداد پیش کرنے کی نوبت آئی تو کیا یہ سب کچھ کسی سازش کے تحت آناً فاناً ہوگیا؟ اسمبلی کے رولز آف بزنس کیا کہتے ہیں۔ کیا کوئی ایسی قرارداد جس کی متفقہ منظوری مقصود ہو، لیڈر آف دی ہاﺅس، اپوزیشن لیڈر، ایوان میں موجود دیگر جماعتوں کے لیڈران اور خود سپیکر اسمبلی کی پیشگی رضامندی اور منظوری کے بغیر ہاﺅس میں پیش کی جاسکتی ہے۔ ہماری پارلیمانی تاریخ میں تو آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی ایشو پر کوئی قرارداد قائد ایوان، قائد حزب اختلاف، سپیکر اور وزیر قانون و پارلیمانی امور کے نوٹس میں آئے بغیر ہی پیش ہوجائے اور پھر متفقہ طور پر منظور بھی ہوجائے۔ پھر مستیٰ خیل کو اپنی پارٹی کیخلاف سازش کرنے اور پھر اس سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہمت اور جرا¿ت کیسے ہوگئی۔ اس پارٹی کا ڈسپلن تو اتنا خوفناک ہے کہ پارٹی کے رکن قومی اسمبلی حاجی پرویز خان پر کمرہ¿ امتحان میں اپنی جگہ بھتیجے کو بٹھانے کا الزام لگا تو اسی وقت اس کی اسمبلی کی رکنیت چھین لی گئی اور ایک خاتون رکن پنجاب اسمبلی کسی کے کریڈٹ کارڈ پر شاپنگ کرتی پائی گئیں تو اپنی پارٹی قیادت کے ہاتھوں پارٹی رکنیت سے محروم ہوگئیں۔ پھر یہ کیسے ہوگیا کہ لیڈر آف دی ہاﺅس ایوان میں موجود ہوں اور ان کی پارٹی کا اکیلا مستی خیل نہیں، بے شمار ”مستی خیل“ اڑھائی تین گھنٹے تک میڈیا کے ساتھ ”اٹکھیلیاں“ کرتے رہیں۔ ان سے پوچھ گچھ ہو نہ ان کی پکڑ ہو، اگلے دن لیڈر آف دی ہاﺅس ان ساری مستیوں کا نوٹس لئے بغیر صرف اپنی جانب سے میڈیا کی آزادی کا احترام کرنے کا یقین دلائیں اور اس سے اگلے روز لیڈر آف دی ہاﺅس کی موجودگی میں ہی میڈیا کیخلاف پھر اودھم مچا دیا جائے۔
میاں نوازشریف کو اس سارے اودھم کا نظارہ کرنے کے بعد لندن پہنچ کر اپنی پارٹی کیخلاف (ق) لیگ کی سازش کا علم ہوا ہے تو چلیں دیر آید، درست آید کہہ کر اس کو بھی مان لیتے ہیں، مگر خدارا ہر ایشو پر سیاست کرنے اور ایک دوسرے پر پوائنٹ سکور کرنے کی روش اب ترک کردیجئے۔ اس میں آپ کا ہی بھلا ہے کیونکہ قوم اب آپ کی پوائنٹ سکورنگ والی حکمت عملیوں سے مرعوب نہیں ہوگی بلکہ اسکے سامنے اپنے محترم قائدین کے چہرے اور بھی بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ حضور والا، عوام بے بس ضرور ہیں مگر احمق ہرگز نہیں ہیں۔ ان کے سامنے آپ نے سانحہ¿ داتا دربار پر ایک دوسرے کے بخئے ادھیڑے اور پھر میڈیا کا طبلہ بجانے کی نوبت آئی تو آپ ایک دوسرے کیخلاف اپنی ساری زہرناکیوں کو حلق سے نیچے لے جا کر باہم شیر و شکر ہوگئے اور اسمبلی کے فورم پر متفقہ قرارداد تک کی نوبت لے آئے۔
آپ شائد عوام کو بے وقوف سمجھتے ہوں گے مگر عوام کو آپ کے ماضی، حال اور اب تو مستقبل تک کی خبر ہے۔ آپ پدرم سلطان بود کے تفاخر کو ساتھ رکھتے ہوئے اب پسرم سلطان باشد کے تانے بانے بُن رہے ہیں تو یہی میڈیا آپ کی ساری حرکات و سکنات من و عن عوام الناس تک پہنچا رہا ہے اس لئے اپنے قائدین کے بارے میں کوئی لالی پاپ انہیں کسی خوش گمانی میں مبتلا نہیں کرسکتا۔ وہ تو اس نورا کشتی کو دیکھ دیکھ کر عاجز آچکے ہیں۔ یہ کمال کی ایک دوسرے کو پٹخنیاں دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کو گزند تک نہیں پہنچنے دیتے۔ عوام کے حقوق و مفادات کی بات ہوتی ہے تو ہاﺅس میں ایک دوسرے پر لٹھ لیکر چڑھ دوڑتے نظر آتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مطعون کرتے ہیں ” آپ نے عوام کے حقوق غصب کئے رکھے ہیں، آپ نے انہیں مہنگائی، غربت، بیروزگاری کی جانب دھکیلا ہے، آپ نے ان پر لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط کیا ہے، آپ نے یہ کیا ہے، آپ نے وہ کیا ہے“ یہ آپ بڑھتے بڑھتے تُوتکار کی نوبت لے آتا ہے اور ایک دوسرے کے پرخچے اڑانے کے اس عمل میں عوام کے مسائل مزید گھمبیر ہوجاتے ہیں۔ ان کی زندگیاں مزید اجیرن ہوجاتی ہیں اور جب اپنے مفاد اور مراعات کیلئے کسی قانون کی منظوری کا مرحلہ آتا ہے تو آپ کو اپنے اختلافات کا احساس ہی نہیں ہوپاتا اور آپ سب بیک زبان ہو کر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور پھر بلند آواز کے ساتھ اس قانون کیلئے ہاں کہہ دیتے ہیں۔ اس جگلری سے عوام تو اب زچ ہوتے ہوئے محظوظ ہونے لگے ہیں جبکہ آپ نے میڈیا کو بھی عوام الناس کی طرح احمق اور بے وقوف سمجھ لیا ہے حالانکہ اب میڈیا کی دی ہوئی آگاہی کے باعث عوام بھی بیوقوف نہیں رہے۔
شائد آپ کو میڈیا پر غصہ بھی اسی بات کا ہے کہ وہ آپ کے پل پل کی خبر عوام تک پہنچا دیتا ہے۔ ڈگریوں کی جعلسازی سمیت آپ کی قرارداد تو متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے۔ ہاﺅس میں (ق) لیگ اور پیپلز پارٹی کے ارکان بھی موجود تھے لیکن اب انکے لیڈران کرام لاحول پڑھ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے یہ قرارداد منظور کرلی۔ ایسی قرارداد پاس کردی۔ ہم تو میڈیا کی آزادی کے متوالے ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے یہ کیا کردیا، بھلا 2010ءمیں ایسا ہوسکتا ہے، دنیا کیا کہے گی۔ چودھری شجاعت حسین، چھوٹے چودھری اور مشاہد حسین سید نے مسلم لیگ ہاﺅس میں (ق) لیگ کا باقاعدہ بھرپور اجلاس بلا کر شریف برادرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قرارداد واپس لیں اور میڈیا سے معافی مانگیں۔ یہ ہوتی ہے سیاست جناب! ادھر پی پی پی بھی پیچھے نہیں رہی، وزیراعظم صاحب گورنر پنجاب سے ملنے اسلام آباد سے گورنر ہاﺅس میں پہنچے۔ ہمارے بابر اعوان صاحب بھی وزیراعظم کی شکل دیکھے بغیر اداس ہوگئے تھے۔ وہ بھی آدھمکے، یہ خوبصورت ٹرائیکا دیکھ رہا تھا کہ ان کے پڑوس آواری ہوٹل اور اسمبلی کے چوک میں کیا ہورہا ہے۔ میڈیا میں انکی نمائندگی بھی آواری میں دیکھنے سننے میں آئی اور فیصل چوک میں تو ورکنگ جرنلٹس کا گھڑمس مچا ہوا تھا۔ معلوم نہیں اعوان صاحب کوئی اس بے حساب میں بھرا ہوا بریف کیس لائے ہیں یا نہیں لیکن ان کا اصل ٹارگٹ اپنے اتحادی میاں شہباز شریف ہی ہیں جن کے ساتھ اتحاد کے خاتمہ بالخیر کی تجویز وہ ضرور لائے ہوں گے جو چولستان کو آباد کرنے گئے ہوئے ہیں۔ امید ہے وہ جانتے ہوں گے کہ تیری گٹھڑی کو لاگے چور! دیکھیں وہ کیا مداوا کرتے ہیں۔
٭٭٭