چشمہ جہلم لنک کینال تنازع اور چند حقائق

تحریر: ماروی میمن.............
پاکستان بننے کے بعد اب تک صوبے آپس میں اکٹھے رہنا سیکھ رہے ہیں۔ تاہم اس جدوجہد کے دوران ہم نے سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی پر کئی تلخ لڑائیاں بھی دیکھی ہیں۔ ان لڑائیوں سے مجھے بہت تکلیف ہو تی ہے۔ پچھلے دو سالوں میں ،میں نے کافی کوشش کی کہ میں اپنی تمام تر ذمہ داریاں سارے صوبوں اور علاقوں کے لئے یکساں اور احسن طریقہ سے نبھاﺅں۔ میں یہ ہر پاکستانی کا حق سمجھتی ہوں کہ وہ اس زمین سے لسانی اور مذہبی اختلافات کے باوجود کمائیں۔ پاکستانی سیاست میں میں نے صوبائیت دیکھی ہے پاکستانیت نہیں۔ میں نے سیاستدانوں کو پانی کے مسئلہ پر صوبائی اور سیاسی فائدے پر مبنی پوزیشن لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ میں نے کسی کو بمشکل ہی ٹیکنیکل حقائق پر مبنی فیصلے لیتے ہوئے دیکھا ۔ تمام پاکستانیوں کے برابری کے حقوق پر کیوں سمجھوتہ کیا جائے؟ ایسا کمپرومائز کیوں کیا جائے جس سے انہیں100%حق حاصل نہیں ہوتا؟ یہ کسی کے ساتھ بھی انصاف نہیں۔ نہایت افسوسناک بات ہے کہ سندھ اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاستدان چشمہ جہلم لنک کینال پر صوبائیت کی بنیاد پر لڑ رہے ہیں، پاکستانیت اور معاہدے کی بنیاد پر نہیں۔ پاکستانیت پر مبنی پوزیشن لینی پڑے گی جس میں جنوبی پنجاب اور سندھ کے عوام پانی کی کمی کی وجہ سے نقصان برداشت نہ کریں۔ ایسی پوزیشن جس میں چشمہ جہلم لنک کینال پر حق سے متعلق غلط حقائق پیش کر کے ایک دوسرے کے لئے نفرتیں نہ بڑھائی جائیں۔ سندھ اور جنوبی پنجاب دونوںکو برابر حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان کےلئے Bread Basketکا کام کریں اور ان سے ان کے حق کا پانی نہ چھینا جائے ۔ ہر حکومت کا کام ہے کہ ان کےلئے قانونی طور پر جائز ذرائع سے پانی کی فراہمی کو ممکن بنائے۔ حکومت ان دونوں علاقوں کو اپنی کرپشن، نا اہلی، پانی چوری کی حوصلہ افزائی اور منگلا جیسے پانی کے دوسرے ذخائر کے بارے میں بدنیتی سے کام لیتے ہوئے پانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکمران طبقہ دونوں اطراف میں پانی کی کمی کی وجہ سے نقصان برداشت نہیں کر تا کیونکہ وہ پانی چوری اور اثر و رسوخ کی وجہ سے ناجائز ذرائع سے اپنی ضروریات پوری کر لیتے ہیں۔ یہ جنوبی پنجاب کے غریب ہی ہیں جو ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں ۔ فروری 2010ءسے پنجاب اور سندھ کے بیچ چشمہ جہلم لنک کینال کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے ۔ اسی لئے میں نے 18فروری کو قومی اسمبلی کی ذیلی قائمہ کمیٹی برائے کلائمیکس چینج جس کی میں چئیرپرسن ہوں کی میٹنگ بلائی جس میں کلائمیکس چینج کی وجہ سے پانی کی کمی پر اثرات ڈسکس کئے گئے اور چشمہ جہلم لنک کینال کے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس میٹنگ میں دونوں اطراف کے بیوروکریٹ اور سیاستدانوں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئے:
پنجاب نے اس بات کی تصدیق کی کہ Indus Water Treaty میں چشمہ جہلم لنک کینال کا کوئی ذکر نہیںاور یوں اس کی کوئی Justificationنہیں ہے سوائے لفظ Fundکے جس کے بعد ایک علیحدہ لسٹ لگا دی گئی جس میں دو بڑے ڈیم منگلا ، تربیلا اور 6بیراجوں وغیرہ کا ذکر شامل ہے ۔
ماہرین نے تصدیق کی کہ 1960ءمیں لندن میں Indus Basin Advisory Boardکی میٹنگ ہوئی جس میں مغربی پاکستان اور پنجاب کے 60اراکین نے شرکت کی۔ اس میں سندھ سے کوئی ممبر شامل نہیں تھا۔ ایس ایم قریشی نے اس پر احتجا ج بھی کیا۔ اس وقت جب سندھ کی نمائندگی نہیں تھی ایک لسٹ تیار کی گئی جس میں پہلی مرتبہ چشمہ جہلم لنک کینال کا ذکر کیا گیا جسے بطور کالا باغ چشمہ جہلم لنک سے متعارف کرایا گیا۔ جو کالا باغ بیراج سے نکلنی تھی۔ یوں اس کی تعمیر کوئی متفقہ فیصلہ نہ تھا۔
پنجاب کے ماہرین آبپاشی نے اس بات کی تصدیق کی کہ Indus Basin Development Fund Agreementکو 1964ءکی میٹنگ میں لسٹ کو اپ ڈیٹ کیا گیا یہاں ورلڈ بینک نے پاکستان کو اپنے پراجیکٹ خود ڈیزائن کرنے کا کہا ۔ ماہرین نے تصدیق کی کہ اوریجنل لسٹ میں روہتاس اور منگلا کا ذکر تھا نہ کہ چشمہ جہلم لنک کینال کا ۔ یہ بات مانی گئی کہ بین الاقوامی کنونشن کے مطابق انڈس واٹر ٹریٹی پر کام کواس وقت تک شروع نہیں کیا جا سکتا جب تکLower Riparianیعنی سندھ اس کی اجازت نہ دے۔ پنجاب کے ماہرین آبپاشی نے اس بات کی تصدیق کی کہ جولائی 1972ءمیں ہونے والی میٹنگ میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ سندھ کے چیف منسٹر کو Vetoکا حق حاصل ہو گا کہ وہ فیصلہ کریں کہ چشمہ جہلم لنک کینال سے پنجاب کو پانی ملے کیوں کہ Lower Riparianہونے کی وجہ سے ان کا یہ حق بنتا ہے۔ یہ معاہدہ ایک سال کے لئے ہوا تھا جس کی 1973ءاور 1974ء میں تجدید کی گئی۔ ڈکٹیٹر جنرل ضیاءنے جب اقتدار سنبھالا تو اس معاہدے کی تجدید نہیں کی گئی۔ 1985ء میں ZMLAجنرل گیلانی اور چئیرمین واپڈا نے سندھ کے شدید احتجاج کے باوجود چشمہ جہلم لنک کینال کو کھولا۔ پنجاب کے ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ معاہدے کے پیرا 4کے مطابق جو بھی ڈسچارج ہو گا وہ ایڈہاک بنیادوں پر ہو گا ۔ اس کا مطلب مستقل بنیادوں پر پانی کا اخراج نہیں ہو گا۔ ارسا نے کہا کہ چشمہ جہلم PERENNIALکینال نہیں ہے اس لئے سارا سال پانی کے FLOW کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی حقیقت میں یہ ایک ایسا لنک ہے جسے اضافی پانی کی صورت میں ہی کھولا جا سکتا ہے ۔
1991ءکے معاہدے کے مطابق لنکس صرف اسی صورت میں پانی کا اخراج کر سکتے ہیں اگر انڈس مین پر تمام کینالوں ، ڈاﺅن سٹریم کو ٹری کو معاہدے کے مطابق پانی پورا حاصل ہو ۔ یوں پیرا 4پر عمل تب ہی ممکن ہے اگر پیرا 2اور پیرا 7کے مطابق پانی کی تقسیم پوری ہو جائے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ 1991ءکے معاہدے پیرا 2کے مطابق پانی کی تقسیم پر عمل نہیں کیا گیا اور نہ ہی پیرا 7پر ڈاﺅن سٹریم کو ٹری کے لئے 10MAFپر عمل کیا گیا۔ اس بات کی تصدیق کی گئی کہ لنکس سے پانی کے اخراج پیرا2اور پیرا 7پر مکمل عمل کئے بغیر کیا گیا یہ 1991ءمعاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ یہ سچ نہیں ہے کہ دریائے جہلم اور چناب کا پانی Upper Tributaryعلاقوں کی نہروں میں استعمال ہو تا ہے ۔خریف کے دوران دریائے جہلم اور چناب میں کافی پانی ہو تا ہے نہ صرف Upper Tributaryکے علاقوں کے لئے بلکہ Lower Tributaryکے علاقوں کے لئے، اس کے ساتھ ساتھ منگلا میں پانی کی ریزنگ کے لئے۔اس لئے چشمہ جہلم لنک کینال اور تونسہ پنجند کوعام حالات میں خریف میں استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ چشمہ جہلم لنک کینال اور تونسہ پنجند بین الصوبائی کینال ہے اور ان کا استعمال بھی اسی کے مطابق کیا جائے ۔ ارسا اس کو ایک صوبے کی خواہشات کے مطابق ریگولیٹ نہ کرے بلکہ ان کینالوں کو صوبوں کے مابین پانی کی برابری تقسیم یعنی 1991ءکے معاہدے کے مطابق ریگولیٹ کیا جائے۔ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے معاملے پر ارسا کے ممبران نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے تحریر میں یہ بتا دیا ہے کہ چشمہ جہلم ہائیڈرو پاور کے پاس اس سال Water/Fuelدستیاب نہیں ہے ۔ پنجاب کے پاس ہائیڈر وپاور کے لئے 300جگہیں ہیں ۔ 48 Preferencialہیں اور 47کینال پنجاب میں ہے۔ تو پھر 48 ویں ہی کا انتخاب کیوں کیا جائے جو دو صوبوں کے درمیان لنک ہے۔ نیپرا نے تصدیق کی کہ سندھ حکومت کے اعتراض اور ریویو پٹیشن کی وجہ سے چشمہ جہلم لنک کو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لئے ابھی تک لائسنس نہیں دیا گیا۔
اوپر دئیے گئے حالات اور حقائق کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ چشمہ جہلم لنک کینال سے پانی کے اخراج کا اُس وقت تک جواز نہیں جب تک سسٹم کی ضروریات نہ پوری کی جائیں اور اضافی پانی دستیاب نہ ہو۔ ان حقائق کے مطابق جنوبی پنجاب کی پانی کی ضروریات کو فوری طور پر منگلا اور دوسرے ذرائع سے پورا کیا جائے نہ کہ Enabling Deviceسے۔ ہمیں پاکستان کو صوبائیت اور غیر ضروری تنازعات سے بچانا ہے۔ ہمیں معاہدا ت کی پابندی کرنی ہو گی ۔ ہم ووٹوں کی خاطر ان کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔