بدمستیاں خرمستیاں اور دما دم مست قلندر

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

یہی فرق ہے صدر زرداری اور نواز شریف میں کہ اس نے ثنااللہ مستی خیل کو مسلم لیگ ن سے نکال باہر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سے پہلے بھی اپنے کئی جانثاروں کے ساتھ یہ سلوک کیا جا چکا ہے۔ اس کے مقابلے میں صدر زرداری اپنے دوستوں کو بچانے کےلئے صدارتی آرڈیننس جاری کر دیتے ہیں اور قیدیوں کی سزا بھی کم کر دیتے ہیں۔ کئی قیدی رہا ہو جاتے ہیں اور وہ بھی رہا ہو جاتا ہے۔ اپنے لئے ڈٹ جانے والے ساتھیوں کے لئے تنقید کا سامنا بھی کر لیا جاتا ہے۔ دوستوں ساتھیوں کے لئے خوئے دل نوازی بڑی ضروری ہے۔ نواز شریف دلنوازی پر غور کریں۔ بہت آسان ہے کہ داتا دربار پر حملے کے بعد ایس ایس پی آپریشنز چوہدری شفیق کو عہدے سے ہٹا دیا جائے، اپنے چیف سیکرٹری جاوید محمود کے خلاف اقدام اسی سوچ کا عکاس ہے۔ ثنا مستی خیل پارٹی قیادت کے مشورے کے بغیر ایسا انتہائی اقدام کیوں کرے گا۔ یہ قرارداد اسمبلی کے سارے ممبران نے منظور کرائی۔ چار وزراءبھی شامل تھے، انہیں وزارت سے کم از کم ہٹا دیا جائے۔ شہباز شریف اسمبلی میں کم کم آتے ہیں مگر کچھ دنوں سے مسلسل آ رہے ہیں، وہ صحافیوں سے ملے بغیر اپنے خلاف نعرے لگوا کے چلے گئے۔ چودھری غفور نے بھی ان کی گاڑی میں بیٹھنے کی کوشش کی۔ نواز شریف نے فرمایا ہے کہ یہ سازش ہے۔ وہ اپنے خلاف سازشوں کو خود کامیاب ہونے دیتے ہیں۔ یہ بھی ناکامی ہے۔ کہتے ہیں ق لیگ ذمہ دار ہے۔ دوسری جماعتیں کیوں نہیں۔ قرارداد تو متفقہ تھی، مستی خیل ق لیگ کا لوٹا ہے۔ لوٹا کریسی ڈیمو کریسی کے لئے کیوں ضروری ہو گئی ہے۔ سُنا ہے ثنااللہ مستی خیل کے پاس سردار ذوالفقار کھوسہ کو بھیجا گیا تھا مگر اس نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس نے شوکاز جاری کرنے کو کہا ہے۔ نجانے وہ اس کے جواب میں کیا لکھے لگا۔ اس کے بعد کیا کیا سوال پیدا ہوں گے۔ اس طرح مسلم لیگ ن کی پوزیشن پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ اس کی پوزیشن پر کئی سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔ اگر مستی خیل نے خود بخود میڈیا کے خلاف یہ ذاتی حماقت کی ہے تو پنجاب حکومت کو سوچنا چاہیے کہ پارٹی ڈسپلن کہاں ہے۔ حکومت کی نسبت سے حماقت کو ”حماکت“ پڑھا جائے۔ پاکستان میں تقریباً سارے حکمران حکمرانی کم کرتے ہیں ”حماقت“ زیادہ کرتے ہیں۔
جعلی ڈگریوں والا معاملہ عابد شیر علی نے اپنے مخالف کے لئے آغاز کیا اور آغاز ہی میں انجام تک پہنچا دیا۔ رانا ثنااللہ چونکہ ن لیگ کے لئے ناگزیر ہے، اس کے بغیر سلمان تاثیر کا مقابلہ کون کرے گا۔ اس لئے اس کی پالیسی اور پیزے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ دونوں ثنااللہ ہیں۔ رانا اور مستی خیل۔ فارورڈ بلاک کے دبا¶ میں ثمینہ مشتاق کو ٹکٹ دیا گیا۔ فارورڈ بلاک بیک ورڈ بلاک بنتا جا رہا ہے۔ ڈسپلن کی زد میں جاوید ہاشمی آتا ہے۔ وہ لیڈر کیوں بن گیا ہے اور چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ کیوں بن گیا تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ جعلی ڈگریاں زیادہ ہو گئیں تو اسمبلیاں کیسے رہیں گی۔ پھر حکومتیں بھی کیسے رہیں گی۔ ایک ٹی وی چینل پر مجیب الرحمن شامی اس حوالے سے پنجاب حکومت کے لئے زیادہ بڑے خطرے کی بات کر رہے تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے دو دو ہاتھ کرنے کا موقع نہ تھا مگر اپنے مخالف کو مزا چکھانے کا کام بھی بہت ضروری ہے۔ پچھلے دنوں ایک گستاخ صحافی نے نواز شریف سے یہ سوال کر دیا کہ داتا دربار اور آپ کی سیکورٹی میں کیا فرق ہے؟ وہ خفا ہو گئے بلکہ غصے ہو گئے۔ اس کے بعد اس صحافی کی ملازمت ختم ہو گئی۔ پرویز رشید سے رپورٹرز نے بات کی کہ اس معاملے کو ایشو بننے سے بچایا جائے تو اس بے چارے صحافی کی نوکری بحال ہوئی۔ میڈیا کے خلاف قرارداد کسی غصے کا اظہار ہے۔ اب اس کا ردعمل ملک گیر ہے اور ہمہ گیر بھی ہے۔ اب پھر پرویز رشید کا امتحان ہے۔ اس نے کہا ہے کہ یہ قرارداد فوراً واپس لی جائے۔ صحافی جمہوریت کے لئے سیاستدانوں سے آگے ہیں۔ صحافی خطرہ نہیں طاقت ہیں۔ مگر ن لیگ کے دوسرے ترجمان سابق صحافی صدیق الفاروق نے پرویز رشید کی تردید کر دی ہے کہ اس کا م¶قف غلط ہے۔ قرارداد میں جرنلسٹوں کے علاوہ ججوں اور جرنیلوں کو بھی رگڑا گیا ہے۔ کون سیاستدان ہے جو کسی نہ کسی موقع پر جرنیلوں کا پروردہ نہیں تھا۔ اکثر سیاستدان تو بنائے ہی جرنیلوں نے ہیں۔ اب تو جرنیل جمہوریت کے لئے خطرہ نہیں اور جج بھی فیصلے آزادانہ کر رہے ہیں۔ سیاستدان ایک دوسرے سے اور اپنے آپ سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ میڈیا ان کے کمالات سامنے لاتا ہے تو وہ بوکھلا جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی والوں کو شکایت ہے کہ ن لیگ کی قیادت پر عدلیہ زیادہ مہربان ہے۔ جرنلسٹوں نے ہمیشہ جمہوریت، آزادی اور انصاف کے لئے جدوجہد کی ہے اور بے لوث قربانیاں دی ہیں۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ صحافت کو سیاست کی طرح کرپٹ کرنے کی کوشش کس نے کی ہے۔ سیاستدانوں کی قربانیوں میں اقتدار بھی آتا ہے۔ اقتدار کے اندر دار بھی موجود ہے۔ جب سیاستدان جلاوطنی کے مزے لوٹ رہے تھے تو صحافی ہموطنی کا عذاب سہہ رہے تھے۔ میں نے کہا تھا کہ شاید ہمارے نصیب میں اپوزیشن کا کالم نگار ہونا لکھا ہے۔ اپوزیشن فرینڈلی ہو جائے تو ہم دوستی کا کیا کریں۔ سیاستدان حکمران بنتے ہیں تو کم کم دوست رہتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن خود گڈمڈ ہو گئی ہے اور گڑبڑ ہم میں تلاش کی جا رہی ہے۔ آمنہ الفت نے پنجاب اسمبلی میں کہا کہ جعلی ڈگریوں کا خود ہی تماشا لگایا اور اب میڈیا پر الزام بازی غلط ہے ابھی تو سیاستدانوں کی جعلی رجسٹریوں کی بات چلے گی۔ یہ قبضہ گروپ ہیں صرف مفاد اور عناد کی سیاست کرنے والے فساد پھیلانے کے خود ذمہ دار ہیں۔ اب وہ کیمرے کی آنکھ سے نہیں بچ سکیں گے۔ مجید نظامی نے فرمایا کہ یہ قرارداد نامناسب ہے اس کے خلاف میڈیا پوری طرح متحد ہے۔ پورے پاکستان میں ایک ہی آواز گونج رہی ہے کہ قرارداد واپس لو۔ چھوٹے چودھری کہتے ہیں کہ قرارداد واپس نہیں لی جا سکتی۔ اب ان کی طرف سے چوہدری ظہیر الدین اور آمنہ الفت نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں نئی قرارداد جمع کرا دی ہے جو میڈیا کے حق میں ہے۔ اب اس قرارداد کے ساتھ ن لیگ کی قرارداد چند منٹوں میں منظور کرانے والے سپیکر رانا اقبال کیا سلوک کرتے ہیں۔ پتہ چل جائے گا کہ ن لیگ والے میڈیا کے کتنے ساتھ ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ ق لیگ کا مستی خیل میرے سامنے نواز شریف کو گالیاں دیتا تھا اسے قبول کر لیا گیا ہے۔ مجید نظامی کی یہ بات نہ مانی گئی کہ مسلم لیگیں ایک ہو جائیں۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد ہی فساد کی جڑ ہے۔ جو غلطی پیپلز پارٹی نے کی وہی مسلم لیگ ن نے کی۔ مسلم لیگ ق تو اپوزیشن میں ہے ممکن ہے کہ حکومت میں بھی آ جائے اور جو حکومت میں ہیں ان سے پوچھیں کہ وہ کس پوزیشن میں ہیں۔ ہر کہیں چودھری برادران صحافیوں کے ساتھ جلوس میں شامل تھے۔ ایک جلوس مسلم لیگ کے دفتر سے پنجاب اسمبلی تک نکالا گیا۔ وکیل لیڈر راجہ ذوالقرنین صحافیوں کے ساتھ وکلا کی نمائندگی کر رہا تھا۔ وکیل میڈیا کے مخالف ہو رہے تھے۔ اب دوست کس نے بنایا ہے۔؟