نیول چیف استعفیٰ دیں اور ایڈیشنل آئی جی بھی

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
نیول چیف استعفیٰ دیں اور ایڈیشنل آئی جی بھی

کیوں آج میرے دل میں درد کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ میں نہ چاہتے ہوئے نہ کہتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ نیول چیف یعنی پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آصف سندھیلہ کو استعفیٰ دینا چاہئے اور آج کل استعفیٰ کا مطالبہ سیاسی ہو گیا۔ میں اس کے خلاف ہوں کہ وزیراعظم سے اس طرح استعفیٰ کا مطالبہ کیا جائے۔ مجھے بہت اختلاف نواز شریف سے ہے۔ وہ چاہیں تو پاکستان کو ایک ایسا ملک بنا دیں جیسا ہم چاہتے ہیں۔ جیسا لوگ چاہتے ہیں مگر وہ 31برس تک حکمران رہے۔ 14 مہینوں سے اب بھی حکمران ہیں مگر لوگ تڑپ رہے ہیں۔ سسک رہے ہیں۔ اور آج کل تو ڈوب رہے ہیں مگر پھر بھی ان سے استعفیٰ کا اس طرح مطالبہ مناسب نہیں۔ انہیں خود سوچنا چاہئے۔ نواز شریف اور عمران خان کو۔ نواز شریف نے ان دنوں کمال صبر و تحمل اور شائستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اپنے وزیروں کو بھی کچھ سمجھائیں۔
میں ایڈمرل آصف سندھیلہ کے لئے ذاتی طور پر کچھ نہیں جانتا۔ ہمارے بہت اچھے اور پیارے دوست عارف سندھیلہ ممبر پنجاب اسمبلی ہیں۔ وہ بہت دوستدار اور وطن دوست آدمی ہیں۔ شریف برادران کے لئے بھی بڑی قدر و منزلت رکھتے ہیں۔ ایڈمرل آصف سندھیلہ ان کے کزن ہیں۔ وہ اکٹھے پلے بڑھے ہیں۔ عارف سندھیلہ کا خیال ہے کہ آصف سندھیلہ بہت اچھے انسان ہیں۔ وطن کے لئے جانثاری اور محبت کی فراوانی رکھتے ہیں۔ محب وطن سپاہی ہیں۔ پھر کیوں ان کی سربراہی میں پاک بحریہ کے اندر اتنا بڑا حادثہ ہوا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی۔ لاعلمی کبھی کوتاہی اور جرم کے لئے جواز نہیں ہوتی۔ پہلے بھی کراچی نیول بیس پر حملہ اور کامرہ ائر بیس پر حملہ ہوا۔ حتیٰ کہ جی ایچ کیو پر بھی حملہ ہوا۔ تو یہ کیا کوتاہیاں ہیں۔ کمی کہاں ہے۔ کہاں کہاں ہے۔ ملٹری انٹیلی جینس کہاں ہے اور میری پسندیدہ آئی ایس آئی کہاں ہے؟
میرا خیال تو یہ ہے کہ نیول بیس کراچی پر حملے کے بعد اس وقت کے نیول چیف کو اصولی طور پر استعفیٰ دینا چاہئے تھا۔ اب بھی میرا خیال ہے مگر یہ بھی خیال ہے کہ وہ تو دیکھیں کہ دہشت گردی کا یہ منصوبہ پاک بحریہ کے اندر ہی تیار کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کا حملے کے وقت بھی مسلسل ڈاک یارڈ کے ساتھ رابطہ تھا۔ ان رابطوں میں کون کون تھے؟
ایک نوجوان افسر جو مارا گیا ہے وہ مبینہ دہشت گرد ہے اور ایڈیشنل آئی جی کا فرزند ہے، جس کا کنٹرول اپنے بیٹے پر نہیں ہے۔ وہ اپنے بیٹے کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں بلکہ ”شرگرمیوں“ سے واقف نہیں تو وہ کیا ایڈیشنل آئی جی ہے۔ کراچی والے کسی بہتر پولیس افسر کو ٹھہرنے نہیں دیتے۔ کسی کو آنے نہیں دیتے۔ انہیں ایسے پولیس افسران چاہئیں جو دہشت گردوں سے تعاون کریں۔ برادرم ذوالفقار چیمہ کے لئے آئی جی پولیس سندھ کے طور پر حکم ہو گیا تھا مگر انہیں کراچی کے ناخداﺅں بلکہ ”خداﺅں“ نے نہیں آنے دیا۔ چیمہ صاحب ایک باکمال پولیس افسر ہیں۔ وہ دیانت شجاعت مہارت استقامت کے پیکر ہیں۔ وہ جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے۔ عورتیں بچے انہیں دعائیں دیتے ہیں۔ ایک پولیس افسر کے لئے دعائیں؟ مگر اب ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ بددعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔ جو اکثر پولیس والوں کے لئے کی جاتی ہیں۔ وہ ظالم ہیں اور ظالموں کے ساتھ ہیں۔ اپنے ساتھ زیادتی کے بعد جب بچیاں پولیس کے ظالمانہ رویے کے خلاف احتجاجاً خودکشی کرتی ہیں تو دل کانپتا ہے اور کانپتا ہی رہتا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی پولیس جاکھرانی صاحب کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ استعفیٰ کے بعد شامل تفتیش ہوں تو بہت بہتر ہو گا۔ اس سے اور بھی کئی راز سامنے آئیں گے۔ کراچی پولیس کا بھی جائزہ لیا جائے کہ کہاں کہاں لوگ موجود ہیں۔ جو دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں۔ ایک ایس پی چودھری اسلم کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ اس میں بھی پولیس کے لوگ اور مقامی لوگ شامل تھے۔ دہشت گردی کی اس واردات میں بڑے شکوک ہیں۔ وہ دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر تھے۔ انہیں دہشت گرد نہ مار سکے تو پھر انہیں کس نے قتل کیا اور کرایا۔ کہا گیا ہے کہ غداروں کی فہرست میں مسلمانوں کے نام بہت زیادہ ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی مقامی لوگوں کی مدد اور تعاون کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ پاک بحریہ پر حملہ آور دہشت گردوں میں ایک وہ بھی تھا جس نے ایک مہینہ پہلے ملازمت چھوڑی تھی۔ پاک بحریہ میں ایسے اور کتنے ہونگے۔ ذرا تحقیق تو کرو۔ کیا یہ سندھیلہ صاحب کے لئے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟
پاک بحریہ کے اندر کئی سینئر افسر بھی دہشت گردوں سے رابطے رکھتے ہیں۔ یہ وطن فروشی کیا ہے۔ سنا ہے کہ مکتی باہنی کی طرز کی کئی تنظیمیں کراچی میں ”را“ کی نگرانی میں کام کر رہی ہیں۔ یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے۔ میں بڑی شرمندگی سے یہ بات لکھ رہا ہوں۔ یہ اخبارات میں شائع بھی ہو چکی ہے۔ کراچی میں ایک امریکی نے کہا تھا کہ کچھ پاکستانی عجیب و غریب لوگ ہیں۔ ایک ڈالر کے لئے اپنی ماں بیچ دیتے ہیں۔ ماں اور ماں دھرتی کا سودا کرنے والے انسان نہیں ہوتے۔ وہ جانوروں حیوانوں اور درندوں سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔ قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
دہشت گردوں نے اس کارروائی میں کئی مہینے لگا دیے ہوں گے۔ کئی مہینوں تک پاک بحریہ کے افسران اور چیف صاحب کو پتہ نہ چلا کہ کیا اندھیر ہے کہ چوپٹ راج میں دشمن اور دوستوں میں چھپے ہوئے دشمن دندناتے پھرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے پاس اعلیٰ ترین آلات تھے۔ جاسوسی کا تمام سامان تھا۔ بہترین اسلحہ تھا۔ یہ کہاں سے آیا۔ بے چارے طالبان خدانخواستہ یہ سب کچھ کیسے کر سکتے ہیں۔ انہیں ٹریننگ کون دیتا ہے۔ انہیں پیسہ کہاں سے ملتا ہے۔ یہ سب کچھ ہم جانتے ہیں مگر بول نہیں سکتے۔ ہمارے حکمران اس معاملے میں گونگے بہرے ہو جاتے ہیں۔ بھارت دوستی کے ایجنڈے خمار نے انہیں مدہوش کر دیا ہے۔ زبانی کلامی ہی سہی کوئی بات تو کی جائے۔ کچھ احتجاج تو ہو۔ سفارتی ذرائع سے کوئی شور تو مچایا جائے۔
اخبارات میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہ ساری پلاننگ افغانستان میں کی گئی تھی۔ وہاں امریکہ نیٹو فورسز اور بھارت خاص طور پر موجود ہیں۔ اور پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کی جاتی رہتی ہے۔ ہم بول تو سکتے ہیں؟ بھارت میں پٹاخہ بھی چلتا ہے تو میڈیا اور ہندو سرکاری حلقوں کی طرف سے آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ پاکستان پر الزامات کی بارش ہو جاتی ہے۔ پاکستان سے حافظ پروفیسر محمد سعید کی آواز ابھرتی ہے اور چند دوسرے پرائیویٹ محب وطن حلقوں کی طرف سے دکھ کا اظہار ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ساری این جی اوز صرف امریکہ اور بھارت کے اشارے پر واویلا کرتی ہیں۔
میں تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ نشان حیدر پانے والوں کے گھر کے آدمی ہیں۔ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں۔ دہشت گردوں کا مقصد پاک بحریہ کی اہم دفاعی تنصیبات پر قبضہ کرنا تھا مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ پاک بحریہ میں غدار ہیں تو وہ بھی ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کو روکا۔ دو کو ہلاک کیا۔ چار پکڑے گئے۔ جو پکڑے گئے ہیں ان سے بہت اہم اور خفیہ معلومات مل سکتی ہیں۔ ہم پاک بحریہ کے شہید افسر کو سیلوٹ کرتے ہیں۔ دوسرے بہادر سپاہیوں کو سلام کرتے ہیں۔ انہوں نے دشمن دہشت گردوں کو روکے رکھا جیسے 65ءکی جنگ ستمبر میں بھارتی جرنیلوں اور جوانوں کو واہگہ بارڈر پر روک لیا گیا تھا اور لاہور کو بچا لیا۔ یہ کامیابی بھی کچھ کم نہیں ہے۔ ہماری افواج میں وطن کے لئے جان دینے کو اپنی سب سے بڑی خواہش سمجھا جاتا ہے۔ ہماری صفوں میں غدار بھی ہیں اور جان پر کھیل کر وطن کی حفاظت کرنے والے بھی ہیں۔