چلو اب صلح صفائی!

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

نہیں جگ میں لڑائی اس قسم کی
کہاں ہے جگ ہنسائی اس قسم کی؟
گذارش ہے مری اہلِ قلم سے
نہ غصے میں وہ آئیں ایک دم سے
ذرا صبر و تحمل سے وہ سوچیں
کہ نوبت کیوں ہے آئی اس قسم کی
بجا تنقید کا حق ہے سبھی کو
مگر ہرزہ سرائی اس قسم کی؟
ہے لازم احترام زن بھی ہم پر
”فٹیج“ کیونکر چلائی اس قسم کی
جو کہتے ہیں کہ ہو توصیف ہردم
دکھائیں پارسائی اس قسم کی
سیاست دان کیا سارے برُے ہیں
کہ ہو ان کی برائی اس قسم کی
روائت سوچئے تو کس وجہ سے
صحافت میں در آئی اس قسم کی
کریں اعلان ہم اگلے قدم سے
نہ ہم ان سے نہ وہ ناراض ہم سے
ملا ئیں ہاتھ دونوں صاف دل سے
نہ ہو پھر ہاتھا پائی اس قسم کی
ہمیں مل جل کے منزل تک ہے جانا
نہ رستے میں ہو ”کھائی“ اس قسم کی
جلائی اب سچ کی وہ شمع کس نے
نہ ہو پہلے جلائی اس قسم کی
دوبارہ جنگ کی نوبت نہ آئے
ہو اب صلح صفائی اس قسم کی