پی ٹی آئی غور کرے

کالم نگار  |  جاوید صدیق
پی ٹی آئی غور کرے

چکوال کی صوبائی اسمبلی کی نشست کے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی بھاری اکثریت سے کامیابی حکمران جماعت کیلئے اطمینان اور خوشی کا باعث ہے۔ مسلم لیگ (ن) اس فتح کو اپنے اس موقف کی جیت قرار دیتی ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جو بھی فیصلہ کریں عوام انہیں ووٹ دیں گے۔ پانامہ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف جو فیصلہ آیا ہے اُسے سابق وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں نے تسلیم نہیں کیا۔ وہ اس فیصلے پر نہ صرف تنقید کررہے ہیں بلکہ یہ دلیل بھی دے رہے ہیں کہ ایک منتخب لیڈر کو نا اہل قرار دینا عوام کے ووٹ کی توہین ہے۔ چکوال کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی کامیابی سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی اس دلیل کو تقویت ملی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود مسلم لیگ (ن) عوام میں مقبول ہے۔ یہ دلیل کہ منتخب نمائندوں کا احتساب صرف عوام کرسکتے ہیں اور اس کی تقدیر کا فیصلہ عوام کی عدالت میں ہوتا ہے۔ معروف اورمستحکم جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ دنیا بھر کے کئی منتخب لیڈروں کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال اور قانون کی خلاف ورزی پر عدالتیں سزائیں دے چکی ہیں۔ جنوبی کوریا کی منتخب خاتون صدر پارک گیون آئے کو گزشتہ برس کوریا کی عدالت نے بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرم میں قید کی سزا دی ہے۔ کوریا کی سابق صدر پارک گیون آئے اس وقت جیل میں ہیں۔ ایک سال قبل برازیل کی خاتون صدر ڈلما ورزیٹ کا سرکاری فنڈز میں خورد برد کے الزام میں مواخذہ ہوا ہے اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ 

تاہم مسلم لیگ ن کے امیدوار کی ضمنی انتخاب میں کامیابی سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ عدالتی فیصلہ پر عوام نے کوئی زیادہ دھیان نہیں دیا۔ مسلم لیگ ن کے مقابلے میں اس کی بڑی حریف جماعت پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو مسلم لیگ ن کے امیدوار کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ووٹ ملے ہیں۔ عام انتخابات سے چند ماہ قبل ہونے والا یہ ضمنی انتخاب پاکستان تحریک انصاف کے لئے ایک WAKE UP CALL ہے۔ سابق وزیراعظم کے خلاف پانامہ کیس کو سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کے معتمد ساتھیوں نے بڑی شدو مد سے لڑا۔ اس کیس میں انہیں کامیابی بھی ملی۔ عوامی سطح پر اور میڈیا میں بھی تحریک انصاف نے پانامہ کیس کے حوالے سے ایک موثر پراپیگنڈہ مہم چلائی اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ دیانتدار اور شفاف نہیں ہے۔ اس کامیابی کی بنیاد پر پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ عام انتخابات میں اسے کامیابی حاصل ہو گی۔ تحریک کی لیڈر شپ کے خیال میں مسلم لیگ ن کی عوام میں حمایت کم ہو چکی ہے۔ یہ پارٹی ڈس کریڈٹ ہو چکی ہے لیکن چکوال کے الیکشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف شاید پنجاب میں زمینی حقائق سے دور ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک فعال لیڈر ہیں انہوں نے عوام کو مسلم لیگ ن کے خلاف موبلائز کرنے میں بھی بڑی محنت کی ہے۔ عمران خان پنجاب اور سندھ میں حالیہ چند ہفتوں میں بڑے بڑے عوامی جلسے بھی کر چکے ہیں۔ عمران خان ایک کرا¶ڈ پُلر ہیں لیکن جو ہجوم وہ جلسوں میں اکٹھا کرتے ہیں کیا اسے وہ پولنگ سٹیشن تک لے جانے اور اس سے ووٹ ڈلوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2013ءکے انتخابات میں بھی انہوں نے اپنی شکست کو تسلیم نہیں کیا تھا اور یہ الزام لگایا کہ ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کی ہے۔ جس سے اسے پنجاب میں کامیابی ملی 2013ءکے انتخابات میں تحریک انصاف دھاندلی کے معاملے کو سپریم کورٹ تک لے گئی لیکن اس کے اس موقف کو مسترد کر دیا گیا کہ 2013ءکے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کو عام انتخابات سے پہلے اس بات کا ضرور جائزہ لینا چاہیے کہ کیا 2018ءکے انتخابات میں اگر وہ وقت پر منعقد ہوتے ہیں تو اسے کامیابی مل سکتی ہے۔ تحریک انصاف یہ تاثر دے رہی ہے کہ اگلے انتخابات میں وہ سویپ کرے گی۔ خاص طور پر پنجاب میں وہ اپنی کامیابی کے لیے پُر امید ہے۔ لیکن اسے حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔ کہ کیا وہ پنجاب میں اپنے لیے اتنی Space بنا چکی ہے کہ اسے انتخابات میں اکثریت مل جائے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف تنظیمی اعتبار سے اتنی مضبوط نہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے لیے پنجاب میں چیلنج بن سکے۔ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں بڑاایڈوانٹیج یہ ہے کہ وہ گزشتہ دس سال سے اس صوبے میں حکمران ہے اور اس نے سیاسی اعتبار سے اپنی گرفت دس سال میں بڑی مستحکم کرلی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعہ اس نے عوام سے ہمدردیاں حاصل کی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان اپنے حلقوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ 2018ءکے انتخابات کے پیش نظر وہ بڑے سرگرم ہیں۔ تحریک انصاف ان کے سیاسی اثر ورسوخ کو کمزور کرنے یا بے اثر کرنے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ یہ اہم سوال ہے۔ تحریک انصاف کی لیڈر شپ اس پر ضرور سوچ رہی ہوگی۔ لیکن حقائق کو نظر انداز کرنے اور غلط اندازے لگانے سے اس جماعت کو سیاسی طور پر بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ تحریک انصاف کو تنظیمی اعتبار سے بھی ہوم ورک پر توجہ دینا ہوگی۔ محض پانامہ لیکس سپریم کورٹ سے جیتنے کی بنیاد پر اگر وہ اگلا الیکشن پنجاب میں جیتنے پر انحصار کئے ہوئے ہے تو شاید وہ یہ ہدف حاصل نہ کرسکے۔
٭٭٭٭٭