ہمارا پہلا سکول.... 2

صحافی  |  رفیق ڈوگر

فارسی اور اردو کے استاد مولوی زبیر صاحب تینوں جماعتوں کے امتحانی پرچے پہلے سے تیار کر کے الماری میں رکھ دیتے تھے الماری کی چابی ہمارے پاس ہوتی تھی اور ہمیں زبیر صاحب کی اس امانت میں خیانت کے بارے میں سوچنے کی بھی کبھی ضرورت نہیں پڑی تھی برج اٹاری کے الف خاں صاحب ہمارے بڑے ”خاں“ قسم کے ہیڈ ماسٹر ہوتے تھے وہ آٹھویں جماعت کے انچارج بھی تھے اور ٹیسٹ میں فیل ہو جانے والوں کے داخلے نہیں بھیجا کرتے تھے اور ہمیں ”انسانی ہمدردی“ کے تحت ان کے ایک ہونہار شاگرد کو ایک دفعہ ایک دو سوال بتانا پڑ گئے تھے انسانی ہمدردی کے تحت ہی ایک دفعہ الف خاں صاحب نے مجھے اتنا مارا تھا کہ مولوی زبیر صاحب اور مولوی شیر محمد صاحب کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔ ہمیں اپنے ایک ہم سڑک ساتھی کی ٹھکائی کی ساری ذمہ داری اپنے سر لینا پڑ گئی تھی کیونکہ لیڈر کے داخلہ اور سنہری مستقبل کا مسئلہ تھا لیکن جب ”ڈوگر پن“ کا مستقبل خطرے میں دیکھ کر لیڈر اپنے مستقبل سے بے نیاز ہو گیا تو ہمارے اس ہم سڑک کو پھر کبھی الف خاں صاحب سے ہماری شکایت کا حوصلہ نہ پڑا ہیڈ ماسٹر عبدالحمید صاحب سے بھی ایک دفعہ میں نے بہت مار کھائی تھی لیکن اس بار میں اکیلا نہیں تھا جتنے بھی ڈوگر ایک ہی ہاتھ پر سارے ڈنڈے کھانے کے قابل تھے سارے صف باندھ کر میرے ساتھ کھڑے تھے اور اسمبلی کے بعد سب کی موجودگی میں ہم سب نے بہت ڈنڈے کھائے تھے۔ ہمارے سکول سے تھوڑے فاصلہ پر نالہ ڈیک بہتا رہتا ہے اس زمانے میں ڈیک میں پانی بھی ہوتا تھا اور کافی صاف ستھرا بھی ہوتا تھا اور ہیڈ ماسٹر صاحب نے سیلاب کے موسم میں ہمیں ڈیک کے سیلابی پانی میں نہاتے ، چھلانگیں لگاتے اور لڑتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا اور اگلے روز انسانی ہمدردی کے تحت اسمبلی کے بعد ہمیں الگ کر لیا تھا۔ ڈنڈے جتنے بھی ہوں ایک ہی ہاتھ پر کھانے اور کبھی دوسرا ہاتھ آگے نہ کرنے کا فیصلہ سب ڈوگروں کا مشترکہ فیصلہ تھا جس کی خلاف ورزی ممکن نہیں ہوتی تھی ورنہ ڈنڈے بہت زور زور کے پڑتے تھے۔ پڑھائی کی وجہ سے آٹھ سالوں میں مجھے صرف ایک ڈنڈا کھانا پڑا تھا سود در سود کا ایک سوال میں گھر سے کاپی پر تو ٹھیک حل کر کے لایا تھا مگر ٹیسٹ کے وقت وہی سوال غلط ہو گیا تھا اور ماسٹر غلام رسول صاحب کو اس ”لاپرواہی“ پر غصہ آگیا تھا۔
ہمیں لکھنا پڑھنا اور بولنا مولوی زبیر صاحب نے سکھایا۔ مولوی صاحب بولنے سے پہلے ایک ایک لفظ بار بار تولتے تھے اور خاندانی ”جانگلی“ ہونے کے باوجود پان اور پاندان کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ ہر دوسرے تیسرے روز وہ اپنے سامنے بٹھا کر ہم سے کسی موضوع پر مضمون لکھواتے تھے اور پر اچھی اور بری تحریروں کا فرق سمجھاتے تھے۔ بچیکی سکول چھوڑنے کے بہت سال بعد مولوی صاحب سے ایک بار لاہور میں ملاقات ہوئی۔ میں نوائے وقت میں رپورٹر تھا اور وہ قومی لباس کے مقابلہ کا انعام لینے لاہور آئے تھے اور اپنے انعام کی نسبت میری ”کامیابی“ پر زیادہ خوش ہوئے تھے۔ زبیر صاحب پڑھانے کے دوران بھی امتحان جاری رکھتے تھے۔ ایک کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا سوال پوچھ پوچھ کر جائزہ لیتے رہتے تھے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ ساتویں جماعت میں تھے تو زبیر صاحب نے پابندی لگا دی کہ ”تم نے کسی سوال کا جواب نہیں دینا“۔ ایک دفعہ زبیر صاحب کے اپنے ”امتحان“ کا بھی وقت آگیا۔ سکول میں سامنے کے کمرے کی بیرونی دیوار پر زبیر صاحب نے موٹے حروف میں ایک شعر لکھوایا ہوا تھا
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
قومی اسمبلی کے رکن رائے شہادت کے فرزند فلک شیر ہمارے دوست اور ہم جماعت تھے۔ ایک روز رائے صاحب اپنے بیٹے کے ساتھ اچانک سکول آگئے اور اس سے نوشتہ¿ دیوار کا مطلب پوچھ لیا تو زبیر صاحب کو اپنے کام کے ثبوت کے طور پر ہمیں بھی آگے کرنا پڑ گیا تھا۔رائے صاحب جاننا چاہتے تھے کہ وہ ”فاتح عالم“ کون تھا جس سے محبت سے کامیابی مل جاتی ہے۔
اس زمانے میں سکول بہت تھوڑے ہوتے تھے۔ ہائی سکول تو بہت ہی تھوڑے تھے۔ ہمارے اردگرد ایک ہائی سکول ننکانہ میں تھا ایک مشنری ہائی سکول ماٹناپور میں تھا اور دو ہائی سکول پچیس چھبیس کلومیٹر دور جڑانوالہ میں تھے۔ ہم ساتویں میں ہوتے تھے تو کسی نے ہمارے سکول کو ہائی سکول بنانے کی تحریک شروع کر دی۔ ہم بہت خوش ہوئے۔ ایک تو ہمارا سکول ہائی ہونے جا رہا تھا اور دوسرے علاقہ کے رکن قومی اسمبلی ہمیں سکول کے بہترین طالب علم کا ایوارڈ دینے والے تھے۔ ایوارڈ کمیٹی نے سب کے تعلیمی ریکارڈ دیکھے۔ بزم ادب کا رجسٹر کھنگالا، دانتوں کی صفائی اور ناخنوں کی لمبائی دیکھی اور ہمیں سکول کا بہترین طالب علم قرار دے دیا۔ ہم تقریب عام کی تیاریوں میں لگ گئے۔ بہت بڑی تقریب ہوئی۔ سکول میں بہت بڑا جلسہ ہوا۔ بڑے بڑے ارکان اور مہمان آئے۔ سب نے بڑے بڑے وعدے کئے۔ کسی نے ایک کمرہ بنانے کا خرچ اپنے ذمہ لیا، کسی نے کھیل کے میدانوں کو توسیع کا خرچہ دینے کا اعلان کر دیا اور سٹیج سیکرٹری ہیڈ ماسٹر عبدالحمید صاحب نے ہمارے دوست فلک شیر کو مڈل سکول بچیکی کا بہترین طالب علم ہونے کا اعلان کر دیا۔ رائے صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اپنے فرزند کو مڈل سکول بچیکی کا بہترین طالب علم کا انعام دے کر بہت خوشی محسوس کی۔ لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں اور ایوارڈ کمیٹی کے ارکان اساتذہ کئی روز تک ہیڈ ماسٹر صاحب کے حسن انتخاب کی داد اور ہمیں تسلیاں دیتے رہے۔ ہمارے سکول چھوڑنے تک کسی بھی رکن اور رائے نے اس جلسہ عام میں کیا اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا تھا۔
ہیڈ ماسٹر عبدالحمید صاحب ساتویں میں ہمیں انگریزی پڑھایا کرتے تھے اور کمرے میں چل پھر کر ٹہل ٹہل کر انگریزی پڑھانے کے دوران انگریزی بول چال کی بھی مشق کراتے رہتے تھے۔ ایک روز انہوں نے ایک کافی ہوشیار لڑکے سے اچانک سوال کیا: \\\"What is your father?\\\" اس نے نہایت اعتماد سے جواب دیا: \\\"Sir! Your father isour farmer.\\\" قہقہہ لگانے کی تو کسی میں جرا¿ت ہی نہیں ہوتی تھی، اس صدمے کے مارے ہیڈماسٹر کہیں اور چلے گئے اور جلد ہی انگریزی میں تنگدستی کی وجہ سے ہمارے وہ دوست بھی اٹھ کر دکان پر جا بیٹھے اور بہت ہی کامیاب دکاندار ثابت ہوئے۔ ہم نے بہت سے اچھے اچھے ساتھیوں کو انگریزی کی تلوار سے ”ذبح“ ہوتے دیکھا ہے۔
عبدالحمید صاحب کے جانے کے بعد جو استاد ہمیں انگریزی پڑھانے آئے وہ بہت ہی وکھری قسم کے ”استاد“ تھے۔ انگریزی وہ بہت اچھی پڑھاتے تھے، گرائمر میں Direct Indirect اور Passive Voice Active Voice انہوں نے اس مہارت سے سمجھائے کہ انگریزی گرائمر بھی حساب معلوم ہونے لگی لیکن سکول کے استاد اور شاگرد سب ان سے دور دور رہتے تھے صرف پی ٹی ماسٹر سے ان کی دوستی ہوئی تھی۔ چاق و چوبند پی ٹی ماسٹر بڑے بڑے زمیندار اور جاگیردار خاندانوں کے لڑکوں کے خصوصی دوست ہوتے تھے۔ اس دوستی اور باہمی سرپرستی کی وجہ سے ان کا سکول میں ایک طرح سے ”راج“ ہوا کرتا تھا۔ ورنیکلر فائنل کے امتحان کا سنٹر گورونانک ہائی سکول ننکانہ تھا۔ ایک استاد کو ہمارے ساتھ جانا تھا۔ پی ٹی ماسٹر اور ان کے گروپ نے کہا انگریزی ماسٹر ساتھ جائے گا۔ ”شوہدے پناہی“ سب اکٹھے ہو گئے۔ ”ہم تو اس کے ساتھ امتحان دینے نہیں جائیں گے“۔ ہیڈ ماسٹر نے بہت کوشش کی مگر کوئی بھی ”شوہد پنائی“ انگریزی ماسٹر کو ساتھ لے جانے پر راضی نہ ہوا اور سب ”شوہدوں“ نے انتظامیہ کا رخ ہماری طرف موڑ دیا کہ ”جو نیت امام کی وہ تمام کی“۔ ہم تو اپنے ”مقتدیوں“ کی مرضی کے خلاف نہیں جا سکتے، ”جو نیت تمام کی سو امام کی“ کا ”فتویٰ“ جاری کر دیا۔ اس طرح ہم امتحان کی آزمائش کے آخری مرحلے میں پناہی اور جانگلی الگ الگ ہو گئے۔ سارے ”شوہدے“ ہیڈ ماسٹر کے انتظامات کے تحت امتحان دینے گئے اور سارے ”جانگلی“ پی ٹی صاحب کی قیادت میں ننکانہ پہنچ گئے۔ امتحان کے دنوں میں ہم گورو نانک ہائی سکول کے ایک کمرے میں فرش پر سویا کرتے تھے اور ہمارے سارے ”جانگلی“ دوست شہر میں کہیں رہتے تھے۔ ہمارے کچھ دوست اور ساتھی انگریزی نے چھین لئے تھے اور باقی انگریزی ماسٹر نے، پی ٹی ماسٹر صاحب ہمیشہ کیلئے ہم سے ناراض ہو گئے۔ ان کا خیال تھا کہ اس ”بغاوت“ کے ذمہ دار ہم ہیں۔ بہت عرصہ بعد جب لاہور میں ”ہپی کلچر“ فروغ پذیر ہوا تو ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے وہ انگریزی ماسٹر اس جنس کے جد امجد ہوتے تھے۔ وہ لاہور سے ہی اتنی دور ہمیں انگریزی سکھانے گئے تھے۔ ہمیں بچیکی سکول کا سب سے بڑا صدمہ سکول چھوڑتے وقت برداشت کرنا پڑا۔ ہم سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ لینے گئے تو ہمارے ایک محترم استاد نے حکم دیا: سرٹیفکیٹ رجسٹر والے مولوی صاحب کو انعام دو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اتنے اچھے نمبر لئے ہیں لہٰذا انعام ان مولوی صاحب کا حق بنتا ہے حالانکہ انہوں نے کسی پچھلی جماعت میں ہمیں تھوڑی سی دینیات پڑھائی تھی۔ استاد محترم کا خیال تھا کہ ہمارے اول آنے کا ہم سے انعام لینا ان کا حق اور ہمارا فرض ہے۔ استاد کا حکم تھا اور دوسرے استاد محترم کو ”انعام“ دیئے بغیر سرٹیفکیٹ نہیں مل سکتا تھا مگر ہمارے لئے سب سے بڑا انعام تو وہ تھوڑی بہت تعلیم و تربیت تھی جو ہم نے آٹھ سالوں میں اس سکول سے حاصل کی تھی اس سے بڑا انعام اور کیا ہو سکتا تھا؟ آٹھ سال کی سڑک پیمائی، ٹھنڈے پانی میں ڈبکیوں اور اساتذہ کی محنت مشقت سے حاصل ہونے والا وہ انعام آگے چل کر بہت بڑا ثابت ہوا اور یہ بات بھی ابتدائی جماعتوں میں ہی سمجھ آگئی کہ اسمبلی کی رکنیت ہر اصول سے بالا ہوتی ہے اور اس کی بالائی اور ہیبت کے سامنے بڑے سے بڑے بااصولی ”شوں ماسٹر“ کی بھی ”چیں“ بول جاتی ہے۔
وقت پیمائی کی تھکاوٹ کے کسی لمحہ میں تصور بچیکی پہنچ جائے تو بہت سے معدوم چہرے چمکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مشفق اور محنت کوش اساتذہ کے چہرے جو سارے شاگردوں کو ایسی لگن سے پڑھاتے اور سنوارتے تھے جیسے اپنے بچوں کوپڑھایا اور سنوارا جاتا ہے۔ ٹیوشن کیا بلا ہے کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا۔ چوتھی جماعت کا ”سنٹر کا امتحان“ تھا۔ غلام رسول صاحب نے حکم دیا ”بستر لے آﺅ“۔ وہ رات کو جگا جگا کر سب کو اپنے خرچ پر پڑھایا کرتے تھے۔آٹھویں کے امتحان کی تیاری کے وقت بھی سب نے ساری سردیاں سکول کے کمرے میں زمین پر بچھے بستروں میں گزاریں۔ رات کو جملہ استاد باری باری تیاری کرواتے تھے اور اگر کسی کے گھر سے کھانا منگوانے کا انتظام نہ ہوتا تو وہ بھی مل جل کر کر لیا کرتے تھے۔ ہمارا ایک ”جانگلی“ دوست کافی بڑی زمینوںکے مالک باپ کے فرزند تھا اور اکثر لیٹ سکول آیا کرتا تھا۔ ایک دن .... طفیل صاحب نے ڈانٹا تو افسردہ ہو گیا ”میری ماں مر چکی ہے مترئی ماں وقت پر کھانا نہیں دیتی“۔ طفیل صاحب بھی افسردہ ہو گئے۔ پھر وہ جب بھی لیٹ آتا تھا طفیل صاحب کو افسردہ کر دیتا تھا۔ ایک روز اس کے باپ کو بلوایا، کرسی پر بٹھایا، ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر اس کے فرزند کی طرف آگئے ”زندگی اور موت خدا کے بس میں ہے، انسان بے بس ہے مگر بچوں کی تعلیم پر دھیان دینا تو بندے کے اپنے بس میں ہے۔ ماں کے نقصان کا کوئی ازالہ نہیں کر سکتا مگر اسے بیٹے کی تعلیم کا نقصان نہ بننے دیں“۔ اس نے حیرانی سے طفیل صاحب سے پوچھا ”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“ فرزند کی ماں مر گئی ........ اللہ کی مرضی آپ اس کی دوسری ماں سے کہیں اسے بھی اپنا ہی بچہ سمجھے“۔ طفیل صاحب نے بات جاری رکھی۔لڑکے کا باپ اس انداز سے اچھل پڑا جیسے کرسی میں کرنٹ آگیا ہو ”کھچ دی کھچ جھوٹ پیا مریندا اے“۔ایک شوہدا پناہی چھٹیاں بہت کرتا تھا۔ ایک روز غلام رسول صاحب نے اس کے چچا کو بلوایا ”تمہارے باپ نے کتنی شادیاں کی تھیں؟“ انہوں نے اس کے بھتیجے کی چھٹی کی درخواستیں اس کے سامنے رکھ کر پوچھا۔ چھ سات ماہ میں وہ اپنی نصف درجن کے قریب دادیاں مار چکا تھا۔ اس کا باپ لاہور میں ہوتا تھا .... (ختم)