سرکاری اخراجات میں نمک سے کم بچت کا منصوبہ

کالم نگار  |  محمد مصدق

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک حیرت انگیز اعلان کیا ہے کہ حکومت نے اخراجات میں کمی کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ ہم یہ سمجھیں کہ وزیراعظم برطانیہ کی تقریر کا اثر ہو گیا ہے جس میں انہوں نے سرکاری اخراجات میں کمی کرنے کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔ یہ خیال اس لئے آیا کہ آجکل سید یوسف رضا گیلانی عالمی لیڈروں کی تقلید بغیر سوچے سمجھے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ امریکی صدر تو ہر ماہ ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتا ہے تو انہوں نے ریڈیو پر خطاب کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اب اس خطاب کو ریڈیو کے کتنے سامعین سنتے ہیں اس پر اپنے ڈی جی ریڈیو کے کنٹریکٹ کی سفارشیں ڈھونڈنے والے سولنگی صاحب کو ضرور سروے کرانا چاہئے۔ ہو سکتا ہے اس فرضی سروے سے کنٹریکٹ کی تجدید ہونے کے ساتھ کچھ فنڈز بھی مل جائیں تاکہ ریڈیو فنکاروں کے چیک تو کیش ہو سکیں۔ یہ تو جملہ¿ مصترضہ تھا اصل بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب بلاضرورت غیرملکی دورے نہیں کئے جائیں گے۔ اس طرح حکومت کا خیال ہے کہ سرکاری اخراجات/ میں بہت بڑی رقم کی بچت ہو جائے گی۔ وزیراعظم سمیت بہت سے ان کے ناقدین واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ غیرملکی سرکاری دورے حکومتی اخراجات ضائع کرنے کےلئے کئے جاتے ہیں۔
چنانچہ موجودہ سال ہی وزیراعظم بچت کے نکتہ¿ نظر سے دولتِ مشترکہ کی سربراہی کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں بھی شرکت نہیں کی اور اس وقت بھی اعلان یہی کیا تھا کہ بچت کےلئے نہیں جارہے جبکہ اسی دن انہوں نے ایک این جی او کو سفر کے اخراجات سے زیادہ رقم ڈونیشن کے طور پر سرکاری خزانے سے جاری کر دی۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی واقعی چاہتے ہیں کہ سرکاری اخراجات میں بچت کریں۔ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد ایک جائزہ کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے کہ اب سب کچھ تو صوبوں کو دے دیا گیا ہے۔ پھر وزرا¿ کی بھاری بھر کم فوج کونسی خدمات انجام دے رہی ہے۔ ضروری غیرملکی دوروں میں کمی کر کے تو آٹے میں نمک سے بھی کم بچت ہوگی لیکن اگر وزیراعظم واقعی اخراجات کم کرنے کےلئے مخلص ہیں تو پھر انہیں سوچنا چاہئے کہ اب وفاقی وزراءکی اتنی بڑی فوج کی کیا ضرورت ہے۔ صرف دس وزرا سے کام چلایا جاسکتا ہے اور اخراجات میں واقعی کمی ہر کسی کو نظر آئے گی۔ ہاں البتہ یہ اچھا فیصلہ کیا گیا ہے کہ زیرتکمیل منصوبوں کو مکمل کر کے پھر نئے منصوبے شروع کئے جائیں۔ پاکستان کا آدھا سرمایہ تو اسی طرح سے ضائع ہو جاتا ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے سے پہلے اسے التواءمیں ڈال کر منصوبے کی لاگت ڈبل کر دی جاتی ہے۔