پنجاب آزمائش میں ۔۔۔!

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
 پنجاب آزمائش میں ۔۔۔!

 کچھ تو حاسدین سے پنجاب برداشت نہیں ہو رہا اور کچھ قدرتی آفت نے پنجاب کو آزمائش میں آ گھیرا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنے مخصوص حلیہ میں ملبوس پنجاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا سیلاب زدگان کے لئے گھروں سے نکلنا قابل تحسین عمل ہے مگر اچھا ہوتا اگر پنجاب حکومت مستقل بنیادوں پر سیلاب کا سدباب کر دیتی۔ چیف آرمی سٹاف بھی اپنے جوانوں کے ہمراہ سیلاب زدگان کی خدمات میں مصروف ہیں۔ سیلاب کی تباہی پر حکمرانوں کو ڈرامہ بازی کرنے کا طعنہ دینے والے عمران خان بھی چند گھنٹوں کے لئے سیالکوٹ ڈرامہ بازی کر کے اپنا نام شہیدوں میں لکھوا رہے ہیں جبکہ میوزک کانسرٹ شروع ہونے سے پہلے سٹیج پر لوٹ آئے تھے۔ پنجاب کے مقیم بارشوں اور سیلاب کے ہاتھوں مصیبت جھیل رہے ہیں جبکہ دھرنا کانسرٹ اور دھرنا بازار کی تفریح جاری ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں نے تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اہل وطن امریکہ سے اپنے خاندانوں کی خیریت دریافت کر رہے ہیں۔ ایک سہیلی جس کا پورا خاندان تحریک انصاف کا ووٹر تھا، گزستہ تین ہفتوں سے دھرنا شو واچ کر رہی تھی، برہم ہوتے ہوئے بولی ”ہمیں افسوس ہو رہاہے کہ ہم نے اپنا ووٹ ضائع کر دیا، ہم نے سوچا تھا کہ پاکستان کو کوئی نیا چہرہ مل جائے گا مگر جس طریقے سے یہ لوگ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دھرنے کو طول دے رہے ہیں ،اس نے ہمیں بددل کر دیا ہے۔ جس روز سے سیلاب نے مشکلات پیدا کر رکھی ہے، ہم نے دھرنا دیکھنا بند کر دیا ہے اور ویسے بھی دھرنا قادری کا ہے، خان کا بھنگڑا ہے۔“ دھرنا آباد کے مداری گرج چمک میں مشغول رہتے ہیں مگر ان کی پارٹی میں موجود غریب لوگ دھرنے کے طوالت کے ہاتھوں بیزار ہو چکے ہیں، بیروز گار بیٹھے ”ویلیاں“ کھا رہے ہیں ۔اگر ان کے
مداری لیڈران صرف اپنے غریب کارکنان کے مسائل حل کر دیں تو ملک کا کچھ بوجھ ہلکا ہو سکتا ہے۔ عوام حکمرانوں کی کرپشن کے الزامات سُن سُن کر اب بیزار ہیں۔ یہ باتیں گزشتہ ساٹھ سال سے سُن رہے ہیں مگر جو بھی سیاست میں آیا کرپٹ لوگوں کے کاندھوں پر سوار ہو کر آیا۔ عمران خان کے اطراف بھی کرپٹ افراد کا ٹولہ جمع ہے۔ لیڈر کے حکم کے باوجود خوشی سے کوئی بھی مستعفی ہونا نہیں چاہتا البتہ ان میں جو ایماندار شخص تھا، اس نے اپنا استعفیٰ ان کے منہ پر مارا اور ملتان لوٹ گیا۔ تحریک انصاف میں اگر عمران خان اورشاہ محمود قریشی اپنے غریب کارکنوں اور مریدوں کی غربت دور کرنے کا عزم کر لیں، ملک سے غربت کم کی ہو جائے گی۔ علامہ قادری صرف اپنے غریب مریدوں کی کفالت کا ذمہ لے لیں تو ملک کو ریلیف مل جائے گا۔ شاہ محمود قریشی جیسوں کی دولت پر تو ٹیکس بھی معاف ہے، الا ماشا¿اللہ نذرانوں کی صورت میں ”کیش“ کماتے ہیں۔ چندوں اور نذرانوں پر عیاشی جائز ہے۔ عمران خان کو اپنی مقبولیت کی ساکھ معلوم کرنا ہے تو پورے ملک سے پول کرا لیں، ہمیں روزانہ ان گنت پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ خان صاحب شیخ رشید اور طاہرالقادری سے علیحدگی اختیار کریں، دھرنا بازار بند کریں اور گھر جا کر پارٹی کی ازسرنو تشکیل کریں۔ اس وقت سیلاب کی آفت تمام مسائل پر غالب ہے۔ اس مشکل گھڑی میں دھرنا پارٹی حکمرانوں کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے مصیبت زدہ عوام کے پاس جائے، خدمت خلق کر کے دکھائے، عوام کانسرٹ سے نہیں کام سے ووٹ دیتے ہیں۔ الطاف حسین کا پیغام بھی آ چکا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں موسیقی سے دل بہلانے کا یہ کھیل بند کیا جائے اور پنجاب کے سپوت اپنے مصیبت زدہ بہن بھایﺅں کی خدمت کریں۔ چالیس روز بعد چلہّ بھی منظور ہو جاتا ہے، چالیس روزہ دھرنا بھی منظور ہو جائے گا البتہ اپنے سیاسی حلیف یاجوج ماجوج سے نجات پانا ضروری ہے۔ دشمن ممالک پاکستان کو اندر سے تباہ کرنے پر متحد ہیں۔ بھارت بھی اپنے پانیوں کا رُخ پاکستان کی جانب موڑ کر ”ازلی دشمنی“ کا ثبوت پیش کر دیتا ہے۔ اندرون و بیرون ملک پاکستانی پنجاب میں سیلاب کی تباہی کاریوںسے پریشان ہیں۔ پنجاب حکومت نے بہت کام کیا البتہ سیلاب کی تباہی پر قابو پانے کے لئے مستقل منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ وطن عزیز میں ہر سال مون سون تباہی لے کر آتا ہے۔ اہلیان پنجاب سے گزارش ہے کہ اس مشکل گھڑی میں اپنے مصیبت زدہ بہن بھایﺅں کی دل کھول کر امداد کریں۔ شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ ایک بار دمشق میں بہت سخت قحط پڑا۔حالت یہ ہو گئی تھی کہ ٹڈیوں نے سبزے کو اور انسانوں نے ٹڈیوں کو کھا لیا۔ مخلوق خدا بھوک سے ہلاک ہو گئی۔ ایک دن میری ملاقات ایک ایسے دوست سے ہوئی جو کافی مالدار تھا لیکن میں نے دیکھا وہ ویسا ہی پریشان حال اور کمزور نظر آرہا تھا جیسے شہر کے غریب غربا۔ میں اس کی یہ حالت دیکھ کر بہت حیران ہوا اور اس سے اس بابت دریافت کیا تو وہ بولا، اے سعدی! کیا تم اس بات سے بے خبر ہو کر قحط کے باعث مخلوق خدا تباہ ہو گئی ہے ؟ میں نے کہا کہ دوست میں جانتا ہوں مگر تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے؟ میرے دوست نے ایک آہ بھری اور کہا، اے سعدی! کسی حساس آدمی کے لئے یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ وہ ارد گرد کے لوگوں کو بھول جائے اور صرف اپنی ذات پر نظر رکھے۔ کوئی حساس آدمی کسی کو دریا میں ڈوبتے ہوئے دیکھ کر اطمینان سے ساحل پر کھڑا نہیں رہ سکتا۔“ پنجاب میں لوگ مر رہے ہیں، بے گھر ہو رہے ہیں، ایسے میں وہی سیاستدان اچھا لگتا ہے جو بے آسرا عوام کے ساتھ کھڑا دکھائی دے۔