وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ’’اونچی اڑان‘‘

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ’’اونچی اڑان‘‘

غالباً 29 سال قبل کی بات ہے میرا شاہد خاقان عباسی سے پہلی بار اس وقت تعارف ہو ا جب وہ سانحہ اوجڑی کیمپ میں اپنے والد ایئرکموڈور خاقان عباسی کی شہادت کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں آئے ان کو میری راجہ محمد ظفرالحق سے نیاز مندی کا بخوبی علم تھا شاید یہی ایک وجہ تھی کہ ہم دونوں کے درمیان دوستی کا باعث بنی۔ میں نے ان دونوں کے درمیان ’’غلط فہمیوں‘‘ کو دور کرنے کی ہمیشہ کوشش کی میری کوششیں کس حد تک بارآور ثابت ہوئیں۔ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ، پیدائشی مسلم لیگی اورنگزیب عباسی کا تعلق این اے 50 سے ہے وہ ہمیشہ مجھے راجہ محمد ظفر الحق اور شاہد خاقان عباسی کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کا مشورہ دیتے رہتے تھے بہرحال آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین اور سینیٹ میں قائد ایوان ہیں اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی نا اہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی ملک کے وزیراعظم ۔ شاہد خاقان اور میرے درمیان سالہاسال سے نہ ختم ہونے والا ڈائیلاگ چل رہا ہے مسلم لیگ (ن) کے اندر کچھ ’’کرداروں ‘‘ کے بارے دونوں کی آراء میں کبھی اتفاق رائے نہیں ہوا۔ انہوں نے کم و بیش 20 سال قبل مری کے پر فضا مقام پر ’’ غیر سیاسی ‘‘ نشست کا وعدہ کر رکھا جو تاحال پورا نہیں ہوا جس کے پورا ہونے میں میری طرف سے ہی کوتاہی ہوئی ہے۔ میرے اور ان کے درمیان احترام کا رشتہ پچھلے تین عشروں سے قائم ہے دراز قد شاہد خاقان عباسی کا مسکراتا چہرہ ان کے خوش اخلاق ہونے کا ثبوت ہے، سیاسی فہم و فراست اور شرافت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے 12اکتوبر1999 ء کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تو انہوں نے بڑی جرأت و استقامت سے میاں نواز شریف کے ہمراہ کراچی میں جیل کاٹی ،میاں نواز شریف کے خلاف جہاز اغوا ء کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کر دیاان کے ساتھ’’ میدان سیاست‘‘ کا بہادرشخص سید غوث علی شاہ بھی جیل میں تھا جو میاں نواز شریف کے حکم پر اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف (جسے تھوڑی دیر قبل میاں نواز شریف نے برطرف کر دیا تھا)کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری لے کر کراچی ائیرپورٹ پر پہنچا تو فوج اسے بھی گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔ شاہد خاقان عباسی نے جس جرأت و استقامت سے جیل کاٹی ہے اس سے میرے دل میں ان کی عزت میں اضافہ ہو گیا ، ان کی جیل یاترا کے دوران میں جہاں جنرل پرویز مشرف کے دیگر قیدیوں کو عید کارڈ ز ارسال کرتا رہا ہوں وہاں شاہد خاقان عباسی کو بھی جیل میں یاد رکھا معلوم نہیں ان کو میرے عید کارڈز سنسر ہو کر ملتے تھے کہ نہیں البتہ خط و کتابت کا یہ یکطرفہ سلسلہ اس وقت تک جاری جب تک ان کی جیل سے رہائی نہیں ہو گئی۔ میں آج اس بات کا انکشاف کر رہا ہوں شاہد خاقان عباسی نے کبھی اخبار نہیں پڑھی ہے اور نہ ہی کبھی اپنے بیان یا خبر کی اشاعت کی ’’فرمائش‘‘ کی ہے ہمیشہ اخبارنویسوں سے دور رہنے کی کوشش کی ہے میں نے ان سے پوچھا آپ اخبار ہی نہیں پڑھتے تو پھر آپ کو پرنٹ میڈیا میں اپنی وزارت(اس وقت وہ پٹرولیم و قدرتی وسائل کے وزیر تھے)کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں اور تجزیوں سے کیسے آگاہی ہوتی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ’’ میں اس بارے میں شائع ہونے والی خبروں اور مضامین کی’’ کٹنگ ‘‘کا مطالعہ کر لیتا ہوںانہوں نے اپنے دور وزارت میں کسی ایک شخص کو بھی ’’آئوٹ آف ٹرن‘‘ گیس کا کنکشن نہیں دیا حتیٰ کہ اس وقت کے آرمی چیف اور ججوں تک کو ’’آئوٹ آف ٹرن‘‘ گیس کنکشن دینے سے انکار کر دیا ’’فرسٹ کم فرسٹ ‘‘ کی پالیسی سے بااثر لوگ ناراض تو ہوئے لیکن عام آدمی کو اس کی باری آنے پر محکمہ کے عملہ نے تلاش کر کے کنکشن دئیے پچھلے دنوں میری ان سے ایف 7/2میں ان کی ذاتی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم ہائوس کو اپنا ’’مسکن ‘‘ بنانے کی بجائے اپنی رہائش گاہ کو ہی وزیر اعظم ہائوس بنا دیا ۔سیکیورٹی کے اداروں نے بڑا شور شرابہ کیا لیکن وہ جلد ہی ان کی بات کو مان گئے اور سیکیورٹی کے تمام لواز مات مکمل کر لئے انہوں نے سیکیورٹی اداروں کو سختی سے ہدایت کر رکھی ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر سٹریٹ نمبر 17 کے کسی ’’مکین ‘‘ کو پریشان نہ کیا جائے میں نے ان سے بے تکلفی سے دریافت کیا کہ ’’ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد آپ نے اپنے اندر کیا تبدیلی محسوس کی ہے ؟ ‘‘سوائے اس کے اور کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی پاک سیکرٹریٹ سے وزیراعظم آفس بیٹھنا شروع کردیا ہے ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں میرے لیڈر میاں نواز شریف نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر پورا اترنے کی توفیق دے ، آج میں جس منصب پر بیٹھا ہوں اس پر اللہ تعالی اور اپنے لیڈر میاں نواز شریف کا شکر گزار ہوں ، لٰہذا وہ جو کام ادھورے چھوڑ کر گئے ہیں ان کو پایہ تکمیل تک پہنچائوں گا۔’’ کیا آپ کو پہلے سے علم تھا کہ آپ کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے ؟ میں نے دوسرا سوال کر دیا تو انہوں نے کہا کہ’’ مجھے آخری وقت تک معلوم نہیں تھا کہ مجھے وزیراعظم کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے‘‘ میرا تیسرا سوال یہ تھا کہ ’’آپ 45 روز کے لئے وزیراعظم آئے یا بقیہ مدت بھی آپ ہی وزیراعظم ہوںگے ‘‘ تو انہوں نے کہا کہ ’’ 45 روز کا وزیراعظم یا9 ماہ کا پارٹی قیادت نے یہ منصب دیا ہے اسے امانت سمجھتا ہوں البتہ ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں سیاسی مخالفین کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ 45 ماہ کام کر کے جائوں گا۔ میں نے استفسار کیا ’’ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد کام کا بوجھ تو بڑھ گیا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ ’’آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ میں وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل کی حیثیت سے زیادہ کام کرتا تھا۔ شاہد خاقان عباسی کی حکومت قائم ہوئے 42 روز ہو گئے ہیں ہر گزرنے والے دن ان کی حکومت پہلے سے زیادہ مستحکم ہو رہی ہے ۔سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے عنان اقتدار سنبھالا تو عام تاثر یہ تھا کہ ان حکومت پرنواز شریف کی ’’چھاپ‘‘ لگی ہونے کی وجہ سے کام کرنے میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ حکومت اور فوج کے درمیان ’’تعلقات کار ‘‘ میں بہتر ی نہیں لائی جاسکے گی لیکن پچھلے ڈیڑھ مہینے کے دوران شاہد خاقان عباسی نے نہ صرف حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات کار کو بہتر بنایا ہے بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی شعوری کوشش کی ہے ۔ قومی سلامتی سے متعلق امور پر حکومت اور فوج کے درمیان پائی جانے والی خلیج بڑی حد کم ہوئی ہے ریاستی اداروں کے درمیان’’ اعتماد ‘‘ کی بحالی ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے ’’ درویش صفت ‘‘ شاہد خاقان عباسی کے بارے میں یہ بات کہی جارہی تھی کہ ان کو پارٹی کی سینئر لیڈرشپ کی طرف سے قبولیت حاصل نہیں ہو گی لیکن ڈیڑھ ماہ کے دوران ہی شاہد خاقان عباسی نے پارٹی کی سینئر لیڈرشپ کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے ۔ پچھلے ڈیڑھ مہینے کے دوران انہوں نے وفاقی کابینہ کے 5 اجلاس منعقد کئے اور ایک ہفتے کے دوران قومی سلامتی کی کمیٹی کے دو اجلاسوں کی صدارت کی ، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں میں بھرپور شرکت کر کے اپوزیشن کے سب سے بڑے اعتراض کو دور کر دیا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں نہیں آتے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قومی مفاد میں پارلیمنٹ، انتظامیہ ،عدلیہ اور فوج کو ایک ’‘’صفحہ‘‘ پر لانے کے لئے کوشاں ہیں ۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے خارجی محاذ پر شدید دبائو سے نکالنے کے لئے سول ملٹری تعلقات بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے ۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی 17ستمبر2017ء کو نیو یارک جائیں گے انہیں ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کشمیر کا کیس لڑنے کا موقع ملے گا شاہد خاقان عباسی پاکستان کے واحد وزیراعظم ہیں جنہوں نے پاک فضائیہ کی جنگی مشقوں کا جائزہ ایف 16 طیارے میں اونچی اڑان کے ساتھ لیا، مصحف ایئربیس سرگودہا سے ایئرچیف ائیرمارشل سہیل امان کے ہمراہ ایف 16طیارے میں جنگی مشقوں میں حصہ لے کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، ایف 16طیارے میں مضبوط اعصاب کے مالک کو ہی بٹھایا جاتا ہے یہ بات قابل ذکر ہے شاہد خاقان عباسی نہ صرف ایک کمر شل پائلٹ ہیں بلکہ طیاروں کی مرمت کا کام بھی جانتے ہیں انہوں نے امریکہ میں الیکٹرانک انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی ہے انہوں نے خود ایک لائٹ ایئر کرافٹ تیار کر کے تربیتی مقاصد کے لئے راولپنڈی فلائنگ کلب کو دے دیا تھا یہ بات قابل ذکر ہے ان کے والد ایئر کموڈور خاقان عباسی نے ہوا باز کی حیثیت سے پاک فضائیہ جائن کی تھی اور ڈپٹی چیف آف ایئرسٹاف کے منصب سے ریٹائر ہوئے ان کے صاحبزادے شاہد خاقان عباسی نے بھی ان کے ہی نقش قدم پر چلتے ہوئے ہوا بازی سیکھی اپنے والد کی شہادت پر ہی میدان سیاست میں قدم رکھا وہ پی آئی اے کے چیئرمین رہے اور ایئر بلیو کی بنیاد رکھی دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے والد پی آئی اے کے منیجنگ ڈائریکٹر رہے جب کہ شاہد خاقان عباسی بھی اسی ادارے کے چیئرمین رہے شاہد خاقان عباسی کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے وہ ایف 16طیارے میں اونچی اڑان کر چکے ہیں اب انہیں میدان سیاست میں بھی ’’اونچی اڑان‘‘ سے جہاں مسلم لیگ(ن) کا پرچم سر بلند رکھنا ہو گا وہاں سول ملٹری تعلقات کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا ۔