سفاک سیاست کاری پر حاوی دو بہنوں کا جذبہ

کالم نگار  |  سعید آسی
سفاک سیاست کاری پر حاوی دو بہنوں کا جذبہ

تریموں ڈیم کو بچانے کے لئے ’’کارسازوں‘‘ نے اٹھارہ ہزاری بند کے دوسرے حصے میں ڈائنا مائیٹ لگاکر شگاف ڈالا تو اس کے پیچھے بیتاب کھڑے سیلابی پانی کے بے رحم ریلے کو غیظ و غضب کے ساتھ آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھ کر روح تھر تھرانے لگی۔ میں اور سلیم بخاری صاحب ٹی وی پر بند ٹوٹنے کے بعد غضباک ہو رہے اس سیلابی ریلے کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس کی متوقع تباہ کاریوں پر فکر مند تھے۔ تریموں ڈیم کو بچانے کی خاطر اٹھارہ ہزاری بند کے پہلے ایک حصے میں شگاف ڈالا گیا تو سیلاب کا بپھرا پانی اس سے برق رفتاری کے ساتھ نکلتے ہوئے دو سو سے زائد دیہات کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ ’’کار سازوں‘‘ کی یہ حکمت عملی بھی تریموں ڈیم پر پانی کا دبائو کم کرنے میں کارگر نہ ہوئی تو اٹھارہ ہزاری بند کے دوسرے حصے کو بھی توڑنے کا فیصلہ  کیا گیا چنانچہ مزید دو سو دیہات اس ’’حکمت عملی‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئے۔
آزاد کشمیر اور پنجاب میں تسلسل کے ساتھ ہونے والی گزشتہ ہفتے کی طوفانی بارشوں نے دریائوں اور ندی نالوں میں طغیانی لاکر سیلاب کی تباہ کاریوں کو دعوت دی ہے۔ اگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ’’کارسازوں‘‘ کا حکمت اور تدبر سے کوئی لینا دینا ہوتا تو سیلاب کی تباہ کاریوں سے پیدا ہونے والے انسانی مصائب اور آلام کا بوجھ کم کیا جا سکتا تھا اور اگر ملک اور عوام کی خدمت کے لئے انقلاب اور نئے پاکستان کے دعوے داروں کو فی الواقع عوام کے لئے درد دل ہوتا تو ان کے دھرنے سیلاب کے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپوں میں تبدیل ہو چکے ہوتے مگر فیض ہمارے ایسے ہی حالات کا رونا رو گئے ہیں کہ ؎
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ جو دکھ ہمیں تھے، بہت لادوا نہ تھے
ایسے میں حالات کے ستائے بے بس اور مجبور و مقہور انسانوں کے پاس اس دعا کے سوا اور کیا چارہ کار رہ جاتا ہے کہ؎
یا رب کہیں سے بھیج دے سورج کا سائبان
بادل کی آنکھ ہے میرے کچے مکان پر
ہماری سیاست کتنی سفاک ہے کہ بے بس انسانوں کی مجبوریوں پر بھی ڈگڈگی بجاتے ہوئے تماشہ لگا لیتی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے ڈگڈگی پر لگے سیاسی تھیٹر کے منفی اثرات سے خود کو بچانے کی فکر میں غلطاں حکمرانوں  کو اس کی خبر بھی نہ ہو سکی کہ طوفانی بارشوں سے سیلاب کی شکل میں بپھرنے والا ناگ انسانوں کو ڈسنے کے لئے لپکا پڑ رہا ہے۔ سو کچی آبادیوں اور نشیبی علاقوں کے مقہور عوام پہلے طوفانی بارشوں سے بے حال ہوئے اور پھر بپھرے سیلابی ریلوں نے انہیں نڈھال اور زندہ درگور کر دیا مگر انسانی کرب  و بلا کے ان مناظر میں بھی اپنے مفادات اور اَنا کے اسیر سیاست کاروں کا دل نہ پسیجا اور وہ ’’حکمرانوں کی گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو‘‘ کی تانیں لگائے کسی ڈگڈگی پر اب بھی اسلام آباد کی دھرنا سیاست میں ’’رنگ رلیاں‘‘ مناتے نظر آتے ہیں۔ بس وفاقی، صوبائی حکمرانوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے فضائی دورے کرکے لیپا پوتی کا آغاز کیا اور پاک فوج کے جوان بے بس انسانوں کو بپھرے پانی سے بچانے اور اٹھا اٹھا باہر لانے کے لئے غیبی امداد کی صورت میں وارد ہوئے۔ کہیں دہشت گردی کے عالمی لیبل والی جماعت الدعوۃ کے کارکن اور اس کے امیر حافظ محمد سعید سیلاب زدگان کے جلو  میں ان کی بحالی کی سرگرمیاں کرتے پائے گئے اور درد دل رکھنے والی انسانی حقوق کی بعض چھوٹی بڑی تنظیمیں ریلیف کیمپ لگائے بیٹھی نظر آئیں جو اپنی بساط بھر کوششوں میں آج بھی مصروف کار نظر آتی ہیں۔ مگر تف ہے اس سیاست پر کہ طاہر القادری سیلاب سے برباد ہوتی اس دھرتی پر مجبور انسانوں کی بحالی کے بجائے مسلسل انقلاب کی ڈفلی بجائے جا رہے ہیں جن کے بیرونی امداد سے جمع ہونے والے فنڈز کو بس دھرنے کی رونق بڑھانے کے لئے ہی بروئے کار لایا جاتا ہے۔ پانی میں ڈوبے بے بس انسان کیسے زندہ درگور ہو رہے ہیں۔ انہیں اس کی ہرگز فکر نہیں۔ نہ ان کے موہوم انقلاب کا ایسے مجبور انسانوں سے کوئی تعلق واسطہ ہے۔ اور شوکت خانم ہسپتال کے لئے قربانی کی کھالوں سے لے کر چندے کی وصولی کا ہر حربہ استعمال کرنے والے عمران خاں کو اپنے مجوزہ نئے پاکستان میں سیلاب زدہ مجبور و مقہور انسانوں کے چہرے نظر ہی نہیں آتے۔ وہ شوکت خانم کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اپنی اور اپنے خاندان کے دوسرے ارکان کی ماہانہ دس دس لاکھ روپے کی اس فنڈ میں سے وصول کی جانے والی خطیر تنخواہوں میں سے شاید دکھی انسانوں کے لئے زکٰوۃ نکالنا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔ تو کیا قوم کی جانب سے خود غرضی کی ایسی سیاست کو دھتکارنا ضروری نہیں ہو گیا۔ مجھے تو عمران و قادری کی دھرنا سیاست پر فرخ فائونڈیشن کی کرتا دھرتا دو بہنوں غالیہ فرخ اور عماریہ قیصر کے دکھی انسانیت کی خدمت کے بے پایاں جذبے زیادہ کارآمد اور بھاری نظر آ رہے ہیں جو سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں آنے والے ضلع جھنگ اور فیصل آباد، چنیوٹ کے دیہات کے بے بس مکینوں کو سنبھالنے اور اس قدرتی آفت کے پیچھے لپک کر آنے والے وبائی امراض سے انہیں بچانے کے لئے ان متاثرہ علاقوں میں ہی ریلیف کیمپ اور فری میڈیکل کیمپ لگائے بیٹھی ہیں۔ عماریہ اور غالیہ نے گزشتہ روز مجھے فون پر اپنی امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات بتائیں اور پھر فرخ فائونڈیشن کے بروشر سمیت معذوروں کی بحالی کے لئے اس کی اب تک کی سرگرمیوں پر مبنی رپورٹ مجھے ای میل کی جس کے مطالعہ سے اور ان دونوں بہنوں کے نیک عزائم کو چشم تصور میں عملی قالب میں ڈھلتے دیکھ کر قوم سے بے اختیار یہ اپیل کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ وہ سیاسی چالبازوں کی فسوں کاریوں سے  اپنا دامن چھڑا کر فرخ فاؤنڈیشن اور اس جیسے دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار دوسرے اداروں کے ہاتھ مضبوط بنائیں۔ ان کی جتنی بھی ہو سکتی ہے دامے، درمے، سخنے معاونت کریں اور فیشنی سیاست کاروں کے چہروں سے نقاب اٹھاتے جائیں۔ فرخ فاؤنڈیشن کی صدر غالیہ فرخ کے لب و لہجے  سے بھی دکھی انسانیت کی خدمت کی تڑپ محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی بہن عماریہ اور فائونڈیشن کے دوسرے ارکان کے ساتھ ملکر چنیوٹ کے سیلاب زدہ علاقوں سے فری طبی کیمپ کا آغاز کیا ہے جس میں انہوں نے سیلاب کی زد میں آنے والے اس علاقے کے ہر مکین کیلئے ابتدائی طبی امداد کی ایک کٹ تیار کی ہے جس پر صرف پچاس روپے کی لاگت آتی ہے۔ ابتدائی طور پر انہیں کچھ  ادویہ ساز کمپنیوں کی معاونت حاصل ہوئی ہے مگر نیکی کا یہ کام اس امر کا متقاضی  ہے کہ معاشرے کا کوئی بھی فرد اس میں اپنا حصہ  ڈالنے میں   پیچھے نہ رہے جبکہ متمول حضرات خدمت کے اس جذبہ کو ملک گیر بنا سکتے ہیں۔ آپ جہاں بھی ہیں۔  متاثرین سیلاب کو وبائی  امراض سے بچانے کیلئے فرخ فاؤنڈیشن کے شروع کئے گئے کار خیر میں اپنا پچاس روپے کا حصہ ڈال  سکتے ہیں۔  آپ چاہیں تو دبئی اسلامک بینک میں فرخ فاؤنڈیشن کے بینک اکائونٹ  0186065001، برانچ کوڈ 089 میں اپنی استطاعت کے مطابق عطیہ جمع کرا دیں اور چاہیں تو فائونڈیشن کے پی ٹی سی ایل نمبر 0412417800 سے مزید تفصیلات حاصل کرکے اپنے  اطمینان کے مطابق دکھی انسانیت کی جو بھی خدمت کر سکتے ہیں، کر گزریں۔ خدا فرخ فائونڈیشن کی ان دو حوصلہ مند بہنوں کو تو اس کارخیر کا اجر دے گا ہی، آپ بھی اس کارخیر  کا گھر بیٹھے ثواب کما لیں گے۔ خداوند کریم دھرنا بازوں کو بھی ایسی عقل سلیم عطا کر دے تو کیا ہی بہتر ہو۔